عمران خان فوج کو اپنی حمایت کا ذیلی ادارہ بنانا چاہتے تھے: وزیر دفاع
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اقتدار سے محرومی کے بعد پی ٹی آئی اپنے زخم چاٹ رہی ہے. خط لکھ رہے ہیں، پاؤں پکڑ رہے ہیں، منتیں ترلےکر رہےہیں اور سوشل میڈیا پر اداروں کےخلاف گالم گلوچ اور ملک و قوم کی توہین کررہے ہیں۔
سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آرمی چیف سیدعاصم منیر برطانیہ کے اہم دورہ پر ہیں، جہاں انہیں بڑی عزت و احترام کے ساتھ گارڈ آف آنر دیا گیا۔ پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ اہم سفارتی و عسکری تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مثالی تعاون پایا جاتا ہے۔
آرمی چیف کے دورہ برطانیہ کے خلاف پی ٹی آئی تنقید اور غلط باتیں کررہی ہے۔ یہ لوگ کسی زمانے میں آرمی چیف کو باپ کہتے تھے اور عمران خان سمیت ان کی قیادت کے بیانات موجود ہیں کہ آرمی چیف باپ ہوتا ہے۔ مگر اب آرمی چیف کے خلاف غلط زبان استعمال کرتے ہیں، غلط لہجے میں بات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے سوشل میڈیا واریئر جس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں، ہمارے معاشرے اس قسم کی زبان استعمال نہیں کی جاتی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ سارا جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب عمران خان جنرل فیض کو آرمی چیف اور فوج کو ذیلی ادارہ بنانا چاہتے تھے۔ انہیں ناکامی ہوئی جس کے نتیجے میں یہ اکثریت کھوبیٹھے اور ان سے اقتدار چھن گیا۔ اس کے بعد سے اب تک پی ٹی آئی اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ انہوں نے 9 مئی برپا کیا، 26 نومبر برپا کیا، فوج کی تنصیبات اور شہدا کی یادگار پر حملے کیے۔ دنیا میں کسی ملک میں سیاسی جماعتوں کا یہ وتیرہ نہیں ہے جو پی ٹی آئی نے اپنایا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت سنبھل رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور آئی ایف سی سمیت ساری دنیا اس کا اعتراف کررہی ہے۔ سیاسی حالات پہلے بہت بہترہیں، معمول ہر چیز سیٹل ہورہی ہے تو ان کی گھبراہٹ اور دکھ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے حالات بہتر ہورہے ہیں، معیشت مستحکم ہورہی ہے۔ سیاسی حالات سب کے سامنے ہیں اور ان کا مکروہ چہرہ بھی سامنے آرہا ہے۔