پاکستان کی جمہوری درجہ بندی میں تنزلی
- تحریر محمد طارق
- اتوار 02 / مارچ / 2025
بین الاقوامی جریدے اکنامسٹ کے انٹیلیجنس یونٹ کے 2025 جمہوری درجہ بندی سروے کے مطابق ، پاکستان جمہوری درجہ بندی میں ہائبرڈ نظام سے نکل کر آمرانہ نظام میں داخل ہوگیا ہے۔
2020 میں جمہوری اقدار کی درجہ بندی میں پاکستان 105 نمبر پر، جبکہ 2024 میں 118 نمبر پر تھا اور اب 2025 میں 124 پر آگیا ہے۔
ڈیمو کریسی انڈ کس 2025 کی درجہ بندی کے پہلے 7 نمبر کی فہرست میں 5 نارڈک ممالک ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن مکمل جمہوری اقدار رکھنے والے ممالک قرار دیئے گئے ہیں۔ 7 میں سے دوسرے 2 ممالک نیوزی لینڈ اور سوئٹزرلینڈ کے ہاں بھی مکمل جمہوری اقدار کے ساتھ سماجی ،معاشی، انتظامی، مذہبی سرگرمیاں سرانجام دی جاتی ہیں۔
دنیا کے 167 ممالک میں جمہوری اقدار کے تحت معاشروں کی اجتماعی سرگرمیوں کے امور نمٹانے کی درجہ بندی کے کل 10 پوائنٹ سے 9،81 پوائنٹ حاصل کرکے ناروے پہلے نمبر پر، نیوزی لینڈ 9،61 پوائنٹ لے کر دوسرے نمبر پر اور سویڈن 9،39 نمبر لے کر تیسرے نمبر پر ہے۔
167 ممالک کی جمہوری درجہ بندی کی فہرست کے آخری نمبروں میں افغانستان 167 نمبر پر، میانمار 166 نمبر پر، جنوبی کوریا 165 نمبر پر سب سے کم درجہ جمہوری اقدار کے ممالک قرار دیئے گئے۔ دوسرے لفظوں میں ان ممالک میں مکمل آمرانہ نظام ہے۔
پاکستان کا 2024 کی جمہوری درجہ بندی میں 118نمبر تھا، جو کہ 2025 میں 6 پوائنٹ گر کر 124 نمبر پر آگیا۔ دوسری طرف بھارت 41 نمبر پر ، بھوٹان 79 نمبر پر، نیپال 96 نمبر پر، بنگلہ دیش 100 نمبر پر جمہوری درجہ بندی میں جگہ حاصل کر سکے۔ بین الاقوامی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کے انٹیلیجنس یونٹ ’ای آئی یو‘ کے ڈیموکریسی انڈیکس 2025 میں ملکوں کی درجہ بندی مکمل جمہوریت، ناقص جمہوریت، ہائبرڈ نظام اور آمرانہ نظام کے تناظر میں کی گئی ہے۔
جمہوری درجہ بندی 124 کے نمبر پر آنے کی وجہ سے اب پاکستان ہائبرڈ نظام سے نکل کر آمرانہ نظام میں داخل ہوگیا۔ اکنامسٹ کے انٹیلیجنس یونٹ کے مطابق پاکستان کے سب سے مقبول سیاست دان عمران خان، جن کی جمہوری اقدار پر اپنی ساکھ مشکوک دکھائی دیتی ہے، ان کو 2024 انتخابات سے پہلے گرفتار کر کے جیل میں قید کر لیا گیا۔ پاکستان کی جمہوریت میں آمرانہ طرز عمل نمایاں ہے۔ خاص طور پر ملکی اہم فیصلے عوامی نمائندوں کے پلیٹ فارم پارلیمان کی بجائے ملکی طاقت ور اداروں کی ایما پر کیے جاتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کی سیاسی پارٹیاں جن کو جمہوری اقدار اورجمہوریت کی نرسری ہونا چاہیے، ان سیاسی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کا فقدان ہے۔ ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں اور طاقت کا مرکز بھی پارٹی یا اس کا کوئی عضو نہیں بلکہ ایک شخصیت ہی ہوتی ہے۔ جس کی قیادت کو پارٹی کے اندر کوئی چیلنج کر سکتا ہے نہ ہی اس کے فیصلے سے کوئی اختلاف کر سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں جبر اور آمریت کی فضا ان پارٹیوں کو جمہوریت کا مضبوط ستون نہیں بننے دیتی۔