پاکستانی سیاسی پارٹیوں میں آمرانہ نظام

پاکستان کے 3 وزرائے اعظم کو پاکستان کی عدالت نے مجرم قرار دیا۔ بقول ریاست پاکستان اور استغاثہ کے تینوں کو دوران اقتدار کیے گئے غیر قانونی عمل کی سزا ملی۔

استغاثہ کے مطابق تینوں ملزمان عدالت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو غلط ثابت نہ کر سکے جبکہ استغاثہ نے عدالت میں مکمل ثبوت اور گواہ پیش کیے۔ ایک پر اپنے دور اقتدار میں حریف سیاست دان کے خاندان کے فرد کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ دوسرے نے اپنے دور اقتدار میں وزیراعظم کے منصب پر رہنے کے ساتھ بیرون ملک ملازمت اختیار کی ہوئی تھی۔

تیسرے پر اپنے دور اقتدار میں وزیراعظم کے منصب پر رہتے ہوئے اپنا پرایئوٹ چیرٹی ٹرسٹ بنانے، چیرٹی ٹرسٹ کے نام پر سرکاری وسائل کے خرد برد اور کئی سو کنال زمین اپنے ذاتی نام پر منتقل کرنے کا الزام ہے۔ عدالت اور ریاست نے قانون کے مطابق یا جو اسٹیک ہولڈرز اس وقت اقتدار میں تھے ان کے مطابق سزا مقرر کی۔

لیکن سوال بنتا ہے کہ ان وزرائے اعظم کے ان فیصلوں کے وقت یعنی حریف سیاست دان کو زیر کرنا ، دوران اقتدار رہتے ہوئے بیرون ملک ملازمت کرنا اور اپنا پرایئوٹ چیرٹی ٹرسٹ تشکیل دینا ۔۔۔ کے وقت ان وزرائے اعظم کی سیاسی پارٹیوں کے ممبران، اسمبلی ممبران نے ان کو کیوں روکا نہیں یا کیوں سوال نہیں اٹھایا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ان سیاسی پارٹیوں کے ممبران کی سوال نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہی ہے کہ پارٹی ممبران، اسمبلی ممبران کو پارٹی عہدے، اسمبلی امیدوار کو ٹکٹ پارٹی لیڈر دیتا ہے۔ یعنی سیاسی پارٹیوں میں آمرانہ نظام قائم ہے،  جمہوریت بالکل نہیں۔

جب پارٹیوں میں جمہوریت نہیں ہوگی ، مشاورتی عمل نہیں ہو گا، عوام کی رائے نہیں ہوگی ، پھر اقتدار میں بیٹھا ہوا شخص اپنی ذاتی خواہشات، ذاتی اقتدار کی خاطر فیصلے کرے گا۔ یہ فیصلے زمینی سیاسی حقائق، میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر نہیں ہوں گے۔ جس سے چند ایک فیصلے شاید اچھے ہو جائیں، مگر زیادہ تر فیصلوں میں غلطیاں نکلیں گی۔

اس طرح نہ صرف ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا بلکہ سیاسی پارٹیوں کے لیڈر ریاستی قانون کی دانستہ یا نادانستہ خلاف ورزی کرنے کے مرتکب ہوں گے۔ جس سے پھر ریاست اور ریاستی قانون حرکت میں آتا ہے اور پاپولر لیڈر پھانسی کے پھندے پر یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آتے ہیں۔