جنگ کی باتیں اور ’خوارج‘ کا قضیہ

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملک بھر کی جامعات سے آئے ہوئے طالب علموں سے گفتگو کی ہے ۔ اور واضح  کیا ہے کہ جب تک قوم اور بالخصوص نوجوان ساتھ کھڑے ہیں، پاک فوج کبھی نہیں ہارے گی۔ اگرچہ فوج کے سربراہ نے واضح نہیں کیا کہ وہ کس جنگ میں جیت یا ہار کی بات کررہے ہیں کیوں کہ اس وقت ملک کسی جنگ میں مصروف نہیں ہے اور نہ ہی جنگ  کی باتیں ملکی مفاد میں بہتر  ہیں۔

یہ ملاقات اگرچہ چار روز پہلے ہوئی تھی لیکن آئی ایس پی آر نے اس موقع  پر جنرل عاصم منیر کی  بات چیت کا ایک کلپ اب جاری کیا ہے۔ اس کلپ کے مندرجات کو پاکستانی میڈیا میں نمایاں طور سے شائع کیا گیا ہے۔ حالانکہ تکنیکی لحاظ سے یہ ایک گزرا ہؤا واقعہ ہے  جس کی کوئی نیوز ویلیو نہیں تھی۔ البتہ اس کی وسیع پیمانے پر  میڈیا کوریج سے واضح ہوتا ہے  کہ جنرل عاصم منیر نے اس بات چیت میں جو پیغام دیا ہے،  فوج کا شعبہ تعلقات عامہ اسے  گھر گھر پہنچانا چاہتا ہے۔

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ  آئی ایس پی آر نے  جو کلپ جاری کیاہے وہ ایڈٹ کی ہوئی گفتگو ہے یا روانی میں کہی گئی باتیں سامنے لائی  گئی ہیں۔   البتہ  اس گفتگو میں دو بنیادی نکات پر بات کی گئی ہے۔ ایک تو نوجوانوں کے ساتھ فوج کے رشتہ و تعلق کی بات ہے کہ یہ ایک اٹوٹ رشتہ ہے جس میں کوئی دراڑ نہیں ڈالی جاسکتی ہے۔  جامعات کے طالب علموں کو آرمی چیف نے یہ بھی بتایا کہ وہ ہمیشہ نوجوانوں سے مل کر خوش ہوتے ہیں۔  نوجوانوں کے ساتھ تعلق  و  اعتماد کا پیغام دے کر درحقیقت پاک فوج کے سربراہ نے حال ہی میں عمران خان کے خطوط اور تحریک انصاف کے لیڈروں کی طرف سے دیے گئے ان بیانات کا براہ راست جواب دیا ہے کہ قوم اور فوج کا رشتہ  کمزور ہورہا ہے ۔ عمران خان نے ایک خط میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم اور ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے با نی لیڈر کے طور پر انہیں اس پر گہری  تشویش ہے ۔ اسی لیے انہوں نے براہ راست آرمی چیف کو مخاطب کیا ار بالواسطہ طور سے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

جنرل عاصم منیر نے  اس ’دست تعاون‘ کو تو یہ کہہ  کر  جھٹک دیا کہ انہیں تو کوئی خط نہیں ملا۔ دوسرے اگر انہیں ایسا کوئی خط ملتا ہے تو وہ اسے وزیر اعظم کو بھیج دیں گے۔  اس پیغام  کا بھی یہی مطلب تھا کہ فوج کے نزدیک ایسے خطوط کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ ان خطوط  کے میڈیا میں رپورٹ ہونے والے مندرجات کو درخور اعتنا بھی نہیں سمجھتی اور  ان پر کوئی تبصرہ بھی  ضرور نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ یہ  خطوط وزیر اعظم کو بھجوانے کاپیغام دے کر انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کوئی بھی سیاسی لیڈر معاملات طے کرنے کے لیے سیاسی حکومت سے بات کرے ، فوج اس میں ملوث نہیں ہوگی۔  تحریک انصاف کی طرف سے فوج کو سیاسی معاملات میں ساتھ ملانے اور فوج کی طرف سے اس کوشش کو مسترد کرنے کی یہ پہلی مثال نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی تحریک انصاف کی طرف سے ایسی خواہش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ حتی  کہ سکیورٹی کے معاملہ پر پشاور میں ہونے والی ایک ملاقات کو بیرسٹر گوہر علی نے  ایسے پیش کیا تھا جیسے ان کی آرمی چیف سے بات چیت شروع ہوگئی ہے اور یہ سلسلہ اب دراز ہوگا۔ البتہ یہ  پیغام تصویر کی بگاڑی ہوئی شکل ثابت ہؤا۔ اس  دوران جب قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی کوششوں سے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بات چیت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ اس میں اسٹبلشمنٹ کا نمائیندہ بھی شامل ہو کیوں کہ اصل فیصلے فوج ہی نے کرنے ہوتے ہیں۔ البتہ اس خواہش کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔ شاید فوج کی سرد مہری سے مایوس ہوکر ہی بات چیت کا  دروازہ بند کرکے عمران خان نے خط لکھنے کا طریقہ آزمانے کا فیصلہ کیا تھا۔

خطوں کے معاملہ میں بھی فوج نے واضح کردیا ہے کہ وہ ایسے خطوط پر غور کرنے میں  دلچسپی نہیں رکھتی۔ البتہ  ایک طرف تحریک انصاف یہ دعوے کررہی ہے کہ آرمی چیف کو خط لکھے جارہے ہیں جبکہ  فوج بلکہ آرمی چیف نے براہ راست یہ کہا کہ انہیں تو کوئی خط نہیں ملا۔ تحریک انصاف نے اس کے بعد یہ وضاحت نہیں دی کہ اگر عمران خان نے واقعی جنرل عاصم منیر کو خط لکھے ہیں تو میڈیا میں تشہیر ہونے کے باوجود وہ  جی ایچ کیو پہنچنے میں کیوں ناکام رہے۔ ترکی کے صدر اردوان کے اعزاز میں ظہرانہ کے موقع پر اس  حوالے سے صحافیوں کے سوالوں کا جوب دیتے ہوئے آرمی چیف نے کہا یہ خط مجھے نہیں بلکہ میڈیا ہی کو لکھے  گئے ہیں۔  اس کا واضح  مقصد یہی ہے جس کا متعدد تبصروں میں ذکر بھی کیا جاچکا ہے کہ تحریک انصاف یا عمران خان درحقیقت  رائے عامہ ہموار کرنے اور پارٹی پروپیگنڈا کو زندہ رکھنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اختیار کررہے ہیں۔ پی ٹی کی قیادت کو اس معاملہ پر وضاحت کرنے کی ضرورت  تھی۔ یا بیرسٹر  گوہر علی یہ یقینی بناتے کہ بعد از وقت ہی سہی ان کا کوئی ’ہرکارہ‘ خود جاکر  عمران خان کے خطوط جنرل عاصم منیر کے دفتر پہنچا کر رسید لے آئے  تاکہ یہ الزام  تو عائد نہ ہوکہ خط بھیجے بغیر انہیں بھیجنے کا شور مچایا جارہا ہے۔

طالب علموں سے بات چیت میں جنرل عاصم منیر نے البتہ  قوم اور فوج کے درمیان عدم رابطہ یا اعتماد کی کمی کے دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ شاید اس ملاقات کا اہتمام بھی  اس تعلق کو مستحکم کرنے اور اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے کیا گیا تھا کہ عوام اب اپنی ہی فوج پر اعتماد نہیں کرتے۔ شاید اسی لیے جنرل عاصم منیر تواتر سے ہمہ وقت جنگ کے لیے تیار رہنے کی بات کی ہے حالانکہ اس کی کوئی ضرورت  موجود نہیں ہے۔ طالب علموں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ’ جب تک قوم اور بالخصوص نوجوان ساتھ کھڑے ہیں اور جب تک ہم میں قربانی کا جذبہ موجود ہے، پاک فوج کبھی نہیں ہارے گی۔ہم کامریڈز کی طرح لڑتے ہیں۔ فوج کا یہی تو مزہ ہے کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کون سندھی، کون پنجابی، کون بلوچ اور کون پٹھان ہے۔ ہم بس ساتھیوں کی طرح لڑتے ہیں۔ ہمارے لیے صرف پاکستانیت ہی اہم ہے اور ہمیں اس سے محبت ہے‘۔ عمران خان کی طرف سے فوج اور عوام میں فاصلہ  کو رد کرتے ہوئے آرمی چیف جنگ کی بات شاید اسی حوالے سے کررہے ہوں کہ وہ ایسی فورس کے سربراہ ہیں جو ملکی دفاع اور خود مختاری کی حفاظت کے لیے بے حد اہم ہے۔  لہذا اسے کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ اس حد تک اس پیغام کو سمجھنے کے بعد البتہ یہ  پریشان کن تاثر ضرور پیدا ہوتا ہے کہ امن کے زمانے میں فوج کا سربراہ بار بار جنگ کی باتیں کررہا ہے۔ اسی قسم کی گفتگو انہوں نے ترک صدر کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے بھی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ وہ عسکری فورس کے سربراہ ہیں۔ ہم ہر وقت جنگ کے لیے تیار ہیں‘۔

آرمی چیف کے اس عزم کا خواہ کوئی مقصد ہو لیکن اس  انداز میں جنگ کی باتیں کرنے سے  یہ تاثر قوی ہوتا ہے  کہ جنگ جوئی کی باتیں کرکے فوج ملک کے سیاسی نظام میں اصلاح کے معاملات کو غیر اہم قرار دینے کی باالواسطہ کوشش کررہی ہے۔  یقین کرنا چاہئے کہ جنرل عاصم منیر کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن یہ واضح کرنا  بھی ضروری ہے کہ پاکستانی عوام کو اس وقت امن و خوشحالی کے پیغام کی ضرورت ہے۔ انہیں جنگ کی باتیں ہراساں و پریشان کرتی ہیں۔ عام شہریوں کے پاس تمام معلومات نہیں ہوتیں ۔ اس لیے آرمی چیف کی طرف بار بار جنگ کی بات کرنے سے  یہ  قیاس قوی ہوسکتا ہے کہ خدا نخواستہ پاکستان کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق  ہے۔  فوج کے سربراہ کو اس بارے میں اپنا انداز گفتگو مثبت اور خوشگوار  بنانے کی ضرورت ہے۔

نوجوانوں سے بات چیت میں جس دوسرے پہلو پر آرمی چیف نے زور دیا ہے وہ  تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی ہے۔ فوج اب انہیں خوارج کہنے پر اصرار کرتی ہے اور جنرل عاصم منیر نے بھی  نوجوانوں سے باتیں کرتے ہوئے  اسی پہلو پر زور دیا اور ٹی ٹی پی کو گمراہ اور دین سے باہر نکل جانے والے لوگ قرار دیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ ’ہم آج کل فتنۃ الخوارج کے فسادیوں سے لڑ رہےہیں۔ آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ جہاد کررہے ہیں مگر یہ خارجی اور دین سے نکلے ہوئے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اسلام کی خودساختہ تشریح کر رکھی ہے جس کی اسلام میں اجازت نہیں ہے‘۔ تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی یقیناً قابل مذمت ہے اور پاک فوج  اس شدت پسند فورس کا مقابلہ کرتے ہوئے بے شمار قربانیاں دے رہی ہے۔ تاہم فوج کے سربراہ کو سیاسی مقاصد  کے لیے گمراہ ہوجانے والے لوگوں یا گروہوں کے بارے میں ’فتویٰ‘ جاری کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ تحریک  طالبان پاکستان کی تاریخ پیچیدہ اور پاک فوج کے ساتھ اس کا تعلق و رشتہ مشکل  رہا ہے۔ اس وقت یہ عناصر افغانستان کے حکمران ٹولے کے سیاسی مقاصد کے لیے مصروف عمل  ہیں۔ اگرچہ یہ تحریک ملک میں شریعت کے نفاذ کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس پہلو کو سیاسی  بیان سمجھ کر نظر انداز کرنا چاہئے اور فتوؤں کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

پاکستان کو اس وقت صرف ٹی ٹی پی کی دہشت گردی ہی کا سامنا نہیں ہے۔ بلوچستان میں قوم پرست عناصر  بھی اسی قسم کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ان گروہوں کو بہت کچھ کہا جاسکتاہے لیکن انہیں مذہبی دہشت گرد قرار نہیں دیاجاسکتا۔ فوج کی طرف سے ایک فتنہ پر قابو پانے کے لیے دین کا سہارا لینے سے اس کا مقدمہ کمزور ہوگا۔ بعض عناصر اس پر دلیل دینے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان شرعی طور سے گمراہ نہیں ہے۔ یوں ملک میں ایک اور ناگوار مباحثہ کا آغاز ہوسکتا ہے۔  ملکی امن و امان کو چیلنج کرنا ایک   ناقابل قبول فعل ہے۔ یہ خواہ  دین کے نام پر کیا جائے یا اس کے لیے قوم پرستی کا نعرہ بلند کیا جائے، اسے مسترد کرنا ضروری ہے۔ فوج کے لیے اتنا ہی کافی ہونا چاہئے کہ وہ ریاست کے باغیوں سے نمٹ کر پاکستانی قوم  کو محفوظ بنانے کا فرض ادا کررہی ہے۔

فوج کے عسکری کردار اور ارض پاک سے لازوال وفاداری و محبت ہی  کی وجہ سے یہ عاجزانہ درخواست بھی کی جاتی ہے کہ فوج آئین کی پابند رہے اور خود کو سیاسی معاملات سے دور رکھے۔ امید ہے جنرل  عاصم منیر  فوج کو قومی ادارہ کے طور پر مستحکم کرنے اور سیاست میں اس کے کردار کو ختم کرنے کے مقصد سے بھی ضرور کام کریں گے۔ تاکہ فوج کو سیاسی طور سے مطعون کرنے کی  بد روایت کا خاتمہ  ہوسکے۔