ہمارا چاند ڈھونڈنا اور چاند کا شرمانا

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قمری سال میں ایک مہینہ روزے رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس مہینے کا نام رمضان ہے۔ ہم اس مہینے کو برکتوں والا اور مقدس مہینہ کہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس پورے ماہ میں شیطان مردود کو قید کر دیا جاتا ہے۔

اگر یہ سچ ہے تو پھر اس مہینے ہمیں یہ پرکھنے کا موقع بھی مل سکتا ہے کہ ہمارے کتنے گناہ ہیں جو ہم سے شیطان سرزد کرواتا ہے۔ اور کتنے گناہ ہم خود جان بوجھ کر اللہ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے کرتے ہیں۔ ہم رمضان کے مہینے میں ہونے والے جرائم کے اعدادوشمار لے کر انہیں تمام مہینوں پر تقسیم کر کے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جن 11 ماہ میں شیطان کھلا رہا ان مہینوں میں ملک کے اندر کتنے جرائم ہوئے پھر انہیں گیارہ سے تقسیم کر کے ایک ماہ کے اعداد و شمار لے کر ان کا ماہ رمضان کے اعدادوشمار کے ساتھ موازنہ کر سکتے ہیں کہ کتنا فرق ہے پھر اسی سے ہم حساب لگا لیں گے کہ سال بھر میں کتنے جرائم ہم خود کرتے ہیں اور کتنے بذریعہ شیطان کرتے ہیں۔

رمضان کا آغاز اور اختتام چاند دیکھ کر ہوتا ہے اس کے لیے مسلم ممالک نے کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں جو چاند کے ہونے یا نہ ہونے کے اعلان کے ساتھ رمضان اور عید کی تاریخوں کا اعلان کرتی ہیں۔ دوسرے ممالک کا تو مجھے زیادہ علم نہیں ہے لیکن پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی مستقل بنیادوں پر کام کرتی ہے۔ یوں تو ہر ماہ کے چاند کا اعلان کرتی ہے لیکن عام لوگوں کو مخصوص مہینوں کے چاند سے غرض ہوتی ہے جس میں رمضان، عیدین، حج اور عاشورہ شامل ہیں۔ کیونکہ ہمارا سارا نظام عیسوی مہینوں کے مطابق چلتا ہے، صرف رمضان اور عید وغیرہ ہم قمری مہینے کے مطابق کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس جدید دور میں ایسی کمیٹیوں کی ضرورت ہے؟ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین ایک عالم دین ہوتے ہیں جن کی اچھی خاصی تنخواہ، مراعات اور پروٹوکول ہوتا ہے جو عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا ہے۔ اور پھر چاند دیکھنے کے موقع پر ان کے ساتھ محکمہ موسمیات والے بھی شامل ہوتے ہیں۔ کیا یہ کام صرف محکمہ موسمیات نہیں کر سکتا ہے؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں پہلے دن کا چاند سورج کے غروب ہونے کے فوراً بعد نظر آ جاتا ہے اور کچھ دیر سامنے رہتا ہے۔ شاید زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ مگر ہمارے ہاں چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان اکثر نماز عشا کے وقت کیا جاتا ہے۔ رمضان اور عیدین کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے علاوہ زونل کمیٹیاں ہوتی ہیں، محکمہ موسمیات والے ہوتے ہیں، اس طرح ملک کے مختلف مقامات پر درجنوں یا بیسیوں لوگ چاند کی تلاش کرتے ہیں۔ ان سب کے لیے کھانے کا اہتمام تو کیا جاتا ہے لیکن ان کے معاوضے کا مجھے کچھ علم نہیں کہ ان سب کو معاوضہ ادا کیا جاتا ہے اور کتنا کیا جاتا ہے۔

ہم چاند کا اعلان دیر سے ہونے کا مطلب یہ بھی لے سکتے ہیں کہ شاید یہ چاند دیکھنے والے تمام حضرات چاند کے انتظار کے ساتھ ساتھ کھانے کا بھی انتظار کرتے ہیں اور چاند نظر آ بھی جائے تو کھانا کھانے کے بعد باقاعدہ پروٹوکول کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے۔ اس لیے رات دیر گئے ہمیں اطلاع ملتی ہے کہ کل روزہ ہوگا یا نہیں، روزہ ہوگا یا عید ہوگی۔ کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ سارے ملک میں لوگوں نے نماز تراویح پڑھ لی تو بعد میں اعلان ہوا کہ کل روزہ نہیں عید ہوگی۔

جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزوں کے حکم کا نزول ہوا تھا، اس زمانے میں تو لوگ رات کو راستوں کا تعین بھی چاند اور ستاروں کو دیکھ کر کیا کرتے تھے۔ کیونکہ اس وقت گھڑیاں تھیں نہ گوگل نیویگیشن کی سہولت حاصل تھی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ انسان ترقی کرتا گیا اور اب تو سمندر کی تہہ سے لے کر دوسرے سیاروں تک انسان بہت کچھ تسخیر کر چکا ہے اور زندگی گزارنے کے نت نئے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔ پیدل، اونٹوں، گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کے ذریعے کیا جانے والا سفر اب گاڑیوں اور جہازوں کے ذریعے ہوکر مہینوں، ہفتوں اور دنوں سے سکڑ کر گھنٹوں اور منٹوں میں سما چکا ہے۔ جہاں پیدل یا کسی جانور پر بیٹھ کر پیغامات پہنچانے میں مہینے یا ہفتے لگتے تھے، وہاں اب ہم ایک دو منٹ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک نہ صرف پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ بلکہ آمنے سامنے ایک دوسرے کو دیکھ کر بات بھی کر سکتے ہیں۔ 15 سیکنڈ میں نمبر لگا کر ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں سے بات کر سکتے ہیں، تو کیا چاند کو ڈھونڈنے کا کوئی آسان جدید طریقہ ہمیں نہیں مل سکتا۔ جس سے ہم کئی ماہ یا دن پہلے سے ہی جان سکیں کہ فلاں تاریخ سے پہلا روزہ ہوگا اور فلاں دن عید ہوگی؟ یا پھر چاند صرف مولانا حضرات کے سامنے آتا ہے باقی لوگوں سے شرماتا ہے؟

ہمیں تو آج تک اس بات کی بھی سمجھ نہیں آئی کہ علم کا داڑھی سے کیا تعلق ہے؟ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ چاند سے پردہ ہٹانے سے لے کر نمازوں کی امامت تک اور ہر طرح کے فتوؤں سے لے کر مذہبی تعلیم دینے تک صرف وہی حضرات اہل سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے داڑھی رکھی ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ داڑھی انبیا کی سنت ہے مسلمانوں کو داڑھی رکھنی چاہیے۔ لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ داڑھی کے بغیر علم نہیں سیکھا جا سکتا۔ چاند نہیں دیکھا جا سکتا، امامت نہیں ہو سکتی، درس نہیں دیا جا سکتا، علم کی روشنی میں کسی مسئلے کا حل نہیں بتایا جا سکتا؟ یا تو یہ کہہ دیا جائے کہ بندہ داڑھی کے بغیر پورا مسلمان نہیں ہو سکتا پھر سب مسلمانوں کو داڑھی رکھنا لازمی قرار دیا جائے (افغانستان میں شاید یہ طریقہ رائج بھی ہے)۔

لیکن اگر داڑھی کو سنت کہہ کر یہ گنجائش چھوڑ دی گئی ہے کہ کوئی داڑھی رکھے نہ رکھے اس کی صوابدید ہے، اس سے ایمان میں کوئی فرق نہیں پڑتا تو پھر اس طرح کی مذہبی تعیناتیوں کے لیے داڑھی کیوں شرط ہے؟ ایک اور سوال کہ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا مطلب اللہ کا وہ حکم ہے جس کے مطابق ایک مقررہ وقت تک کھانے پینے اور زوجیت سے رک جانا، صبر کرنا ہے تاکہ ہم متقی ہو جائیں۔ لیکن افطاریوں کے بڑے بڑے دسترخوان سجانا تو فرض نہیں ہے؟