یوکرین کے لیے یورپی حمایت اور امریکی تعاون پر اصرار
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 03 / مارچ / 2025
برطانوی وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کی سربراہی میں یورپی لیڈروں نے یوکرین کے دفاع کے لیے یک جہتی کااعلان کیا ہے اور امریکی امن منصوبے کے مقابلے میں امن کے لیے یورپی تجاویز تیار کی گئی ہیں جنہیں اسٹرامر میکرون منصوبہ کا نام دیا جارہا ہے۔ البتہ ابھی ان تجاویز کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ لندن اجلاس میں البتہ ایک طرف یوکرین کی حفاظت پر اتفاق کیا گیا ، دوسری طرف اس پہلو پر زور دیا گیا کہ امن کا کوئی بھی منصوبہ امریکہ کے ساتھ مل کر ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم اسٹامر نے بیشتریورپی ممالک کے لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ براعظم یورپ کی سلامتی کے حوالے سے فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ اب باتوں کا وقت نہیں ہے بلکہ عمل کرنے کا وقت ہے۔ اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم نے یوکرین کو میزائلوں کی خریداری کے لیے 1ارب60 کروڑ اسٹرلنگ پاؤنڈ امداد دینے کا اعلان بھی کیا۔ یورپی لیڈروں نے دفاعی اخراجات میں اضافہ پر اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ یورپی ممالک اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔ تاہم اسی کے ساتھ یہ لیڈر سلامتی کے سوال پر امریکہ کی حمایت اور تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہیں۔
دوسری طرف ماسکو میں یوکرین کے سوال پر امریکہ اور یورپ میں پیدا ہونے والے اختلافات پر اطمینان محسوس کیا جارہا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو نے کہا ہے کہ یوکرین میں فوجی آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام اہداف پورے نہیں کر لیے جاتے۔ یوکرین کے ساتھ امن کا کوئی منصوبہ ابھی ہمارے ایجنڈے پر نہیں ہے۔ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ مغربی اتحاد میں اب اتحاد کم نظر آ رہا ہے۔ مغربی اتحاد کی ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا آغاز ہوگیا ہے اور ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آرہے ہیں۔ کچھ ممالک کا گروپ بظاہر اب بھی جنگ چاہتا ہے۔ یہ ملک یوکرین کی جنگ جاری رکھنے میں حمایت کر رہے ہیں اور انہیں فوجی کارروائیوں کے لیےرسد فراہم کر رہے ہیں‘۔
موجودہ صورت حال میں پایا جانے والا یہ اطمینان قابل فہم ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یوکرینی جنگ کے بارے میں امریکی پوزیشن تبدیل ہوئی ہے اور وہ سابق صدر بائیڈن کی طرف روس کو تنہا کرنے کے حامی بھی نہیں ہیں بلکہ ان کی تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ یوکرین کی جنگ روسی شرائط پر بند کردی جائے اور یوکرین ان تمام شرائط کو مان لے جن پر امریکہ روس کے ساتھ اتفاق کرتا ہے۔ ان شرائط میں یوکرین کے 20 فیصد علاقے پر روس کا قبضہ بحال رہے گا جس پر اس نے تین سال جنگ کے دوران تسلط قائم کیا ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی کا مؤقف رہا ہے کہ جنگ اس وقت تک بند نہیں ہوسکتی جب تک روس مقبوضہ یوکرینی علاقوں سے واپس نہیں جاتا۔ اب لگتا ہے کہ یہ خواہش شاید کبھی پوری نہ ہوسکے۔
جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی کی بظاہر وجہ بھی ٹرمپ کا یہی مؤقف تھا کہ یوکرین اپنی پوزیشن تبدیل کرے اور جنگ بند کرنے کے لیے امریکہ کا مشورہ مان لے۔ زیلنسکی نے جب روس کو جارح اور پوتن کو اپنے لوگوں کا قتل قرار دیتے ہوئے اس تجویز سے اختلاف کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب صدر وینس شدید ناراض ہوگئے۔ اور تمام سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے یوکرینی صدر پر واضح کیا کہ ’آپ کے پاس کوئی کارڈ نہیں ہیں۔ آپ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ شرائط منوانے پراصرار کریں۔ امریکہ کے بغیر جنگ میں یوکرین کو تباہ کن صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔ اس تلخ کلامی کے بعد یہ مالقات ختم ہوگئی اور زیلنسکی معدنیات کے مجوزہ معاہدے پر دستخط کیے بغیر وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوگئے۔ وائٹ ہاؤس نے دوونوں لیڈروں کی مشترکہ پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا بھی اعلان کردیا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ یوکرینی صدر ابھی امن پر تیار نہیں ہیں تاہم جب وہ امن چاہیں تو واپس آسکتے ہیں۔
یورپ میں وائٹ ہاؤس میں زیلنسکی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر شدید رد عمل دیکھنے میں آیا اوراسے جمہوری اقدار اور یوکرین کی خودمختاری کے خلاف مؤقف قرار دیا گیا۔ یورپ میں عام طور سے اس خیال کا اظہار کیا گیا کہ یورپ یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا اور اس جنگ میں اسے تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ اس مؤقف کی تکرار اب لندن کانفرنس میں بھی سننے میں آئی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ابھی یورپی لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کو ’ناقابل اعتبارحلیف ‘ کہنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کئیر اسٹارمر نے اگرچہ یوکرینی صدر کا گرمجوشی سے استقبال کیاا ور تمام یورپی لیڈروں نے ان کے مؤقف کی تائید کی لیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ کو اس عمل میں شامل رکھنے اور یوکرین کے سوال پر اس کے تحفظات دور کرنے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ یوکرین جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کا اثریوں بھی دکھائی دیتا ہے کہ اب یورپی لیڈر جنگ جاری رکھنے کی بجائے اسے بند کرانے اور کسی بھی طرح جنگ بندی کی مانیٹرنگ کو مؤثر بنانے کی بات کرتے ہیں۔ اس سے پہلے عام طور سے روس کی شکست اور یوکرینی علاقوں سے واپسی کا مطالبہ سر فہرست ہوتا تھا۔
وزیر اعظم اسٹارمر نے فرانس کے صدر میکرون کے ساتھ مل کر یوکرین میں امن کے لیے جو تجاویز تیار کی ہیں، ان کا باقاعدہ اعلان تو نہیں کیا گیا لیکن ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان تجاویزمیں جو نکات شامل ہیں، ان میں یوکرین کے دفاع کو مضبوط کرنا، یورپ کی طرف سے سکیورٹی کی ضمانت اور اس منصوبہ کے لیے امریکہ کی حمایت کا اصول شامل ہے تاکہ روس طے شدہ امن شرائط سے انحراف نہ کرے۔ بعد میں فرانسیسی صدر نے میڈیا سے باتوں میں ان تجاویز کے بارے میں کچھ اشارے دیے ہیں جن میں تین ماہ کی عبوری جنگ بندی کا معاہدہ کرایا جائے گا جس کے دوران قابل اعتبار یورپی امن فوج جنگ بندی کی نگرانی کرے گی۔ جبکہ فضائی وانٹیلی جنس نگرانی کے لیے امریکی تعاون پر انحصار کیا جائے گا۔ ان تجاویز پر اب برطانیہ کے وزیر اعظم امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے اور انہیں کسی متفقہ فارمولے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے پہلے ٹرمپ وزیر اعظم اسٹارمر اور صدر میکرون کی اس خواہش کو مسترد کرچکے ہیں کہ امریکہ یوکرین کی فوجی امداد جاری رکھے۔ لندن کانفرنس میں البتہ یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ یورپی ممالک کو خود یوکرین اور براعظم کی سلامتی کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑےگا۔
لندن کانفرنس میں یہ خواہش سامنے آئی ہے کہ یورپ ابھی تک یوکرین کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے کیوں کہ یوکرین کی مکمل ہزیمت کی صورت میں یورپ کی سکیورٹی کوشدید خطرہ لاحق ہوگا۔ اسی لیے اب یورپین یونین اس ہفتے کے دوران یوکرین کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کرنے والی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یورپی لیڈر چاہتے ہیں کہ یوکرین کا معاملہ امریکہ اور روس ہی مل کر طے نہ کریں بلکہ یورپ کو بھی اس میں شامل کیا جائے اور اس کی رائے کو وقعت دی جائے۔ لندن کانفرنس میں جن امن تجاویز پر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، ان میں یورپی شراکت کا اصول ہی سر فہرست ہے۔ یوکرینی صدر نے ان تجاویز پر کوئی تبصرہ تو نہیں کیا ہے لیکن ان کے پاس اس رائے کے ساتھ چلنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے ورنہ انہیں یورپ کی حمایت سے محروم ہونا پڑے گا۔
یہ صورت حال بظاہر یوکرین کے مؤقف کی ناکامی ہے اور اب امریکہ کے علاوہ یورپی لیڈر بھی جنگ بند کرنے اور کسی بھی طرح یورپ امریکہ اتحاد قائم رکھنے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔ لندن کانفرنس میں سامنے آنے والی تجاویز کے بعد امید ہے کہ شاید واشنگٹن بھی اس شرط پر اس امن معاہدہ میں شامل ہوجائے کہ اسے اس معاملہ میں زیر بار نہ ہونا پڑے اور روس کو تنہا کرنے کی کوششیں ترک کی جائیں۔ روس ، یوکرین کے مقبوضہ علاقوں پر قابض رہ کر کسی امن معاہدے کو اپنی کامیابی ہی سمجھے گا۔ زیلنسکی نے لندن میں ایک بار پھر امریکہ کو معدنیات پر معاہدہ کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اس طرح ٹرمپ نے دباؤ ڈال کر کام نکالنے کی جو پالیسی اختیار کی ہے وہ فی الوقت کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
تاہم امریکہ اور روس کے درمیان طویل المدت اشتراک کی توقع شاید قبل از وقت ہوگی۔ دونوں ملکوں کے درمیان سات آٹھ دہائیوں پر مشتمل دشمنی و رقابت کا رشتہ ہے۔ اسے محض ایک صدر کی مہم جویانہ طبیعت سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ڈونلڈ ٹرمپ روس کو ایک بار پھر عالمی نظام میں واپسی کا ایک با وقار راستہ فراہم کرنے کا سبب ضرور بن رہے ہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ ٹرمپ ، روسی صدر پوتن سے اس رعایت کی کیا قیمت طلب کرتے ہیں ۔ اور ایسی صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلق و رشتہ کیسے آگے بڑھے گا۔