چار یرغمالوں کی لاشیں اسرائیل کے سپرد، اسرائیلی جیلوں سے سینکڑوں فلسطینی رہا
فلسطینی عسکری تنظیم حماس نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مزید چار ہلاک یرغمالوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کی ہیں۔ اسرائیل نے بھی جنگ بندی معاہدے کے تحت سینکڑوں فلسطینیوں کو رہا کر دیا ہے۔
فریقین میں لاشوں اور قیدیوں کا تبادلہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں۔ یرغمالوں کی لاشوں کو سیکیورٹی کے حصار میں وسطی اسرائیل کے نیشنل فرانزک سینٹر لایا گیا ہے جہاں ان کی شناخت کے لیے ٹیسٹ ہوں گے۔
دوسری جانب رہا ہونے والے فلسطینی قیدی جب اپنے علاقوں میں پہنچے تو ان کے خاندان اور دوست احباب نے استقبال کیا۔ ’اے پی‘ کے مطابق اسرائیل کی جیلوں سے رہا ہونے والے سینکڑوں ایسے شامل ہیں جو سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔ ان میں سے کئی افراد کو عسکریت پسندی کے شبہے میں بغیر کسی الزام کے کئی ماہ تک حراست میں رکھا گیا۔
فلسطینی حکام کی جانب سے پیش کی گئی فہرستوں کے مطابق اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والوں میں 445 مرد، 21 نوعمر لڑکے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ ان سب کو اسرائیل پر حملے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ فلسطینی حکام نے فہرستوں میں رہا ہونے والے افراد کی عمر کا اندراج نہیں کیا۔
قیدیوں کی رہائی کے اس مرحلے میں لگ بھگ 50 ایسے فلسطینیوں کو کو رہا کیا گیا ہے جن کا تعلق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے ہے۔ رہا ہونے والے کئی افراد اسرائیل کے خلاف حملوں پر عمر قید کی سزا کا سامنا کر رہے تھے۔ ایسے رہا ہونے والے افراد کو اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں سے جلاوطن کیا جا رہا ہے۔ انہیں عارضی طور پر مصر منتقل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی جیلوں سے چھ سو سے زائد فلسطینی قیدیوں کو گزشتہ ہفتے رہا کیا جانا تھا۔ لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر ان کی رہائی معطل کر دی تھی۔
جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس نے 33 یرغمالوں اور 8 ہلاک یرغمالوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کی ہیں جس کے بدلے اسرائیل نے بھی تقریباً 2000 قیدیوں اور نظر بند فلسطینیوں کو رہا کیا ہے۔