افغانستان سے امریکی اسلحہ واپس لینے پر پاکستان کی بے معنی گرمجوشی
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 06 / مارچ / 2025
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکہ کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے کہ امریکہ 2021 میں افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑا ہؤا اسلحہ واپس لینا چاہتا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رفاقت علی خان نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ جلد افغانستان میں چھوڑا ہؤا اسلحہ واپس لے کیوں کہ اس اسلحہ کی وجہ سے پورا ریجن عدم استحکام کا شکار ہے۔
گزشتہ روز کانگرس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے تعاون سے کابل ائیرپورٹ پر دہشت گرد حملہ میں مطلوب شریف اللہ کی گرفتاری اور اس کی امریکہ واپسی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ اگست 2021 میں ہونے والے اس حملے میں 170 افغان باشندے جاں بحق ہوئے تھے جو امریکی افواج کی واپسی کے ساتھ ہی افغانستان چھوڑنے کے لیے ائیرپورٹ پر جمع تھے۔ اس خود کش دھماکہ میں 13 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ اس شدید حملہ کی منصوبہ بندی کرنے والوں کی تلاش میں تھا اور ہفتہ عشرہ پہلے پاکستانی حکام نے امریکی انٹیلی جنس اطلاع پر متعلقہ منصوبہ ساز کو پاک افغان سرحدی علاقے سے گرفتار کیا تھا۔ بعد میں اسے امریکہ کے حوالے کردیا گیا ۔ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے کانگرس سے خطاب میں ،اسے دہشت گردی کے خلاف بڑی امریکی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور تعاون کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان ٹرمپ کے اس بیان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے ایک امکان کے طور پر دیکھ رہا ہے ۔ یہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ پاکستان ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے معاملات پر تعاون کرتے ہوئے اس علاقے سے دہشت گردوں کے خاتمہ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف پاکستان خود کو درپیش دہشت گردی کے چیلنج سے نجات پاسکے گا اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ ایک بار پھر قربتیں بحال ہوسکیں گی۔ پاکستان صدر ٹرمپ کی طرف سے افغانستان میں چھوڑے ہوئے اسلحہ کو واپس لینے کے بیانات کو اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔ اب وزیر دفاع اور وزارت خارجہ کی طرف سے اس بارے میں بیانات سے واضح ہورہا ہے کہ پاکستانی حکومت اس بارے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہے۔
افغانستان میں امریکی حملہ اور دو دہائی سے زیادہ مدت تک وہاں ’جمہوریت‘ کے قیام اور انسانی حقو ق کی بحالی کے لیے اتحادی افواج کی کارروائی کا مقصد دہشت گردی کے خاتمہ کے علاوہ افغانستان میں امریکہ نواز حکومت کا قیام تھا تاکہ مستقبل میں اس کی سلامتی کو اس طرف سے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔ البتہ امریکہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہؤا۔ کثیر امریکی امداد کے بل بوتے پر بہت بڑی افغان فوج استوار کی گئی تھی ۔ تاہم وہ کابل پر طالبان کے ہلے میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں انسانی و جمہوری اقدار متعارف کرانے یا ان کی حفاظت کرنے کے نام پر افغانستان میں طویل مدت تک جنگ جاری رکھی تاہم وہ اس مقصد میں بری طرح ناکام ہوئے۔ امریکی افواج ، کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد بدحواسی کی کیفیت میں افغانستان سے فرار ہوئیں۔ دنیا کے سب سے طاقت ور ملک کی فوج بھاگتے ہوئے اپنا اسلحہ اور قیمتی ساز و سامان تک پیچھے چھوڑ گئی۔ اس موقع پر امریکی فوجی قیادت غیر منظم اور کمزور دکھائی دیتی تھی جو صرف اس بات پر خوش تھی کہ وہ اپنے تمام فوجیوں کو وہاں سے زندہ سلامت نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ البتہ اب اسے سابق امریکی حکومت کی ناکامی قرار دے کر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا توہین آمیز طریقے سے کیا گیا اور اس کی ذمہ داری سابق صدر جو بائیڈن پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بگرام کا فوجی اڈہ خالی کرنا بہت بڑی غلطی تھی کیوں کہ اسے امریکہ کے قبضے میں رہنا چاہئے تھا ۔ لیکن امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد یہ اڈہ اب چین کے قبضے میں آگیا ہے۔ بیشتر دوسری باتوں کی طرح بگرام کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ بھی کسی واضح ثبوت کے بغیر دائر کیا گیا ہے ۔اسی لیے کابل حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بگرام کا کنٹرول افغان فوجیوں کے پاس ہے۔ اسی تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی اسلحہ واپس لینے کی بات بھی کی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ تین سال قبل چھوڑا ہؤا اسلحہ اب کس حالت میں ہے، کس حد تک کارآمد ہے اور اسے کیسے واپس لایا جاسکتا ہے ۔لیکن پاکستان میں اس بیان کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دورانیہ کی نوید کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اسی لیے پاکستانی حکام اس بارے میں گرمجوشی سے بیان دے رہے ہیں ۔ حتی کہ افغانستان میں امریکہ کے چھوڑے ہوئے اسلحہ کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں اضافہ کی دلیل دے کر اس کی سنگینی کو دو چند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پاکستان کو اس وقت دہشت گردی کی صورت میں ایک سنگین مسئلہ کا سامنا ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کی رپورٹ میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پاکستان 163 ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ یعنی پاکستان اس وقت دہشت گرد کارروائیوں کا سامنا کرنے والا دوسرا ملک ہے۔ ملک میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے حملوں اور ان میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار سے بھی صورت حال کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے ڈانڈے بلاشبہ افغانستان سے جا ملتے ہیں جہاں طالبان حکومت اپنے پاکستانی ساتھیوں کو جو تحریک طالبان پاکستان کے نام سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہیں، مسلسل سرپرستی فراہم کررہی ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر پیدا ہونے والے اختلاف کے اثرات دوسرے شعبوں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں جن میں سرحدی تجارت اور چیک پوسٹوں کے قیام پر اختلافات شامل ہیں۔ حالانکہ پاکستان نے دو جنگوں میں افغان عوام کے حقوق کے لیے ہر طرح کی قربانی دی اور کئی لاکھ افغان پناہ گزینوں کو سال ہا سال پاکستان میں آباد رکھا گیا۔
کابل میں طالبان کی حکومت کے عناصر ماضی میں پاکستانی فوج کے تعاون و سرپرستی کے محتاج تھے اور اسی تعاون کی وجہ سے وہ اتحادی فوجوں کی موجودگی کے باوجود افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے اور عسکری قوت بڑھانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن اقتدار پر قبضہ کے بعد یہ خوشگوار تعلقات جاری نہیں رہ سکے۔ اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ پاکستان، افغانستان سے امریکی اسلحہ واپس لانے کے منصوبے میں امریکہ کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ اور دوسری طرف کابل حکومت مسلسل تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام کا سبب بنی ہوئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے آج ہی ایک بیان میں اس صورت حال کی ذمہ داری عمران خان، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل فیض حمید پر عائد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے طالبان کے جنگجوؤں کوپاکستان لا کر آباد کیا جو اب پاکستان میں حملے کررہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ فیض حمید تو گرفتار ہیں لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ تو باہر ہیں ۔ ان سے اس بارے میں پوچھنا چاہئے۔ خواجہ آصف اس سوال جواب یا ایسے الزامات کے ذریعے درحقیقت عمران خان کو سیاسی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ویسی ہی کوشش ہے جو ٹرمپ اپنے پیشرو جو بائیڈن اور ڈیموکریٹ پارٹی کو افغانستان کی بنیاد پر نکتہ چینی کا نشانہ بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ تاہم خواجہ آصف کو سوچنا چاہئے کہ کیا پاکستان موجودہ حالات میں ایسی سیاسی چپقلش کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی ہم آہنگی اور ماضی کی غلطیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں قومی سلامتی کے معاملات کبھی بھی سیاسی حکومتوں کے ہاتھ میں نہیں رہے۔ یہ تمام فیصلے عسکری قیادت کرتی رہی ہے۔ اگر ماضی میں کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد کسی غلط اندازے یا اشارے کی بنیاد پر افغان جیلوں سے رہا ہونے والے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پاکستان لانے اور انہیں ایک نئی زندگی گزارنے کا موقع دیا گیا تھا تو اس میں اس وقت کی سیاسی حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ جیسے پاکستان سے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کرنے کے حالیہ وقوعہ میں موجودہ حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سکیورٹی فورسز نے یہ اقدام کیا اور خود ہی ایک خطرناک دہشت گرد کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اب امریکی حکام اس سے ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جن سے ان عناصر کا سراغ لگایا جاسکے جو امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ حالانکہ شریف اللہ نامی دہشت گرد اس ساری مدت میں پاک افغان سرحدی علاقے میں ہی کسی نہ کسی جگہ روپوش رہا ہوگا۔ کامل یقین سے یہ اندازہ بھی قائم کیا جاسکتا ہے کہ اس مدت میں اس نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی بھی کی ہوگی۔
آج ہی بنوں کا دورہ کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’بنوں میں ہونے والے گھناؤنے حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مسلح افواج پاکستان کے عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی‘۔ ایسے میں سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کے حوالے کیے جانے والے شریف اللہ کے ہاتھوں پر متعدد پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کا خون بھی ہوگا۔ داعش پاکستان میں متعدد حملے کرنے میں ملوث رہی ہے اور اس کا دعویٰ بھی کرتی رہی ہے۔ پھر کیا وجہ کہ حکام نے ایسے خطرناک شخص سے اپنے شہریوں کے خلاف سرگرم عناصر کی خبر لگانے کی بجائے اسے امریکہ کے حوالے کرنا مناسب خیال کیا؟ کیا پاکستانی شہریوں کی زندگیاں امریکی فوجیوں کی زندگیوں سے کم وقعت رکھتی ہیں؟
اب افغانستان سے امریکی اسلحہ وصول کرنے کے نام پر جس امریکی تعاون کی امید کی جارہی ہے، اس سے بھی یہ بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ کیا امریکہ کے ساتھ ایک بار پھر سکیورٹی کے کسی منصوبہ میں شرکت پاکستانی مفاد میں ہوسکتی ہے؟ اس میں ایک تو امریکی حکومت پر اعتبار کا سوال سر فہرست ہونا چاہئے۔ دوسرے افغانستان ، پاکستان کا ہمسایہ ہے۔ پاکستانی فوج اگر ایک بار پھر کسی امریکی سیاسی یا سکیورٹی منصوبے کا حصہ بنتی ہے تو دونوں ملکوں کے تعلقات میں ناقابل تلافی دراڑ پڑ سکتی ہے۔ ماضی قریب میں افغانستان میں امریکی جنگجوئی کا حصہ بن کر پاکستان نے مسلسل نقصان اٹھایا ہے۔
تبدیل شدہ حالات اور ٹرمپ جیسے مقبولیت پسند صدر کے ساتھ تعاون کے نام پر پاکستان کو ایک بار پھر اس علاقے میں ’امریکی مہرے‘ کے طور پر اپنی خدمات پیش کرنے سے گریز کانا چاہئے۔ ایسی کوئی حکمت عملی پاکستان کے وسیع تر علاقائی اور قومی مفادات کے برعکس ہوگی۔