صدر ٹرمپ نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف سمیت 5 جرنیل برطرف کر دیے

  • ہفتہ 22 / فروری / 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کے سربراہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل سی کیو براؤن جونیئر کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ 5 دیگر ایڈمرلز اور جرنیلوں کو بھی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ براؤن کی جگہ سابق لیفٹیننٹ جنرل ڈین رازن کین کو نامزد کریں گے۔ اس طرح روایت کے برعکس پہلی بار کسی ریٹائرڈ افسر کو دوبارہ اعلیٰ فوجی افسر کے عہدے پر تعینات کیا جائے گا ۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی بحریہ کی خاتون سربراہ کو بھی ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ یہ عہدہ ایڈمرل لیزا فرنچیٹی کے پاس ہے، جو فوجی سروس کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون ہیں۔ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی ہٹایا جارہا ہے۔ ٹرمپ کے اس فیصلے سے پینٹاگون میں ہلچل مچ گئی ہے، جو پہلے ہی سویلین عملے کی بڑے پیمانے پر برطرفی، بجٹ میں ڈرامائی تبدیلی اور ٹرمپ کی نئی ’امریکا فرسٹ خارجہ پالیسی‘ کے تحت فوجی تعیناتیوں میں تبدیلی کی تیاری کر رہا تھا۔

اگرچہ پینٹاگون کی سویلین قیادت ایک انتظامیہ سے دوسری انتظامیہ میں تبدیل ہوتی رہتی ہے لیکن امریکی مسلح افواج کے وردی پوش ارکان غیر سیاسی ہوتے ہیں جو ڈیموکریٹک اور ریپبلکن انتظامیہ کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ سی کیو براؤن صدر کے اعلیٰ وردی پوش فوجی مشیر بننے والے دوسرے سیاہ فام افسر تھے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ستمبر 2027 میں اپنی 4 سالہ مدت پوری کریں گے۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ براؤن کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سینیٹ نے ابھی ان کے جانشین کی توثیق نہیں کی۔ نومبر میں خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے براؤن سمیت اعلیٰ عہدے داروں کو برطرف کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں سرفہرست ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جیک ریڈ کا کہنا ہے کہ وردی میں ملبوس رہنماؤں کو سیاسی وفاداری کے امتحان کے طور پر یا تنوع اور صنف سے متعلق وجوہات کی بنا پر برطرف کرنا، جس کا کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے وہ اعتماد اور پیشہ ورانہ مہارت ختم ہوگا جو ہمارے فوجیوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے درکار ہوتا ہے۔

گزشتہ برس کی صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ نے افغانستان سے 2021 میں فوجی انخلا کے ذمہ دار جرنیلوں اور ذمہ داروں کو برطرف کرنے کی بات کہی تھی۔ جمعے کے روز صدر نے جنرل سی کیو براؤن کی برطرفی کے فیصلے کی وضاحت نہیں کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں جنرل چارلس سی کیو براؤن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہمارے ملک کے لیے 40 سال سے زائد خدمات انجام دیں، جن میں ہمارے موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے طور پر خدمات بھی شامل ہیں۔ وہ ایک اچھے آدمی اور شاندار رہنما ہیں، میں ان کے اور ان کے خاندان کے لیے شاندار مستقبل کی خواہش کرتا ہوں۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پینٹاگون کی سربراہی سنبھالنے سے پہلے براؤن کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار تھے، جس کا ایجنڈا وسیع تر تھا، اس میں فوج میں تنوع، مساوات اور شمولیت کے اقدامات کو ختم کرنا شامل ہے۔