ٹرمپ کی یک طرفہ سفارت کاری سے یورپ تنہا رہ جائے گا!
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 19 / فروری / 2025
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے یوکرین پر جنگ شروع کرنے کا الزام سامنے آنے کے بعد یورپی ممالک میں ایک نئی بے چینی محسوس کی جارہی ہے ۔ البتہ سوموار کو پیرس میں ہونے والے یورپی لیڈروں کی ملاقات میں کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آسکی تھی۔ اب بدھ کو یہ لیڈر ایک بار پھر یوکرین جنگ کے بارے میں امریکی پالیسی پر غور کریں گے۔
یوکرین کے علاوہ ڈنمارک اور پولینڈ جیسے ممالک یورپ کا دفاع مضبوط کرنے کے کسی منصوبے پر زور دے رہے ہیں لیکن جرمنی ، فرانس اور برطانیہ ابھی تک امریکہ کے سحر میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے امریکہ کی نئی حکومت کے ساتھ معاملات طے کیے جاسکتے ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ روز سعودی دارالحکومت ریاض میں روسی وزیر خارجہ کی سربراہی میں روسی وفد سے چار گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد روس کے ساتھ یوکرین میں جنگ کے خاتمے اور دو طرفہ تعلقات کے بارے میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان مذاکرات کے بعد انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے کسی مرحلے پر یورپی ملکوں کو بھی ان میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بیان میونخ کی سکیورٹی کانفرنس میں ٹرمپ کے نمائیندہ خصوصی کیتھ کیلوگ کے اس انتباہ سے مختلف ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمہ کے لیے روس کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں یورپ کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
واشنگٹن سے مسلسل ملے جلے اشارے سامنے آرہے ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے معاونین کے بیانات سے یہی واضح ہورہا ہے کہ امریکی حکومت روسی شرائط پر یوکرین جنگ ختم کرانے پر اصرار کررہی ہے۔ ایک طرف یہ واضح کیا گیا ہے کہ یوکرین کو نیٹو کا رکن نہیں بنایا جاسکتا اور دوسری طرف یوکرین کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اسے 2014 کی سرحدوں کی واپسی کا خواب دیکھنا ترک کردینا چاہئے۔ اسی کے ساتھ نہ صرف یورپ کو امن مذاکرات میں نظر انداز کیا گیا ہے بلکہ یوکرین کی رائے لینے اور اسے مذاکرات میں شا مل کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ اسی طرز عمل پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حیرت کا اظہار کیا کہ جنگ میں شامل دوسرے فریق کی مرضی کے بغیر کسی جنگ کے خاتمے کی شرائط کیسے طے ہوسکتی ہیں۔ گزشتہ چند روز میں انہوں نے اس حوالے سے شدید بے چینی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ یوکرین کسی ایسے امن معاہدے کو نہیں مانے گا جس میں اس کی مرضی شامل نہ ہو۔ تاہم اگر یورپی ممالک فوری طور سے ٹرمپ کے ارادوں کو ناکام بنانے اور جنگ جاری رکھنے کے لیے یوکرین کی عسکری و مالی امداد کا کوئی منصوبہ سامنے لانے میں ناکام رہتے ہیں تو یوکرین کے لیے جنگ جاری رکھنے کا مقصد یہی ہوگا کہ وہ روسی افواج کو پورے ملک پر قبضہ کرنے کی دعوت دے۔ اس صورت میں یوکرینی حکومت کے لیے صدر ٹرمپ کا مطالبہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
فلوریڈا میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر شدید ناراض دکھائی دیے کہ یوکرین کے صدر مذاکرات میں شامل نہ ہونے پر پریشان و ناراض ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے یوکرینی صدر پر شدید حملے کیے اور کہا کہ آپ کے پاس تین سال کا وقت تھا۔ یہ جنگ کسی ’ڈیل‘ کے ذریعے بہت پہلے ختم ہوسکتی تھی۔ یوکرینی صدر اس میں بری طرح ناکام رہے۔ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ بعد میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو آمر قرار دیا اور کہا کہ انہیں امن معاہدے سے پہلے ملک میں انتخاب کرانا چاہیے۔ واضح رہے زیلنسلکی 2019 میں پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے تاہم جنگ کی وجہ اسے اس وقت ملک میں مارشل لا نافذ ہے اور انتخابات نہیں کرائے جاسکتے۔ لیکن ٹرمپ اس صورت حال کو اب موجودہ حکومت کو غیر جمہوری قرار دینے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کو دیے جانے والے امریکی وسائل کا حوالہ بھی دیا اور یورپ کے مقابلے میں زیادہ مصارف برداشت کرنے اور ان وسائل کو ناروا طریقے سے استعمال کرنے کے دعوے کیے۔
حسب معمول ٹرمپ کی بیشتر باتیں خلاف واقعہ اور غلط ہیں۔ یوکرین پر روس نے حملہ کرکے جنگ شروع کی تھی، یہ جنگ یوکرین نے شروع نہیں کی تھی۔ یوکرین اور یورپی لیڈروں کا ہمیشہ مؤقف رہا ہے کہ روس، یوکرین سے فوجیں واپس بلا کر یہ جنگ کسی وقت بند کرسکتا ہے لیکن روس نے یوکرین کے بیس فیصد رقبے پر قبضہ کیا ہؤا ہے اور وہ اسے کسی طور بھی چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کی بجائے اب وہ یہ مطالبہ کررہا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو کا رکن نہ بنایا جائے اور کسی امن معاہدے کے لیے نیٹو 2008 کے اس اعلان کو بھی واپس لے کہ یوکرین کو مستقبل میں کسی وقت نیٹو کا رکن بنایا جاسکتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگی لاروف نے گزشتہ روز ریاض میں امریکی وفد کے ساتھ بات چیت کے بعد واضح کیا کہ جنگ بندی کے بعد یوکرین میں نیٹو کی امن فوج قابل قبول نہیں ہوگی۔ ان کی یہ گفتگو برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹامر کے اس بیان کے تناظر میں سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ برطانیہ امن فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ یورپی مبصرین کی پریشانی یہ ہے کہ ٹرمپ یوکرین میں یک طرفہ طور سے جنگ بندی کا ایسا معاہدہ ’مسلط‘ کرنا چاہتے ہیں جو وہ روسی لیڈر کی شرائط پر طے کرنے والے ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے آپشن واضح کردیے ہیں لیکن یورپ ابھی تک اس کا جواب دینے میں کامیاب نہیں ہؤا۔
ٹرمپ اگلے ہفتے کے دوران سعودی عرب میں روسی ہم منصب پوتن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس ملاقات کے دوران یوکرین میں جنگ بند کرنے کے حوالےسے کوئی اہم پیش رفت بھی ممکن ہے۔ امریکہ، یوکرین جنگ بند کراکے درحقیقت روس کے ساتھ تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی لانے کا خواہش مند ہے۔ اس پالیسی کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں یورپ میں لڑی جانے والی اس جنگ میں امریکہ کا کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ منتخب ہونے سے پہلے ہی وہ اس جنگ کے خلاف باتیں کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ درحقیقت چین کو اپنا اصل مدمقابل سمجھتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ یہ جنگ بند کراکے اور روس کی سفارتی تنہائی ختم کرکے صدر پوتن کے ساتھ تعلقات بحال کیے جائیں تاکہ چین کی طرف اس کا جھکاؤ کم ہوسکے۔ امریکہ اگر روس کو چین کے خلاف براہ راست حلیف بنانے میں کامیاب نہ بھی ہو لیکن چین کی بجائے امریکی دوستی کا لالچ دے اسے کم از کم چین سے دور کرنے کا اہتمام ضرور کیا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ اسی حکمت عملی پر اپنے یورپی حلیفوں سے تنازعہ مول لے رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرین حکمت عملی میں روس کے لب و لہجے میں بات کرنے سے یورپ کے متعدد ارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔ یورپ خاص طور سے یوکرین جنگ کی وجہ سے اور اس سے پہلے نظریاتی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے روس کو ہمیشہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ محسوس کرتا رہا ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اس یورپی مؤقف میں اس کا ساتھ دیا ہے۔ البتہ ٹرمپ اب اس پالیسی کو تبدیل کررہے ہیں جو یورپی لیڈروں کے لیے ایک نئی اور غیر متوقع صورت حال ہے۔ اس موقع پر اگر یورپ کے لیڈر اپنا دفاع خود کرنے اور امریکہ پر ہمہ قسم عسکری انحصار ختم کرنے کا واضح اعلان کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں مستقبل قریب میں مسلسل امریکہ کے ’احکامات‘ کا تابع رہنا پڑے گا اور مستقبل میں آنے والی کسی بھی امریکی حکومت کی مرضی کے مطابق چلنا ہوگا۔ دوسری طرف روسی جارحیت کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔ امریکہ کی شہ پاکر روس کسی نہ کسی عذر پر کسی دوسرے یورپی ملک کا علاقہ ہڑپ کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ کم از کم یورپ میں یہ خوف گہرا اور حقیقی ہے لیکن مختلف ملکوں کے لیڈر اس خوف کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بنانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے فوجی اتحاد نیٹو کو درحقیقت یورپ کی حفاظت کے نقطہ نظر سے قائم کیا گیا تھا۔ یہ اتحاد اس وقت تک تو کسی پریشانی کے بغیر مضبوط و توانا رہا جب تک امریکہ یورپ کی حفاظت کے اصول کو مانتا رہا اور اس کے لیڈر یورپی اقدار کے ساتھ ہم آہنگی بھی محسوس کرتے رہے۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ یورپ کی بیشتر حکومتوں سے خوش نہیں ہے ۔ وہ یورپ میں دائیں بازو کی انتہاپسند تحریکوں اور گروہوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ یورپ پہلے ہی سیاسی طور سے ان انتہاپسند نعروں کا مقابلہ کرنے میں مشکل محسوس کررہا تھا لیکن ٹرمپ کی قیادت میں امریکی حکومت کے معاندانہ و جارحانہ طرز عمل کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ یورپ میں بھی لبرل روایات اور جمہوریت کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو امریکہ میں ٹرمپ کی کامیابی کی صورت میں دیکھنے میں آیا ہے۔
ابھی تو یوکرین جنگ پر تنازعہ کا آغازہؤا ہے۔ ٹرمپ پوتن ملاقات کے بعد اس بارے میں تصویر کچھ واضح ہوسکے گی۔ اس دوران یورپی لیڈروں کو میڈیا اور سول سوسائیٹی کے دباؤ کا سامنا رہے گا اور یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ یورپ ،دوست سے ’ دشمن‘ بننے والے امریکہ کے ساتھ معاملات کرنے کے لیے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرے۔ البتہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا۔ متعددیورپی حکومتیں پہلے ہی انتہاپسند عناصر کے زیر اثر ہیں یا کمزور لیڈر کوئی واضح مؤقف اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تاہم یورپ اس وقت اپنی سلامتی اور معاشی مستقبل کے حوالے سے سنگین صورت حال کا سامنا کررہاہے۔
اس وقت یوکرین جنگ اور روس کے ساتھ معاملات زیر بحث ہیں لیکن اگر ٹرمپ چین دشمنی میں کسی طرح روس اور انڈیا کے ساتھ مل کر ایک نئے عالمی اتحاد کی داغ بیل رکھنے کا عندیہ دیتے ہیں تو ایک طرف یورپ غیر اہم اور بے وقعت ہوجائے گا تو دوسری طرف جنوبی ایشیا میں پاکستان جیسے ممالک کو دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا یورپی لیڈر ٹرمپ کی پالیسی شفٹ کے سامنے بند بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا خود کو امریکہ سے اٹھنے والے سیاسی و سفارتی طوفان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔