چیئرمین نادرا کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم
لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین نادرا کو عہدے سے ہٹانے کا سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت عالیہ نے وفاقی حکومت کی اپیل کو منظور کرلیا۔
جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اپیل پر فیصلہ سنایا۔ وفاقی حکومت نے سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سنگل بنچ نے چیئرمین نادرا کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر فیصلہ سنایا۔ سنگل بینچ نے چیئرمین نادرا کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے چیئرمین نادرا منیر افسر کو عہدے سے ہٹانے کے سنگل بینچ کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی۔
2 رکنی نے سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کرکے چیئرمین نادرا کو عہدے پر بحال کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد سنگل بینچ کا فیصلہ کلعدم قرار دےکر منیر افسر کی تعیناتی درست قرار دے دی۔
اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے 30 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ چیئرمین نادرا کی تعیناتی کالعدم قرار دی جاتی ہے، فیصلے کی نقل وفاقی کابینہ اور وزارت داخلہ کو بھیجی جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ چیئرمین نادرا کی تعیناتی قانونی جواز کے بغیر ہے۔ مجاز اتھارٹی نے چیئرمین نادرا کی تعیناتی سے متعلق وہ اختیار استعمال کیے جو قانون نے انہیں تقویض ہی نہیں کیے۔
یاد رہے کہ نگران وفاقی حکومت نے 02 اکتوبر 2023 کو اس وقت جنرل ہیڈکوارٹز میں تعینات آئی جی کمیونیکیشن اینڈ آئی ٹی لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا تاحکم ثانی چیئرمین مقرر کیا تھا۔