رمضان المبارک کی آمد پر اوسلو سٹی ہال پر ہلال کی سجاوٹ
- تحریر خالد محمود اوسلو
- بدھ 05 / مارچ / 2025
اوسلو کی شہری حکومت نے اس سال بھی ماہ رمضان کی آمد پر اوسلو سٹی ہال کو جانے والی مرکزی شاہراہ کو دمکتے ہلال سے سجا دیا ہے جو شاہراہ کے دونوں اطراف نصب کمبوں کے ساتھ خوبصورتی سے لٹکائے گئے ہیں۔ شام ڈھلتے ہی یہ ہلال جگمگانے لگتے ہیں۔
انہیں دیکھ کر یقیناً ہر مسلمان کا دل فرحت مسرت سے لبریز ہو جاتا ہے۔ اوسلو کی شہری حکومت کا یہ اقدام اوسلو کے مسلمان شہریوں کی اس ماہ مقدس سے عقیدت و روحانی وابستگی کے احترام کا اعتراف ہے۔ یہ منظر دیکھ کر اوسلو کے مسلمان یہاں کا شہری ہونے پر فخر کرتے اپنا سر تشکر سے جھکا لیتے ہوں گے کہ وہ ایسے مذہبی رواداری کے علمبردار شہر کے باسی ہیں۔ شہری حکومت کا یہ اقدام اپنے اندر یہ پیغام لیے ہوئے ہے کہ اوسلو ایک کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی شہر ہے جس میں بسنے والے ہر مذہب کے افراد برابری کی بنیاد پر اس پُرامن شہر کا حصہ ہیں۔ اس مذہبی تہواروں کا اس طرح سرعام پرچار شہری حکومت کی طرف سے تمام مذاہب کو شہر میں مساوی مقام کا احساس دینا مقصود ہے۔
شہری حکومت کے اس قابل تعریف اقدام میں نہ تو کسی احسان مندی کا عنصر ہے اور نہ ہی اس کی بنیاد مسلمانوں یا کسی دوسری مذہبی اقلیت کی طرف سے کسی سیاسی مطالبہ کے نتیجے میں متعارف کرایا گیا ہے۔ بلکہ یہ اوسلو جیسے جمہوری معاشرہ کی ان اقدار کی عکاسی ہے جس کا بنیادی فلسفہ تمام شہریوں کو اپنے شہر کے انتظام وانصرام میں برابر کی شراکت داری کا احساس دلانا ہے۔ ساتھ ہی ہر شہری کو اپنے شہر کی فلاح و بقا کے فرائض کی ادائیگی کی یاد دہانی کے ساتھ یہ باور کراتا ہے ک اپنے شہر کو پُرامن رکھنے اور سنوارنے میں ہر شہری کو اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کرناہے۔
برابری کے حقوق کامستحق ٹھہرائے جانے والا یہ حکومتی عمل فرائض کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے سماجی حقوق کے ساتھ مذہبی عقیدہ کی آزادی کا مقصد کسی بھی قسم کے احساس محرومی کا خاتمہ ہوتا ہے جس سے معاشرے میں عدم مساوات کے شبہات جنم لیتے ہیں۔ اور انتشار جڑ پکڑتا ہے جو ثقافتی تصادم کا موجب بن سکتاہے۔ لہذا ماہ رمضان کی آمد پر مسلمانوں کے لیے یہ خیر سگالی یہ اظہار یقیناً اوسلو میں مزید مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی و رواداری کے فروغ کی مددگاربنے گا۔ شہر اوسلو کی جانب سے جو وسیع القلبی مسلمانوں کے مذہب کے احترام میں دکھائی گئی ہے، اس کے بدلے میں مسلمان آبادی پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے شہر کے کثیرالمذہبی معاشرہ کو مزید فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ہر اول دستہ کے طور پر کمر بستہ رہیں۔ کیونکہ کہ سرکاری سطح پر کسی بھی مذہب اور ثقافت کو شہری شناخت میں شامل کرنے کا مقصد اُس شناخت کے حامل شہریوں کو ذمہ داریوں میں بھی شراکت دار بنانا ہوتا ہے۔
اس طرح شہری شناخت کا تحفظ اور احترام ہر مکتب فکر اور مذہب سے منسلک افراد کے اولین فرض میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جب آپ کے مذہب کو احترام ملے اور آزادی سے اس پر عمل کرنے کا حق دیا جائے تو پھر ایسے معاشرہ کو دل و جان سے قبول کرتے ہوئے اس کی ان اقدار کا تحفظ لازم ہوتا ہے، جن کی بنیاد پر آپ کو عقیدے کا احترام میسر آتاہے۔ اوسلو کے مسلمانوں کو بھی اب اسی طرح دوسرے مذاہب کے احترام کو اپنے شہری فرض کا حصہ بنانا چاہیے۔ کیونکہ مسلمانوں کے مذہب کے لیے اظہار احترام کی بنیاد سماج کی اس قدر پہ قائم ہے کہ تمام مذاہب اور عقیدوں کا احترام کیا جائے۔ یہ ایک ایسا آفاقی اصول ہے جو کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی معاشروں کی پُرامن و ہم آہنگی پر اقامت کے لیے لازم وملزوم ہے۔ لہذا اس اصول سے مستفید ہوتے ہوئے مسلمانوں پہ بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ اسی اصول کی پاسداری میں دوسرے مذاہب کے تہواروں پر ایسے خیر سگالی کا اظہار کریں جس میں مسلمانوں کی وسیع القلبی جھلکے۔
ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کثیرالثقافتی و کثیرالمذہبی معاشرہ کا قیام کچھ شہری ذمہ داریوں کا تقاضہ بھی کرتا ہے۔ ان میں سب سے اہم جمہوری نظام میں شرکت ہے جو شہریوں کی رائے دہی سے حکومت کا انتخاب کرتی ہے لہذا ہر شہری کو جمہوری عمل کا لازمی حصہ بننا چاہیے۔ اور ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے ایسے افراد اور سیاسی جماعتوں کو ترجیع دیں جو مذہبی رواداری اور برداشت کےفروغ کی حامی ہیں۔ یاد رہے کہ کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی معاشروں میں مذہبی رواداری اور برداشت کا سب سے بڑا بہرہ مند اقلیتی طبقہ ہوتاہے۔ لہذا جمہوری عمل کا حصۂ بننے میں ہمارا مفاد وابستہ ہے۔ جگمگاتے ہلال کا فرحت آمیز نظارہ کرتے ہوئے معاشرتی فریضہ سے ہرگز غافل نہ ہوں۔