وائٹ ہاؤس میں تلخ کلامی کے بعد یوکرینی معدنیات معاہدہ نہیں ہوسکا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں تلخ الفاظ کے تبادلے کے بعد معدنیات سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں ہوسکے۔ اس مالقات کا مقصد یوکرین کے نایاب معدنی ذخائر تک امریکہ کی رسائی ممکن بنانا تھا۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر وینس نے یوکرینی صدر کے ساتھ غیر سفارتی ، درشت اور دھمکی آمیز انداز مین بات کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’آپ یا تو معاہدہ کرنے جا رہے ہیں یا ہم الگ ہو جائیں گے‘۔ ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا ’میں سمجھتا ہوں کہ جب تک امریکہ یوکرین کے ساتھ شامل ہے، صدر زیلنسکی امن کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری شمولیت سے انہیں مذاکرات میں بڑا فائدہ ہوگا۔
صدر نے مزید کہا انہوں نے(زیلینسکی نے) قابل قدر اوول آفس میں امریکہ کا احترام نہیں کیا ۔ جب وہ امن کے لیے تیار ہوں تو وہ واپس آ سکتے ہیں۔ اس وقت اوول آفس میں درجنوں امریکی اور یوکرینی رپورٹر موجود تھے۔ گفتگو کے آغاز کےکچھ دیر بعد جب زیلینسکی نے روس کے 2014 میں کریمیا پر حملے کو اٹھایا تو بات چیت میں تلخی آگئی۔
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر پرو پیگنڈےکا الزام لگایا۔ وینس نے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’میرے خیال میں امریکی میڈیا کے سامنے یہ مقدمہ چلانے کی کوشش کرنے کے لیے اوول آفس آنا اس کی اہانت کرنا ہے‘۔ ٹرمپ اور وینس دونوں نے یوکرینی رہنما پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے ملک کو واشنگٹن سے ملنے والی امداد کے لیے شکر گزار نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا آپ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ آپ تیسری عالمی جنگ کی جانب لے جا رہے ہیں۔ آپ کے پاس ابھی متبادل نہیں ہیں۔ زیلنسکی جنگ ہار رہے ہیں، لوگ مر رہے ہیں اور یوکرین کے فوجی بھی کم ہو رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ یہ یوکرین کے لیے ایک غیر معمولی سمجھوتہ ہے کیونکہ ان کے ملک میں ہماری بڑی سرمایہ کاری ہے۔ میٹنگ کے بعد گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نےمعدنیات کے معاہدے کے معاملے پر امریکی حمایت واپس لینے کا عندیہ دیا۔ ٹرمپ نے کہا آپ یا تو ایک معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، یا ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کے لیے یہ کوئی اچھی صورت حال نہیں ہو گی۔
امن کی ضرورت اور جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے برابر میں بیٹھے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’آپ کے پاس متبادل نہیں ہیں۔ ایک بار جب ہم اس معاہدے پر دستخط کرتے ہیں تو آپ بہت بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ لیکن آپ بالکل بھی شکر گزار نہیں ہیں، اور یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے‘۔
زیلینسکی نے روسی صدر پوٹن کے بارے میں امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ صدر ٹرمپ نے امن، جنگ بندی اور روسی موقف کے حوالے سے کہا کہ میں پوٹن کو ایک طویل عرصے سے جانتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ وہ جنگ بندی کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ میں نے ان سے سیکیورٹی کے بارے میں بات کی ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ پہلے سمجھوتہ ہونے دیں پھر ہم سیکیورٹی پر بات کریں گے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ معدنیات سے متعلق معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں اور دونوں صدور کی طے شدہ مشترکہ پریس کانفرنس منسوخ کر دی گئی۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے فلوریڈا کے لیے روانہ ہوتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس وقت جنگ بندی چاہتے ہیں۔ خبر رساں ا دارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ یوکرین میں جنگ کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے زیلنسکی پر الزام لگایا کہ وہ جنگ بندی کی مخالفت کرتے ہیں۔
ملاقات کے اچانک اختتام کےبعد یوکرینی رہنما نے سوشل میڈیا پر امریکی عوام اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ زیلنسکی نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا ’شکریہ امریکہ’۔ انہوں نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا آپ کا شکریہ، کانگریس اور امریکی عوام کا شکریہ ۔ یوکرین کو منصفانہ اور دیرپا امن کی ضرورت ہے اور ہم بالکل اسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے ایک بیان میں کہا ہے صدر زیلنسکی اور یوکرین کے عوام تین سال سے جمہوریت، آزادی اور سچائی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کی کامیابی امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔ ہمیں فتح حاصل ہونے تک یوکرین کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے۔
روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ٹرمپ درست کہہ رہے ہیں: کیف کی حکومت تیسری عالمی جنگ کو داؤ پر لگا رہی ہے۔
فرانس، جرمنی، فن لینڈ اور نیدرلینڈز سمیت یورپی ملکوں کے عہدیداروں نے سوشل میڈیا پر یوکرین کی حمایت کا اظہار کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے کہا کہ ہم یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یوکرین یورپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین کی مدد میں اضافہ کریں گے تاکہ وہ حملہ آوروں کے خلاف لڑنا جاری رکھ سکے۔
ملاقات سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ زیلینسکی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب ہیں۔ ہمارے پاس ایک بہت ہی منصفانہ ڈیل ہے۔ صدر نے کہا میں منتظر ہو ں کہ ہم وہاں جاکرتلاش کریں اور کچھ بیش قیمت معدنیات حاصل کریں۔ معاہدہ ہوجانے کی صورت میں زیلینسکی مسلسسل روس کے کسی ممکنہ حملے کے لئے سیکیورٹی کی ضمانتوں کی بات کرتے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے معدنیات کے معاہدے کو ایک قسم کے "بیک اسٹاپ" کے طور پر بیان کیا تھا۔ یعنی یوکرین میں امریکہ کی موجودگی ایسے کسی خطرے کو روکے گی۔
دریں اثنا امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے مطالبہ کیا ہے کہ اوول آفس میں ہونے والی تلخی پر اُنہیں معافی مانگنی چاہیے۔
امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ صدر زیلنسکی کو ہمارا وقت ضائع کرنے اور میٹنگ اس طرح ختم کرنے پر معافی مانگنی چاہیے۔
خیال رہے کہ جمعے کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی اُس وقت اوول آفس میں نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ بیٹھے تھے جب صدر ٹرمپ، نائب صدر اور یوکرینی صدر کے درمیان یوکرین جنگ کے معاملے پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
تینوں رہنماؤں کے درمیان تکرار کے بعد امریکہ اور یوکرین کے درمیان معدنیات سے متعلق ممکنہ معاہدے پر بھی دستخط نہیں ہوئے تھے۔ صدر زیلنسکی کے وائٹ ہاؤس سے چلے جانے کے باعث دونوں صدور کی مشترکہ نیوز کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے سوال اُٹھایا کہ اب دیکھنا ہو گا کہ کیا یوکرینی صدر تین سال سے جاری جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ شاید صدر زیلنسکی امن معاہدہ نہیں چاہتے۔ وہ کہتے تو ہیں کہ وہ ایسا چاہتے ہیں۔ لیکن لگتا نہیں کہ وہ ایسا چاہتے ہیں۔
اوول آفس میں ہونے والی تکرار کے دوران صدر ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا تھا کہ اُن کے پاس سوائے جنگ ختم کرنے کے کوئی آپشنز نہیں ہے۔ یوکرین روس کے ساتھ معاہدہ کرے ورنہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔