امریکہ اور یوکرین میں معدنی ذخائر تک رسائی کا معاملہ پر اتفاق ہوگیا

  • بدھ 26 / فروری / 2025

یوکرین کے تین اعلیٰ عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور کیف نے ایک وسیع اقتصادی معاہدے پر اتفاق کیا ہے جس میں یوکرین کے نایاب معدنی ذخائر تک امریکہ کی رسائی شامل ہوگی۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق یوکرینی حکام نے منگل کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امید ہے کہ معاہدہ ہونے کے بعد یوکرین امریکی فوجی امداد جاری رہے گی۔

اے پی‘ کے مطابق صدر زیلنسکی کے دورۂ واشنگٹن اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے پر جمعے تک دستخط کا امکان ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی منگل کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ انہوں نے سنا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی واشنگٹن ڈی سی آ رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان معدنی ذخائر سے متعلق معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسے بہتر سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول صدر زیلنسکی ان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنا چاہیں گے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ یوکرین کو روس کے خلاف حالیہ جنگ میں اربوں ڈالر کی امداد کے عوض قیمتی معدنیات میں حصہ چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یوکرین سے ہونے والے معاہدے کا تخمینہ ایک ٹریلین (دس کھرب) ڈالر ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن اس میں نایاب زیرِ زمین ذخائر اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس معاہدے کے بارے میں ابھی کچھ تکنیکی معاملات طے کرنا باقی ہیں۔

معاہدے کے مسودے میں امریکی حکومت کی اس متنازع تجویز کو شامل نہیں کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرین کے معدنی ذخائر سے 500 ارب ڈالر کی آمدن امریکہ کو جنگی امداد کے معاوضے کے طور پر دی جائے۔ یوکرینی عہدیدار کے مطابق مسودے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور یوکرین مشترکہ طور پر ایک فنڈ قائم کریں گے جس میں یوکرین مستقبل میں معدنیات، تیل اور گیس سے ہونے والی 50 فی صد آمدن شامل کرے گا۔

یوکرینی حکام کے مطابق اس معاہدے کے مسودے میں سرمایہ کاری کی بہتر شرائط موجود ہیں اور اس میں یوکرین نے موزوں ترامیم شامل کی ہیں جب کہ اس کے نتائج بھی مثبت ہی ہوں گے۔ دوسری جانب امریکہ نے مجوزہ شرائط کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

یوکرینی عہدیدار کے مطابق معاہدے کے مسودے میں امریکہ کی جانب سے یوکرین کی سیکیورٹی کی ضمانت کا معاملہ ابھی شامل نہیں ہے ۔ ان کے بقول اس معاملے پر اس وقت تبادلہ خیال کیا جائے گا جب دونوں ملکوں کے صدور کی ملاقات ہو گی۔ امریکہ اور یوکرین کے درمیان معاہدے کے مسودے پر پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب صدر ٹرمپ اور ان کے یوکرینی ہم منصب کے درمیان گزشتہ ہفتے سخت بیانات کا تبادلہ ہوا تھا۔

صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ رواں ماہ کے آغاز میں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ سے کیف میں ملاقات کے دوران مجوزہ معاہدے پر دستخط سے انکار کیا تھا۔ بعد ازاں زیلنسکی نے جرمنی کے شہر میونخ میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات میں بھی انہوں نے امریکہ کے مجوزہ معاہدے میں یوکرین کی سیکیورٹی کی ضمانت شامل نہ ہونے کی وجہ سے اس پر دوبارہ اعتراض کیا تھا۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کو ’بغیر انتخابات کا آمر‘ قرار دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے یوکرین اور روس کے لیے خصوصی ایلچی کیتھ کیلوگ نے کیف کا تین روزہ دورہ کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک میں اس معاہدے پر کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ اس معاہدے کی تجویز پہلی بار یوکرین کے صدر زیلنسکی کی جانب سے گزشتہ برس سامنے آئی تھی۔ انہوں نے یہ خیال ماسکو کے ساتھ مستقبل میں ہونے والےمذاکرات میں یوکرین کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے پیش کیا تھی۔