عاشقانِ عمران کی ٹرمپ سے عبث توقعات
- تحریر نصرت جاوید
- جمعرات 06 / مارچ / 2025
خود کو تھکانے اور آپ کو اْکتا دینے کی حد تک بارہا اس کالم کے ذریعے امریکہ میں مقیم عاشقان عمران کو نہایت خلوص اور عاجزی سے سمجھاتا رہا ہوں کہ ریاستوں کے دیگر ریاستوں کے ساتھ تعلقات طویل المدت مفادات پر مبنی ہوتے ہیں اور پاکستانی ریاست 1950 کی دہائی سے امریکی ریاست کی اتحادی ہونے کی حد تک ’دوست‘ بن چکی ہے۔
پاکستان میں جمہوری نظام کو مضبوط ومستحکم بنانا، ان دو ممالک کے مابین دوستی کا اصل سبب نہیں۔ کلیدی مقصد امریکہ کے دفاعی مفادات ہیں۔ سرد جنگ کے دنوں میں ترجیح کمیونزم کے فروغ کو روکنا تھا۔ ’سرد جنگ‘ 1980 کی دہائی میں ’افغان جہاد‘ کی صورت ’گرم‘ ہوئی۔ اس گرمی کو آمر مطلق جنرل ضیا نے بھڑکائے رکھا اور معاملہ سوویت یونین کے کامل انہدام تک پہنچا۔ روس کی افغانستان میں شکست کے بعد وہاں موجود ’دہشت گرد‘ امریکی ریاست کا دردِ سر ہوئے۔ ان کے خلاف جنگ کا فیصلہ ہوا تو اس کی قیادت بھی جمہوری طورپر منتخب کسی پاکستانی رہ نما کو نصیب نہ ہوئی۔ جنرل مشرف ’روشن خیال‘ بن کر اس کے قائد بنے۔
امریکہ 21 برسوں تک افغانستان پر قابض رہنے کے باوجود بالآخر اس ملک سے ذلت آمیز انداز میں رخصت ہوا۔ اس کی رخصتی کے بعد طالبان فاتحین کی صورت کابل لوٹ آئے مگر ’اصل اسلام‘ کی پرچارک ہوئی داعش نے ان کے ایمان واقتدار پر سوال اٹھانا شروع کردئے۔ طالبان ان پر قابو پانے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ ایسے عالم میں خود کو ’دہشت گردی‘ سے محفوظ رکھنے کے لئے امریکہ ’عطار کے اسی لڑکے‘ سے حمایت کے حصول کو مجبور ہے جسے پاکستان کہا جاتا ہے۔
امریکہ میں مقیم عاشقان عمران مگر تاریخ اور ریاستی تقاضوں سے احمقانہ حد تک ناآشنا ہونے کی وجہ سے مصر رہے کہ 2024 کے نومبر میں منتخب ہوا صدر ڈونلڈٹرمپ روایت شکن ہے۔ فوج اور روائیتی ریاستی ایجنسیوں سے جنہیں وہ حقارت سے ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کہتا ہے، نفرت کرتا ہے۔ اس کی عمران خان سے دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ ان ملاقاتوں کی وجہ سے خان صاحب اسے ’اپنے جیسے‘ لگے۔ وہ محسوس کر رہا ہے کہ عمران خان صاحب ان دنوں پاکستان کی ’ڈیپ اسٹیٹ‘ کے ہاتھوں ’جعلی مقدمات‘ کا سامنا کرتے ہوئے شدید اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ امید لہٰذا ہمیں یہ دلائی جارہی تھی کہ اقتدار سنبھالتے ہی ٹرمپ ٹیلی فون اٹھا کر پاکستان میں طاقت کے ’اصل‘ مالکوں کو فون کرے گا اور عمران خان اڈیالہ جیل سے رہا ہو جائیں گے۔
اڈیالہ سے رہا ہونے کے بعد وہ عوامی تحریک کے ذریعے قبل از وقت انتخاب یقینی بنائیں گے جس کے نتیجے میں ان کی وزیر اعظم کے دفتر میں کم از کم دوتہائی اکثریت کے ساتھ واپسی یقینی ہوجائے گی۔ امریکی سیاست اور اس ملک کے ریاستِ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خارجہ امور کی بابت کم از کم 25 برس تک رپورٹنگ کی بدولت جمع ہوئے تجربے کی بنیاد پر تاہم میں اس کالم میں اصرار کرتا رہا کہ ٹرمپ سے عمران خان کی رہائی کی امیدیں باندھنا خام خیالی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تحریک انصاف اپنے قائد کو جیل سے رہا کروانے کے لئے ایک موثر سیاسی و قانونی حکمت عملی کا انتخاب کرے اور امریکہ سے اس تناظر میں کسی مدد کے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ ربّ کا صد شکر کہ میں درست ثابت ہوا۔
منگل کی رات امریکی صدر نے اپنے ملک کی پارلیمان سے خطاب کیا ہے۔ اس خطاب کے دوران عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس نے 60 سیکنڈ پاکستان کا شکریہ ادا کرنے میں صرف کئے۔ پاکستان کا شکریہ اس لئے واجب تھا کہ اس کی ریاست نے محمد شریف اللہ کو (جو جعفر کے نام سے بھی کام کرتا رہا) گرفتار کرلیا ہے۔ اس شخص کا تعلق مبینہ طورپر داعش سے بتایا جارہا ہے۔ اس تنظیم پر الزام ہے کہ اس نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران 26 اگست 2021 کی سہ پہر کابل ایئرپورٹ کے ’ایبی گیٹ‘ کہلاتے دروازے کے قریب خود کش حملے کا انتظام کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجی اور 170 افغان شہری ہلاک ہوئے۔ 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر امریکی میڈیا میں بہت تنقید ہوئی۔ بائیڈن کے علاوہ ٹرمپ کو بھی ان کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا کیونکہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کا فیصلہ ٹرمپ کے دور اقتدار میں ہوا تھا۔
امریکہ کی جاسوس ایجنسیاں کئی برسوں سے 26 اگست2021 کے روز ہوئے دھماکہ کے منصوبہ ساز کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اس کا سراغ لگا لیا تو طالبان حکومت نہیں ریاست پاکستان سے رابطہ ہوا کہ مبینہ منصوبہ ساز کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔ اطلاعات ہیں کہ سی آئی اے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالتے ہی اس ادارے کے ٹرمپ کی جانب سے لگائے سربراہ Ratcliffe John (جان ریٹ کلف) نے پاکستانی آئی ایس آئی کے سربراہ سے رابطہ کیا۔ بعدازاں ان دنوں کے مابین میونخ کانفرنس کے دوران بھی ایک ملاقات ہوئی۔ شریف اللہ کی شناخت اور تصدیق کے بعد اس کی گرفتاری کا فیصلہ ہوا۔ گرفتاری پاکستان کے ہاتھوں ہوئی۔ کسی امریکی ادارے کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ گرفتار ہوئے شریف اللہ کو اب بدھ کے روز امریکہ روانہ کر دیا جائے گا۔
شریف اللہ کی گرفتاری کی خبر ٹرمپ کو منگل کے دن امریکی پارلیمان کے اجلاس سے قبل مل گئی تھی۔ اسی باعث امریکی پارلیمان سے خطاب سے کئی گھنٹے قبل اس نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا کہ اس کی تقریر میں ا ہم خبر بھی دی جائے گی۔ بالآخراپنے خطاب کے دوران اس نے شریف اللہ کی گرفتاری کی خبر پھوڑی۔ وہ خبر سننے کے بعد امریکی پارلیمان میں موجود تمام افراد نے کھڑے ہوکر مذکورہ گرفتاری کو سراہنے کے لئے تالیاں بجائیں۔ گرفتاری کی اطلاع دینے کے بعد ٹرمپ نے کامل ایک منٹ تک پاکستان کا نام لے کر شریف اللہ کی گرفتاری کا شکریہ ادا کیا ہے۔
شریف اللہ کے امریکہ پہنچ جانے کے بعد مزید تفتیش ہوگی۔ اس کے نتیجے میں شاید داعش کے مزید ٹھکانوں پر حملہ کرکے وہاں پناہ گزین ہوئے ممکنہ خودکش بمبار بھی گرفتار ہوں۔ مختصراََ امریکہ اور پاکستان کی ریاستیں اپنی تاریخ کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ گرم جوش تعاون میں مصروف رہیں گی۔ داعش کے مبینہ دہشت گردوں کا سراغ لگاتے ہوئے ٹرمپ کو عمران خان یاد نہیں آئیں گے۔ امریکہ میں مقیم عاشقان عمران کو اب نئے صدر کا انتظار کرنا ہو گا۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)