بنگلہ دیش کے آرمی چیف کا سخت بیان کیا سیاستدانوں کو وارننگ ہے؟
بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزمان کی حالیہ تقریر ملکی سیاست میں موضوع بحث بن گئی ہے۔ انہوں کی تقریر پر قیاس آرائیاں اور بحث ہو رہی ہے کہ انہوں نے کیا پیغام دیا ہے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں کی طرف سے کیچڑ اچھالنے، پلخانہ قتل عام اور محکمہ انٹیلی جنس سمیت مختلف اداروں کے بارے میں بات کی۔ اپنی تقریر میں آرمی چیف نے ملک کی آزادی اور خودمختاری کے معاملے پر لوگوں کو خبردار کیا ہے۔ تقریر کے دوران جنرل وقار الزمان کی باڈی لینگویج اور زبان خاصی سخت نظر آئی۔ اس پر بہت سے سیاست دان حیران ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عبوری حکومت کے آخری چھ ماہ کے دوران مختلف مقامات پر مختلف پروگراموں میں کی گئی ان کی تقریروں اور ان کی حالیہ تقریر میں واضح فرق ہے۔ بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار نے گزشتہ سال جولائی میں احتجاج کی وجہ سے شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پانچ اگست کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ میٹنگ کے بعد بھی تقریر کی تھی۔
ان کی تقریر شیخ حسینہ کے اقتدار اور ملک چھوڑنے کے ساتھ ساتھ عبوری حکومت کی تشکیل اور موجودہ صورتحال کے بارے میں تھی۔ اس دن آرمی چیف کی باڈی لینگویج یا زبان اتنی سخت نہیں تھی۔
بہت سے سیاستدانوں کا خیال ہے کہ آرمی چیف کی حالیہ تقریر میں سخت زبان کے پیچھے سب سے بڑی وجہ عبوری حکومت اور سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے۔ ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ عوامی بغاوت کے بعد اقتدار میں آنے والی عبوری حکومت کئی محاذوں پر ناکام رہی ہے۔ خاص طور پر امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے انتہائی تشویش اور خدشات کا ماحول ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں میں بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے مجموعی طور پر بے قابو صورتحال کے طور پر دیکھتے ہیں۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چھ ماہ کے دور کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں اعتماد اور شکوک کی کمی ہے۔ ان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ یہ حکومت کس حد تک حالات پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ بہت سے معاملات میں حکومت اپنا کنٹرول قائم کرنے یا ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
بڑی سیاسی جماعت بی این پی کے جنرل سیکرٹری مرزا فخر الاسلام عالمگیر بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’میرے خیال میں سیاسی جماعتوں سمیت تمام متعلقہ جماعتیں متحد ہو کر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف نے سب کو خبردار کرتے ہوئے سخت تقریر کی ہے۔‘
آرمی چیف نے منگل کو ڈھاکہ کے راوا کلب میں تقریر کے دوران سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات سمیت مختلف مسائل پر بار بار خبردار کیا۔ یہ تقریب 2009 میں بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے ہیڈکوارٹر میں قتل عام میں ہلاک ہونے والے فوجی افسران کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔