لودھراں میں میر تقی میر کا نفرنس

اگرچہ میر تقی میر کے زمانے کو گزرے ہوئے تین صدیاں بیت چکی ہیں لیکن ان تین سو سالوں میں بھی میر کے اشعار کی گونج ضرور کہیں نہ کہیں سنائی دیتی رہتی ہے۔ غالب نے کہا تھا:
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

ضلع لودھراں ایک عرصے سے علم وادب کا گہوارہ رہا ہے۔ حکومتی، ا نتظامی، سیاسی، عوامی اور علمی و ادبی سطح پر اس زرخیز خطے میں ادبی آبیاری ہوتی رہی ہے۔ سابق ڈی سی حمید اللہ شیخ حامد نواز شیخ نے عالمی سطح کے مشاعرے کرائے ہیں جن میں اہل قلم کی بھرپور شرکت رہی ہے۔ حلقہ احباب ذوق کے زیر اہتمام لودھراں کے سپوت شاعر مبشر وسیم لودھی اور سابق ڈائریکٹر انفارمیشن رحیم طلب کی مخلصانہ کاوشوں سے برپا کی جانے والی ایک روزہ میر تقی میر کانفرنس کا انعقاد کر کے اہل علم و فن کی توجہ اس خطے کی محرومیوں کی طرف دلائی ہے۔

جنوبی ہنجاب کا اہم مرکز ملتان ہو، نوابی دور کی ریاست بہاولپور ہو یا لودھراں، یہ خطے ہر لحاظ سے زرخیز اور مردم خیز ہیں لیکن ان کے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئی ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کے باسی نامساعد حالات محرومیوں اور کم وسائل کے باوجود کچھ نہ کچھ کرنے کا جتن کرتے رہتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل اقبال، میر اور غالب سے بھی ابھی اتنی واقف نہیں۔ منیر نیازی، ناصر کاظمی اور فراز سے کیا واقف ہو گی۔ یہ حکومتی و انتظامی اداروں کا کام تھا جو حلقہ ارباب ذوق کے حلقہ یاراں نے سر انجام دیا ہے۔ انہوں نے ایک عرصے سے سوئے ہوئے میر کو جگانے کی ایک کامیاب کوشش ضرور کی ہے۔

کانفرنس کے صدر مجلس ڈاکٹر انوار احمد نے صحیح کہا کہ بھارت میں میر کے پرستاروں کی بے رخی اور بے خبری کی وجہ سے میر کی قبر بے نشاں ہو چکی ہے۔ مگر پاکستان کے ایک چھوٹے ضلع لودھراں میں میر کے چاہنے والوں کی محبت سے میر کا لودھراں میں ظہور ہو گیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کانفرنس کے ثمرات اس نوجوان نسل تک پہنچانے جائیں جسے اپنے اسلاف کے کارناموں اور گمشدہ میراث کا پتہ نہیں ہے۔ یہی بات ہے کہ کانفرنس کے سبھی شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی کانفرنسوں کا انعقاد تعلیمی اداروں میں ہو اور نوجوانوں کو اس میں شامل رکھا جائے۔ سابق رکن قومی اسمبلی محترمہ ڈاکٹر ثمینہ مطلوب ادب اور کتاب دوست ہیں۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں انہوں نے لودھراں میں ادبی سرگرمیوں کے احیا کے لئے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور بجا کہا کہ کم خرچ بالا نشین کے نسخے پر عمل پیرا ہو کر ادب کی خدمت کی جائے۔

ڈاکٹر انوار احمد نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ لودھراں میں مرکزی لائبریری میں گوشہ میر قائم کیا جائے جہاں میر پر لکھی گئی نایاب کتب دستیاب ہوں اور جسے حکومتی سیاسی اور تعلیمی اور عوامی حلقوں کا برابر تعاون حاصل ہو۔ اور اکادمی ادبیات پاکستان نیشنل بک فاؤنڈیشن اور مقتدرہ قومی زبان جیسے فعال سرکاری اداروں کا عملی اور مالی تعاون بھی شامل حال ہو۔ شعبہ اردو بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر فرزانہ کوکب سرگودھا یونیورسٹی شعبہ اردو کے صدر نشین اور معروف شاعر ڈاکٹر شفیق آ صف اور راقم الحروف نے بھی مہمانان خصوصی کی حثیت سے اظہار خیال کرتے ہوئے میر کے کئی حوالوں پر روشنی ڈالی۔ اور  دامے درمے سخنے تعاون کا یقین بھی دلایا۔

ڈاکٹر اسلم انصاری کے بھانجے میر احمد کامران مگسی، ڈاکٹر نجیب جمال کے داماد ڈاکٹر غلام اصغر اور الاؤ ادبی گروپ کے رانا شہباز حمید بھی کانفرنس کے مقالہ نگاروں میں شامل تھے۔ جبکہ ڈاکٹر اسلم عزیز درانی کی ہمشیرہ نائلہ شیریں درانی کی عمدہ شاعری بھی سننے کو ملی۔ اس بات پر سبھی مقالہ نگاروں کا اتفاق تھا کہ شاعر اہنے دور اور معاشرتی رویوں کا عکاس ہوتا ہے۔ معاشرے میں ہونے والی ناہمواریوں ناانصافی اور طبقاتی تقسیم کا کرب اور حالات کی سنگینی اس کے اشعار میں جھلکتی ہے۔ اسے معاشرے سے محبت ملے تو وہ محبتوں کے گلاب شعروں کی صورت نچھاور کرتا ہے۔ اگر اس کا دامن کانٹوں سے بھر دیا جائے تو اشعار میں خاروں کی چبھن ملے گی۔ میر کے ان اشعار کی بازگشت بھی کانفرنس میں سنی گئی:
سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب اس کی زلفوں کے اسیر ہوئے
اور
نازکی اس کے لب کیا کہئے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میر ان نیم باز آ نکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے
میر کیا سادے ہیں ہوئے ہیں بیمار جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
شاہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کی
انہیں کی آنکھوں میں پھرتی سلائیاں دیکھیں

میر نے ابتلائے زمانہ کے سبھی رنگ و ڈھنگ دیکھے۔ آ ج کا دور زمانہ اور اس کے رنگ ڈھنگ بھی ویسے ہی ہیں۔ بس لوگ اور منظر بدل جاتے ہیں۔ آ ج بھی میر کا سوز و لحن درکار ہے۔ آج کی شاعری بھی میر کے چلن کی متقاضی ہے۔ میر، غالب اور اقبال کو نصاب سے ہٹ کے بھی پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس کانفرنس کی قردادوں میں حلقہ ارباب ذوق کی طرف سے سارا سال میر کے حوالے سے پروگرام منعقد کرنے کا عندیہ دینے کے ساتھ یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ ڈاکٹر اسلم انصاری کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے لائیبریری کا ایک گوشہ مختص کیا جائے گا۔ زندہ قومیں ہی اپنے اسلاف کے علمی و ادبی کارناموں کو زندہ رکھتی ہیں اور ان کی ادبی میراث کی امانت دار ہوتی ہیں۔