ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار یوکرین کو قرار دیا

  • بدھ 19 / فروری / 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین بہت پہلے جنگ ختم کرسکتا تھا ۔ اس طرح غیر ضروری ہلاکتوں سے بچا جاسکتا تھا۔

فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران اس حیرت انگیز بیان میں انہوں نے یہ تاثر دیا گویا یوکرین نے جنگ شروع کی تھی حالاکہ جنگ کا آغا فروری 2022 میں روسی حملے کی وجہ سے ہؤا تھا۔ ٹرمپ نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہارکیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی روس کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات سے خوش نہیں اور یوکرین کو ان مذاکرات میں شامل نہ کرنے پر حیران ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین بہت پہلے ہی اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ’ڈیل‘ کر سکتا تھا۔ امریکی صدر کی جانب سے یہ بات روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ان کا کہنا تھا روس کسی بھی امن معاہدے کے تحت یوکرین میں نیٹو ممالک کی امن فوج کی تعیناتی قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے یہ بیان سعودی عرب میں امریکی وزیرِ خارجہ مارک روبیو سے ملاقات کے بعد دیا تھا۔

ریاض میں ہونے والے مذاکرات میں روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکراتی ٹیمیں تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ ان کا یوکرین کے لیے کیا پیغام ہے جنہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ انہیں پتا چلا ہے کہ یوکرین مذاکرات میں شامل نہ کیے جانے پر ناراض ہے۔

یوکرین کے پاس تین سال بلکہ اس سے پہلے بھی وقت تھا اور اس معاملے کو باآسانی حل کیا جا سکتا تھا۔ ’آپ کو شروع ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ باآسانی ڈیل کر سکتے تھے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ریاض میں امریکی اور روسی حکام کے درمیان ملاقات کے بعد وہ کافی پر امید ہیں۔ ’روس کچھ کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس بربریت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔‘

اس دوران یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے منگل کے روز اپنے ترکیہ کے دورے میں کہا کہ انہوں نے بدھ کے لیے طے شدہ سعودی عرب کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے بارے میں بات چیت یوکرین کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ منگل کو سعودی عرب میں امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یوکرین شامل نہیں تھا۔

زیلنسکی نے کہا کہ کیف کو اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، وہ بدھ کو سعودی عرب کا سفر کرنے والے تھے۔ زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے اپنا ریاض کا دورہ 10 مارچ تک ملتوی کر دیا ہے۔ اس سے قبل رائٹرز نے اطلاع دی تھی کہ معاملے سے واقف دو ذرائع نے اسے بتایاہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ریاض میں امریکی اور روسی حکام کے درمیان ملاقات کو باضابطہ قرار نہ دینے کے لیے اپنا سعودی عرب کادورہ ملتوی کر دیاہے۔

زیلینسکی کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے کہا کہ انقرہ کی نظر میں یوکرین کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری ناقابل تردید ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے، جن میں روس شامل ہوگا، ترکیہ ایک مناسب مقام ہو گا ۔

اس سے پہلے فرانس نے یورپی رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس پیر کو پیرس میں طلب کیا تھا۔ اجلاس میں شریک یورپی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یوکرین معاملے پر ہونے والے مذاکرات میں ان کی رائے بھی شامل کی جائے۔