ریاست، بیوروکریسی اور عوام
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 25 / فروری / 2025
ریاست کیا ہوتی ہے؟ کہا جاتا ہے ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے۔ ریاست کیسے بنتی ہے اور ریاست ماں کا روپ کب دھرتی ہے۔ اگر کسی جمہوری ریاست کی بات کی جائے تو وہ اس طرح بنتی ہے کہ کسی ایک علاقے میں رہنے والے لوگ ایک معاہدے کے تحت مل کر اپنے علاقے کو ریاست کی شکل دیتے ہیں۔
اس معاہدے میں لکھا ہوتا ہے کہ فرد کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی، وہ اپنی ریاست کی کامیابی اور ترقی کے لیے کیا کچھ کرے گا۔ اور ریاست اپنے افراد کا کیسے تحفظ کرے گی۔ اس معاہدے کو عمرانی معائدہ یا انگریزی زبان میں "Social contact" کا نام دیا جاتا ہے۔ کسی بھی ریاست کو چلانے کے لیے ایک آئین اور اس آئین کے مطابق ایک نظام بنانا ہوتا ہے۔ ریاست کے اندر مختلف اداروں کے ڈھانچے بنائے جاتے ہیں جن کے اندر کئی مختلف عہدوں پر تعیناتیاں کی جاتی ہیں تاکہ نظام ریاست کو غیر جانبداری اور احسن طریقے سے چلایا جا سکے۔ ریاست کے مالک بنیادی طور پر اس میں رہنے والے عوام ہوتے ہیں جن کی آرا اور مرضی سے نظام بھی بنتا ہے اور ادارے بھی۔ اس نظام اور اداروں کو چلانے والے عوام کے منتخب لوگ ہوتے ہیں۔ عوام اپنے نمائندے منتخب کر کے انہیں اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں جہاں ملکی نظام بنانے اور چلانے کےلیے قانون سازی ہوتی ہے۔
کچھ ریاستیں ایسی بھی ہیں جن میں ابھی تک بادشاہی نظام چلتا ہے۔ ایسی ریاستیں ایک طرح سے بادشاہ کی ملکیت ہوتی ہیں۔ لیکن وہ بھی اپنی رعایا یا عوام کے لیے تمام سہولیات زندگی بہم پہنچانے کا بندوبست کرتے ہیں۔ پاکستان میں ابھی تک عوام کو ریاست کے معانی ہی معلوم نہیں ہیں یا یہ کہ انہیں علم نہیں کہ ریاست کسے کہتے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ لوگ ریاست کا مطلب فوجی اور سول بیوروکریسی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ پاکستانی حکومت اور ادارے اس بات کا اکثر ذکر کرتے ہیں کہ ریاست کے اندر ریاست قائم نہیں کرنے دی جائے گی۔ ریاست کی رٹ قائم کی جائے گی، ریاست کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ کچھ لوگ پاکستان کو بنانا ریاست یا بنانا ریپبلک بھی کہتے ہیں (میں بنانا کھاتا ہوں مگر اس کے معانی معلوم نہیں ہیں)۔
جو بھی ہو ایک بات واضح ہے کہ پاکستان عوام کی ریاست نہیں ہے، نہ عوام کی رائے کی کوئی اہمیت ہے۔ سیاستدان سیاست میں اس لیے نہیں آتے کہ وہ ملک کا نظام بنائیں گے بلکہ وہ اپنی اہمیت بنانے، اپنے اور اپنے خاندان کے مفادات کے تحفظ کی خواہش لے کر سیاست میں داخل ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان کے پاس کوئی نظریہ نہیں ہوتا ہے۔ اور بیشتر امیدوار ہر بار انتخابات میں ایک نئی جماعت کی ٹکٹ پر حصہ لیتے ہیں۔ جو بھی جماعت برسر اقتدار آتی ہے، وہ پچھلی حکومت کے تمام منصوبے ختم کر کے اپنی نئی پالیسی بناتی ہے۔ بیوروکریسی کس کے لیے کام کرتی ہے اس کی سمجھ آج تک کسی حکومت کو آئی ہے نہ عوام کو۔ عوام کو ہر ادارے کے اندر خوار کیا جاتا ہے۔ رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا ہے۔ جاگیردار، سرمایہ دار، بیوروکریٹس اور فوجی افسران جو چاہیں کریں ان کو کھلی چھٹی ہے۔ ان کو قتل بھی معاف ہو جاتے ہیں۔ اور یہ سب باہمی مفادات کے زیر اثر ایک دوسرے سے تعلقات قائم کرتے ہیں۔ اور اس باہمی مفاد میں عزتوں سمیت ہر چیز کے سودے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کی راہداریوں اور محفلوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کون کس سے کیا فائدہ لے رہا ہے اور عوام ہر جگہ قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں
ملک کے فیصلے کہاں ہوتے ہیں اور کون کرتا ہے، یہ بات اب راز نہیں رہی ہے۔ بھمبر جیسے چھوٹے شہر کے تمام محکموں کے سربراہان اور انتظامیہ کے افسران برگیڈ کمانڈر کے پاس حاضر ہو کر ہدایات لیتے ہیں۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہماری فوجی قیادت کو ضرورت کیا ہے ہر مسئلے میں دخل دینے کی؟ اگر دخل دینا ہی ہے تو پھر اس ملک کا نظام ہی درست کروا دیں۔ کرپٹ اور نالائق سیاستدانوں سے اس ملک کے عوام کی جان چھڑوا دیں۔ آج کل حکومت اور فوجی قیادت نے اپنی تمام تر توانائیاں اس بات پر لگا رکھی ہی کہ عوام اور فوج کے بیچ حائل خلیج کو پاٹا جا سکے لیکن یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جا رہی کہ یہ خیلج حائل کیسے ہوئی ہے۔ فوج اور عوام ایک ہی تو ہیں، عوام فوج سے محبت بھی کرتے ہیں تو پھر یہ خلیج کیسے بنی ہے؟ بقول سپہ سالار صاحب کے یہ ملک دشمن عناصر ہیں جو فوج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ملک دشمن عناصر کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟
ان ملک دشمن عناصر کی تلاش کی بجائے ہمیں اپنے کردار اور اپنی حرکات پر غور کرنا چاہیے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی زیر عتاب تھی۔ اس وقت جو بھی پیپلزپارٹی یا بھٹو کا نام لیتا تھا، وہی ملک دشمن عناصر میں شامل ہو جاتا تھا۔ پھر ایک مختصر وقت کے لیے نواز شریف یا اس کی جماعت کا نام لینے والے ملک دشمن ٹھہرے۔ اب عمران خان اور پی ٹی آئی کے حمایتی نشانے پر ہیں۔ پاکستان کے تمام سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کی پیداوار ہیں۔ لیکن پھر کس طرح یہ ملک دشمن بن جاتے ہیں؟ کبھی یہ منظور نظر ہوتے ہیں تو کبھی ملک دشمن عناصر کہلاتے ہیں۔ اگر اس کھیل کو بند کر کے عوام کو فیصلے کرنے کا حق دے دیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ عوام اپنی کم عقلی کی وجہ سے کئی ملک دشمن عناصر کو ہی منتخب کر لے لیکن مجھے یقین ہے کہ عوام فوج کے خلاف کام کرنے والوں کا خود ہی محاسبہ کریں گے۔ کیونکہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ فوج پاکستان کی ہے اور یہ ملک بھی فوج کا اپنا ہے۔ عوام فوج سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں لیکن جب جب فوجی قیادت نے ملک پر شب خون مارا تو عوام ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ مخالف کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ ملک چلانا عوام کا حق ہے اور چاہتے بھی ہیں کہ انہیں اپنی قیادت منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔
راقم کا خیال ہے کہ فوج کی ساکھ اسی صورت میں بحال ہو سکتی ہے کہ فوجی قیادت عوام پر بھروسہ کرے اور انہیں ان کا سیاسی اور جمہوری حق واپس کیا جائے۔