کامیابی کے لئے جذبہ اور نعرہ کافی نہیں

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ کہ جب تک قوم کی مائیں اپنے بچوں کو دھرتی پر قربان کرتی رہیں گی اور نوجوان مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہیں  گے، ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔  اس سے پہلے گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف اعلان کرچکے ہیں کہ دہشت گردوں کو اتنا  گہرا دفن کیا جائے گا کہ وہ کبھی دوبارہ سر نہیں اٹھا سکیں گے۔ یہ دونوں بیانات   جوش تو دلاتے ہیں لیکن درپیش مسائل کا حل سامنے نہیں لاتے۔

سننے میں لیڈروں کی یہ باتیں خواہ کتنی ہی خوشگوار لگتی ہوں، ایسے نعرہ نما بیانات سے ملک کی کسی ایسی پالیسی کا پتہ نہیں چلتا جو ملک میں انتہا پسندی، دہشت گردی، منافرت و انتشار پر قابو پانے کے منصوبے کی حیثیت رکھتی ہو۔ جنرل عاصم منیر خلوص دل سے ملک سے دہشت گردی ختم کرنا چاہتے ہیں اور پاک فوج کے جوان اور افسر روزانہ کی بنیاد   پرجان کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔ بہاولپور میں طلبہ سے خطاب میں پاک فوج کے سربراہ نے انہیں قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی ماؤں کو خراج تحسین پیش کیا اور بجا طور سے نشاندہی کی  کہ ’جب تک ملک کی حفاظت کا جذبہ قائم ہے اور جب تک مائیں وطن کے لیے جان دینے والے سپوتوں کو میدان جنگ میں بھیجنے پر آمادہ و تیار رہیں گی ، ملک و قوم  کی سلامتی کو آنچ نہیں آسکتی‘۔

یہ جذبہ قابل قدر ہونے کے باوجود   زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔  اب وہ وقت نہیں ہے کہ سپہ  سالار گھوڑے پر بیٹھ کر جنگجوؤں کی قیادت کرتا  تھا اور اس کے پیچھے ہتھیار بند فوجی کسی ایک خاص مقصد یا قومی وقار کے لیے لڑنے مرنے پر آمادہ و تیار رہتے تھے۔ اب زمانہ تبدیل ہوچکا۔ اب صرف جذبہ کام نہیں کرتا بلکہ  کسی بھی جنگ کے لیے ہوشمندی سے  منصوبہ بندی کرنے اور موقع کی مناسبت سے اپنی صلاحیت کو استعمال کرکے دشمن کو کمزور یا ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بڑی تبدیلی   نوٹ کرلی جائے تو صورت حال سمجھی جاسکتی ہے کہ  تیر و تلوار کی لڑائی کے زمانے میں سردار آگے اور فوجی پیچھے ہوتے تھے ۔ اس کے برعکس اب فوجیوں کو ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت مورچوں میں تعینات کیا جاتا ہے یا کسی خاص علاقے میں پیش قدمی کے لیے روانہ کیا جاتا ہے۔ کمانڈر ز ، فوجیوں کے ہمراہ  براہ راست میدان جنگ میں اترنے کی بجائے کنٹرول روم میں بیٹھ جنگی حکمت عملی اور اپنے فوجیوں کی نقل و حرکت  پر نظر رکھنے اور صورت حال کے مطابق اسے تبدیل کرنے کا کام کرتے ہیں۔

جنگ جوئی کے حوالے سے  اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اب جنگ میں کامیابی کا انحصار  عددی برتری یا جذبہ جہاد سے زیادہ  اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی قوم کو کتنے وسائل دستیاب ہیں اور وہ کتنے جدید ہتھیار  دفاع یا پیش قدمی کے لئے فراہم کرسکتی ہے۔  یہی وجہ   ہے کہ دنیا کی بیشتر قومیں   اس مقصد کے لیے امریکہ جیسی بڑی طاقت کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں کیوں کہ  سب سے بڑی  معیشت ہونے  کی وجہ سے اس ملک نے ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کی ہے اور ایسے ہتھیار ایجاد کیے ہیں جن کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ یوکرین کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازعہ اور یورپی لیڈروں کی پریشانی کی بنیاد بھی یہی ہے کہ امریکہ اب اس جنگ سے  دست بردار ہونا چاہتا ہے۔ اور یوکرین کے علاوہ پورا یورپ یہ جانتا ہے کہ وہ مل کر بھی روس کے مقابلے میں یوکرین کی حفاظت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اسی لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے گھمنڈ، بدتہذیبی اور غیر سفارتی  رویوں کے باوجو ہر ملاقات یا اجلاس کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ کسی بھی طرح امریکہ کو ساتھ لے کر چلنا بے حد ضروری ہے۔

ورنہ گزشتہ تین سال کے دوران کیا یوکرینی ماؤں نے اپنے ہزاروں بیٹے مادر وطن کی حفاظت کے لیے سرحدوں پر قربان ہونے کے لیے نہیں  بھیجے ۔ کیا اب بھی یوکرینی سپاہی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے  ہر قربانی دینے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے؟ لیکن اس کے باوجود یوکرینی صدر ملک ملک بھاگ دوڑ کرتا ہے تاکہ روسی جنگی مشینری کا مقابلہ کرنے کے لیے  ہتھیار فراہم کرسکے۔ خالی جذبے سے لیس فوجی سرحد پر کسی بھاری بھر فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ  زیلنسکی  کو نیٹو ممالک   کے لیڈروں سے بار بار جنگ میں ساتھ دینے کی درخواست کرنا پڑتی ہے اور وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر و نائب صدر کی ترش کلامی  کے باوجود بعد میں ’ صدر ٹرمپ کا شکریہ۔ امریکہ کا شکریہ‘ کا پیغام ایکس پر جاری  کرنا پڑتا ہے۔

یہ صورت حال پاکستان میں تصادم اور جنگ جوئی کے مکالمے میں قابل غور ہونی چاہئے۔ اب دنیا نے دریافت کرلیا ہے کہ نہ تو جنگ ٹھوس مالی وسائل اور اعلی ٹیکنالوجی کے بغیر جیتی جاسکتی ہے اور نہ ہی جنگ سے کوئی مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک بات بھی درست ہوتی تو عرب ممالک اپنے کثیر مالی وسائل کی بنیاد پر خود کو محفوظ محسوس کرتے اور امریکہ  کی ’طفیلی ریاستیں‘ بننے پر مجبور نہ ہوتے۔ اور اگر جنگ مسائل کا حل ہوتی تو اسرائیل اپنی بے پناہ اعلیٰ جنگی مشینری اور امریکہ کی مکمل سرپرستی کے ساتھ اپنے مخالف عناصر کو ختم کرچکا ہوتا یا  ’امن ‘ کا ہدف حاصل کرچکا ہوتا۔ امن  کے لیے  کسی بھی علاقے کے لوگوں کو مل جل کر کسی ایسے چارٹر پر متفق ہونے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں باہمی احترام ، بنیادی اصول کے طور پر درج کیا جائے۔ اس کے بعد  سب لوگ ایک دوسرے کے مؤقف کو جان کر کوئی ایسا متوازن راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں جو سب کے لیے بقائے باہمی کا پیغام لے کر آئے۔

کسی  ملک یا معاشرے میں اختلاف رائے  ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے لیکن  اہم یہ ہے کہ اختلافات کو ختم یا کم کرنے کے لیے کسی قوم نے کیا بنیاد فراہم کی ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کے مقابلے میں اسی مشکل کا سامنا ہے۔ ابھی تک یہ طے نہیں کیا جاسکا کہ اختلاف رائے کے اظہار اور اسے قبول کرنے کے  لیے کون سے ذرائع جائز اور مناسب ہیں۔ لیکن یہ نوبت اسی وقت آئے گی جب پاکستانی قوم یہ مان لے کہ اختلاف رائے  کسی بھی انسانی گروہ  کے مزاج کا ایک فطری اور ضروری پہلو ہے۔ اس لیے اختلاف رائے کو دشمنی کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا اور نہ  ہی کسی اختلاف کو ختم کرنے کے لیے ریاستی طاقت کو استعمال کرنا چاہئے۔ اس وقت پاکستان اس مشکل کا سامنا کررہا ہے کہ جس بیانیہ کو گزشتہ تین چار دہائیوں کے دوران اسٹریٹیجک  ضرورتوں کے نام پر استوار کیا گیا تھا، اس سے دست برداری کا باقاعدہ اعلان  نہیں کیا گیا۔ یعنی ابھی تک یہ غلطی نہیں مانی جاسکی کہ اختلاف رائے  کے لیے قتل و غارت، تشدد اور بدامنی کی اجازت نہیں دی  جاسکتی۔ مگر حدود کا تعین اسی وقت ہوسکتا ہے  جب   اختلاف کا بنیادی اصول تسلیم کرلیا جائے۔ پاکستانی معاشرے میں ابھی تک اختلاف کو دشمنی سمجھا جاتا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیئے وہی  ہتھکنڈا اختیار کیا جاتا ہے جو دشمن سے نمٹنے  کے لیے ’کلاسیکی  حکمت‘ ہمیں بتاتی ہے کہ اسے نیست و نابود کردیا جائے۔ شاید ہمارے موجودہ مسائل کی بنیادی وجہ یہی غلط تفہیم بھی ہے۔

پاک فوج اس وقت  مختلف  وجوہات کی بنیاد پر دہشت گردی میں مصروف عناصر کے خلاف مصروف جنگ ہے۔ اب اس جنگ  کو سیاسی   بیانیوں کی شکل دے کر ایک دوسرے کو مطعون کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آرمی چیف کا کہنا  ہے کہ ’ جب بھی ریاست ان عناصر کے خلاف اقدام کرتی ہے تو جعلی بیانیے کے ذریعے ان کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کی جاتی ہے‘۔  دوسری طرف تحریک انصاف کے بانی عمران خان چونکہ اس وقت پاک فوج کو تعاون پر مجبور کرنے کے لیے ہر قسم کا دباؤ استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں لہذا انہوں نے ٹائم میگزین میں لکھے گئے ایک مضمون میں   دعویٰ کیا ہے کہ ’حکومت فوج کو دہشت گردوں کے پیچھے بھیجنے کی بجائے، سیاسی طور سے ہمیں کمزور کرنے  اور  ہماری طاقت توڑنے کے لیے استعمال کررہی ہے‘۔  اس دعوے کے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے جاسکتے کہ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف اس لیے کمزور پڑ رہی ہے کیوں کہ اس کی زیادہ طاقت تحریک انصاف کو دبانے پر صرف ہورہی ہے۔ لیکن ایسے دعوؤں سے اختلاف، بداعتمادی اور تصادم کی ایسی کیفیت ضرور پیدا کی جاسکتی ہے جس میں   ‘مارو یا مرجاؤ‘ کا رویہ عام کیا جاتا ہے۔ حالانکہ سمجھنا چاہئے کہ ایک ملک کی حدود میں سب لوگ، سب پارٹیاں، سب مختلف الخیال عناصر اپنے اپنے اختلاف کے ساتھ مل جل کر بھی رہ سکتے ہیں بشرطیکہ  اپنی بات  سامنے لانے کا حق مانگتے ہوئے دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرلیا جائے۔

ملک میں اس وقت ایک طرف شمالی علاقوں میں دہشت گردی میں اضافہ ہؤا ہے اور دوسری طرف سیاسی عناصر اس بات پر شدید اختلاف کا شکار ہیں کہ ملک  پر حکومت کا حق کسے حاصل ہے۔ انتخابات کو جعلی اور دھاندلی زدہ قراد دے کر مسترد کیا جاچکا ہے اور سیاسی مکالمہ کے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔ حکومت اپنی حد تک مخالفین کو آوازاٹھانے کی اجازت دینے  پر آمادہ نہیں ہے کیوں کہ اسے گمان ہے کہ ریاستی قوتیں اس کی پشت پر ہیں۔ ریاستی قوت جس کی نمائیندگی عسکری قیادت کرتی ہے ، ملک کو معاشی طور سے ترقی کرتے دیکھنا چاہتی ہے اور اپنی صوابدید کے مطابق موجودہ حکومت کو کام کرنے کا موقع دینا چاہتی ہے۔ اس طریقے سے البتہ یہ شبہات قوی ہورہے ہیں کہ فوج سیاسی و سماجی  فیصلوں میں اپنے آئینی اختیار سے زیادہ  حصہ لے  رہی ہے۔ سیاسی پارٹیاں  سیاست میں فوج کی مداخلت  کے بارے میں نعرے ضرور لگاتی ہیں لیکن  اس کے ساتھ ہی ہر پارٹی عسکری قیادت کو اپنےساتھ ملا کر ’دشمنوں‘ کا گلا بھی کاٹنا چاہتی ہے۔ اس مسئلہ کو وسیع سیاسی اتفاق رائے کے بغیر حل نہیں کیا جاسکتا۔

جنرل عاصم منیر نے فوج پر ناروا نکتہ چینی اور اس کے خلاف افسوسناک پروپیگنڈا کی وجہ سے اب نوجوانوں سے مکالمہ کرنے اور براہ راست ان سے رابطے بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہیں سیاسی پارٹیوں کی  مفاد پرستی اور ذات کے حصار  کااسیر ہوکر بیانیے  مارکیٹ  کرنے کی وجہ سے   فوج کی کمٹمنٹ اور عزم کے بارے میں بیان جاری کرنے پڑتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے کہ وہ سماجی ، معاشی اور سیاسی منصوبوں میں فوج کی شرکت کو محدود کریں۔  ان معاملات سے فوج کی دست برداری سے فوج اور عام لوگوں کے بیچ جو  حد فاصل قائم ہوگی، وہی فوج کے احترام اور وقار میں دائمی اضافہ کاسبب بنے گی۔  اگر سیاسی پارٹیاں فوج کو سیاست میں گھسیٹنا چاہتی ہیں تو  عسکری قیادت کو  یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ایسا کوئی اقدام اب فوج کے اپنے مفاد میں نہیں ہے۔