پاکستان قبضہ گروپس کے نرغے میں
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 19 / فروری / 2025
دنیا کے تمام ممالک کا نظام کسی آئین اور قانون پر ہی قائم ہوتا اور چلتا ہے۔ ہر ملک کا اپنے حالات کے مطابق اپنا اپنا آئین ہے اور اپنے قوانین ہیں۔ لیکن ان میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے کہ سب کو برابر حصہ داری کا حق حاصل ہو۔
براعظم افریقہ میں کچھ ممالک ایسے بھی ہیں کہ جہاں یا تو ریاستی قانون بہت کمزور ہوتا ہے یا پھر مختلف علاقوں میں قبائلی رسم و رواج کے مطابق کام چلایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں بد امنی رہتی ہے تاہم اب زیادہ تر افریقی ممالک نے بھی اپنے حالات بدلنے کا تہیہ کر کے امن قائم کرنا شروع کر دیا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ہی قانون و انصاف کے نام پر رکھی گئی تھی۔ قائد اعظم چونکہ خود ایک بین الاقوامی قانون دان تھے اور وہ جانتے تھے کہ برصغیر سے انگریزوں کے چلے جانے کے بعد اس خطے پر اکثریت کی بنیاد پر ہندووں غالب آ جائیں گے۔ اور ہندوؤں مذہبی حوالے سے اس قدر تنگ نظر ہیں کہ وہ غریب اور کمزور ہندوؤں کے ساتھ بھی تعصب برتتے ہیں۔ چہ جائیکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کریں۔ ہندوؤں میں مرتبے کی بنیاد پر ذاتیں اور اونچ نیچ کے قوانین ہیں قائد اعظم نے پاکستان کا مطالبہ اس لیے کیا تھا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی الگ ریاست کی ضرورت ہے جس میں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب، رنگ و نسل کے لوگوں کے لیے ایسے قوانین ہوں گے جن میں سب کو اپنے عقیدے پر رہتے ہوئے مذہبی، سماجی اور سیاسی تحفظ حاصل ہوگا۔
یہ الگ بات کہ جن بڑے مذہبی راہنماؤں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی، انہوں نے پاکستان کی تحریک کو کامیاب ہوتے دیکھتے ہی "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" کا نعرہ لگا کر پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک مذہبی ریاست ہونے کا تاثر دیا۔ لیکن قائد اعظم کی سوچ ایک ایسی ریاست کی تھی جہاں سب کو انصاف ملے۔ ویسے بھی لاالہ الا اللہ کے لیے تو پوری کائنات بنی ہے۔ کوئی ایک مخصوص خطہ تو نہیں، کیونکہ اس کائنات کا مالک اللہ ہے تو پھر اس ساری کائنات میں اسی کا نام اور کا قانون چلنا چاہیے۔
بہرحال ہم اس بحث میں پڑے بغیر کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اس کے آئین اور قانون کا کیا ہوا؟
پاکستان بن کر پاکستان ٹوٹنے تک اس ملک میں ایک متفقہ آئین بن سکا نہ کوئی ایک نظام حکومت قائم کیا گیا، 1958 یا 1962 کا آئین ہو یا 1861 کے مجریہ قوانین ہوں، یہ سب پاکستان میں رہنے والے باشندوں کی مرضی کے تھے۔ نہ ان کی رائے ان میں شامل تھی۔ پاکستان کا پہلا متفقہ آئین پاکستان کے دو لخت ہو جانے کے بعد 1973 میں بنا جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔ اور اس میں بھی آمرانہ سوچ کے مطابق ترامیم ہوتی رہتی ہیں۔
پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اندر زمینوں کے حوالے سے ایک ایسا قانون انگریز اور ڈوگرہ راج کے زمانے کا چل رہا ہے جس میں زمین کو مختلف حیثیت میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یعنی کوئی زمین کا خطہ ملکیت کہلاتا ہے تو کوئی شاملات ہے۔ شاملات کی بھی مختلف قسمیں ہیں۔ ایک شاملات دیہہ مقبوضہ مالکان کہلاتی ہے تو کہیں یہ خالصہ سرکار یا بیت المال کے نام پر بولتی ہے۔ اور ان شاملات زمینوں کا قانون یہ ہے کہ اس پر جس کا قبضہ ہوتا ہے، وہی اس کا مالک یا حقدار ہے۔ اور جو ملکیتی زمین ہوتی ہے اگر اس پر بھی کوئی دوسرا قابض ہو جائے تو وہ بھی آسانی سے واگزار نہیں ہو سکتی۔ اس زمین کو کاغذات کے ساتھ فروخت کر کے منتقل وہی کروا سکتا ہے جس کے وہ نام ہوتی ہے۔ مگر قبضہ اس سے لینا پڑتا ہے جس کے وہ قبضے میں ہوتی ہے۔
اسی طرح کئی شہروں اور دیہات کی جو پرانی آبادیاں ہیں، ان کو آبادی دیہہ کہا جاتا ہے اور اس میں جن لوگوں کے پرانے زمانے سے گھر ہیں، وہ بھی ان کے نام نہیں ہوتے۔ اور اگر کوئی دوسرا اس گھر پر قبضہ کر لے تو آپ یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ یہ گھر تو ہمارا ہے۔ چاہے آپ اس میں صدیوں سے رہتے آ رہے ہوں۔ کیونکہ قانون کے مطابق آپ اس آبادی میں حصہ دار یا شراکت دار تو ہیں مگر کوئی مخصوص گھر یا زمین کے ٹکڑے کے مالک نہیں ہوتے ہیں۔ اس طرح اگر آپ گھر سے باہر ہیں اور کوئی دوسرا آپ کی غیر موجودگی میں گھر پر قابض ہو جاتا ہے تو آپ قانونی طور پر اس کو نکال نہیں سکتے البتہ اپنی طاقت پر قبضہ لے سکتے ہیں۔ وہ بھی اگر عدالتی اسٹے نہ ہو تو۔
دراصل پاکستان بننے کے فوری بعد ہمیں زرعی اصلاحات کی ضرورت تھی کیونکہ اس سے قبل تو اس خطے پر تمام قوانین قابض فاتحین کے بنائے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے زیادہ تر رقبہ جات ان لوگوں کو دے رکھے تھے جو ان کے وفادار تھے۔ پھر تقسیم کے وقت بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی۔ ہندو اور سکھ اپنی جائیدادیں چھوڑ کر ہجرت کر گئے تو ان کی جائیدادوں پر بھی ناجائز قبضے ہو گئ۔ے جو ابھی تک جاری ہے۔ لیکن پاکستان بن جانے کے بعد بھی کسی حکومت نے حقیقی زرعی اصلاحات نہیں کی ہیں۔ نعرے تو لگائے جاتے رہے 1960 اور پھر بھٹو دور میں کچھ اصلاحات ہوئیں بھی مگر ان پر بھی پوری طرح عملدرآمد نہ ہو سکا۔ اور کچھ معاملات ہمارے عدالتی نظام کی بھینٹ چڑھ گئے اور اس وقت تک زیادہ تر علاقوں میں وہی قوانین جاری ہیں۔ اور جس کے پاس جتنی طاقت ہوتی ہے، وہ اتنا ہی قابض ہو جاتا ہے۔
اب تو ہمیں یہ بھی سمجھ آ گئی ہے کہ دراصل یہ پورا ملک اسی قانون کے تحت ہی چلایا جا رہا ہے کہ اس ملک پر بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق جس کا قبضہ اسی کی حکومت ہوتی ہے۔ کہنے کو پاکستان جمہوریت کے نام پر بنا تھا اور ایک جمہوری ملک ہے مگر عملی طور پر پاکستان بھی شاملات دیہہ ہے جس پر جو قابض ہوتا ہے وہی مالک ہوتا ہے۔ آج تک کوئی بھی حکومت جمہور کی مرضی سے بنی ہے، نہ جمہوریت کے مطابق ملک کا نظام بن سکا ہے۔ ہماری انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ بھی انہی کے طابع کام کرتی ہیں جو ملک پر قابض ہوتا ہے۔ اور یہ قبضہ طاقت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ قبضہ لینے کے لیے طاقت اور ہتھیاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمزور اور نہتے عوام اس ملک پر قبضہ کر سکتے ہیں نہ مالک بن سکتے ہیں تو پھر یہ ملک ایک شاملات ہی تو ہوا۔