بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ

کل امریکی اور یوکرینی صدر کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی میں ہماری قوم بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بنی ہوئی ہے۔ اور اسے بھی اپنی اپنی سیاسی وابستگی کی بنیاد پہ دیکھ رہی ہے۔

کچھ یہ کہہ رہے ہیں کہ زیلنسکی ہمارے فلاں فلاں سیاسی لیڈر کی طرح مسخرہ ہے ۔ کچھ خوش ہو رہے ہیں کہ دیکھا ٹرمپ نے بائیڈن کو بُرا بھلا کہہ کے ثابت کر دیا ہے کہ فلاں فلاں لیڈر حق پہ تھا۔ اور خوش ہیں کہ اب فلاں فلاں کی باری بھی آنے والی ہے۔ وہ چشمِ تصور سے ہی پاکستانی حکمرانوں کو ذلیل ہوتا دیکھ رہے ہیں. اور تالیاں بجارہے ہیں۔ کوئی ایک بھی. objective analysis ابھی تک پڑھنے کو نہیں ملا۔ سب اپنی اپنی پسندیدہ شخصیت کے گرد گھوم رہے ہیں۔

انتشار، بُحران اور شخصیت پرستی کی شکار قومیں ایسی ہوتی ہیں، جنہیں اپنے ملکی مفاد سے زیادہ اپنی شخصیات عزیز ہوتی ہیں۔ اس روئیے پہ افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ یا مغربی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ شخصیات کی پسندیدگی کی بنیاد پہ نہیں۔  ایک امریکی صدر اور اس کی انتظامیہ کو یوکرائن کی حمایت میں ملکی مفاد نظر آیا۔ اس نے حمایت کردی۔ لیکن نئے صدر کی رائے میں یہ جنگ بند ہونی چاہیئے اور امریکی امداد کی مد میں دیئے گئے مالی وسائل واپس ملنے چاہئیں. اور وہ یوکرینی معدنیات تک رسائی چاہتا ہے۔ جس سے انکار پہ کل امریکی صدر نے یوکرینی صدر سے نہایت توہین آمیز رویہ روا رکھا۔ اور کسی ڈپلومیٹک حد کا خیال نہیں رکھا۔

یوکرینی صدر بھی نروس تھے۔ اور اس میں کچھ ڈپلومیٹک غلطیاں کر گئے۔ لیکن پھر بھی اُن کی داد بنتی ہے۔ کہ شدید دباؤ اور توہین آمیز رویئے کے باوجود انہوں نے ملکی مفاد کے خلاف فی الحال سودا نہیں کیا۔ کل کیا ہوتا یے وہ کل پتہ چلے گا۔ امریکہ نے یوکرینی جنگ میں جو امداد کی وہ نیٹو کے ممبر اور نیٹو کے ساتھ معاہدے کے تحت کی۔ کیا اپنا حصہ مانگنا نیٹو سے علیحدگی کا اشارہ ہے؟ کیا اب یورپ اور امریکہ آمنے آسامنے جائیں گے؟ پھر نیٹو کا مستقبل کیا ہوگا؟ چین کا کیا رول ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ۔

 پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہورہا، جس سے کسی عالمی طاقت کے مفادات جُڑے ہوں. البتہ صدر ٹرمپ گزشتہ جنگوں میں دی گئی امریکی امداد واپس یا کچھ حصہ مانگ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ہمیں غریب ہونے کا تبھی تو مزہ آئے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ افغانستان میں متروکہ ہتھیار مانگ سکتا ہے اس کے لیے پاکستان سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے ایٹمی پروگرام پہ کوئی مؤقف لیں، وغیرہ وغیرہ ۔

لیکن پاکستان کون سی سیاسی شخصیت کیا کر رہی ہے، اس سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اپنے ہی سینیٹروں کے کہنے پہ وہ کوئی ایک آدھ ٹویٹ کر دیں۔ لیکن پاکستانی حکام کو بُلا کے کسی شخصیت کے لیے یوں ذلیل کرنا مجھے ناممکن دکھائی دیتا یے۔ اس لیے ہمیں بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے حکمران تو ویسے بھی گُڑ کھا کے مر جاتے ہیں، انھیں زہر دینے کی کیا ضرورت ہے ۔