بڑی کابینہ اور عوام کے خواب

وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والے بارہ نئے ارکان کو قلمدان سونپ دیئے گئے ہیں،حجم کے لحاظ سے ایک بڑی کابینہ وجود میں آ گئی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے بڑی کابینہ پر کبھی اعتراض یا احتجاج نہیں کیا،البتہ یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کہ نئے وزیروں کی کھیپ سے کیا اُن کے مسائل حل ہوں گے،کیا ملک میں گڈ گورننس آئے گی؟

اس سوال کا انہیں کبھی عملی جواب نہیں ملا۔اِس بار وزیراعظم شہباز شریف نے فرمایا کہ وہ وزرا کی کارکردگی پر خود نظر رکھیں گے۔یہ سوال بھی ہمیشہ سے اٹھتا آیا ہے کہ جن ارکان کو وزارتوں کے قلمدان دیئے جاتے ہیں،کیا اُن میں اپنی وزارت کے لئے مطلوبہ مہارت، قابلیت اور تجربہ بھی ہوتا ہے؟ اِس سوال کا جواب بھی ندارد ہی سمجھیں۔کوئی ایسی سائنس نہیں جو وزارت دیتے ہوئے کسی وزیر کی اپنے محکمے میں مہارت کو پرکھ سکے۔ہمارے ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی کے ایسے وزیر بھی بنائے جاتے رہے ہیں جنہوں نے اپنے تعلیمی کیریئر میں کبھی سائنس پڑھی ہی نہیں ہوتی۔ اس کمی کی وجہ سے بیورو کریسی کا سکہ جما رہتا ہے۔وزارت کا سیکرٹری وزیر سے زیادہ بااختیار ہوتا ہے،کیونکہ رولز، ضابطے، محکمے کی ساخت اور ورکنگ کے بارے میں اسے زیادہ علم ہوتا ہے۔

ہمارے ایک دوست وفاقی سیکرٹری رہے۔ انہوں نے کئی وزارتوں میں خدمات سرانجام دیں اور کئی وزراکے ساتھ کام کیا۔ ایک دن ہم نے اُن سے پوچھا یہ ایک سیکرٹری ہر وزارت میں کیسے کھپ جاتا ہے۔کیا اُسے ہر فن مولا کہا جا سکتا ہے؟ کبھی وہ بلدیات کا سیکرٹری ہوتا ہے اور کبھی دفاعی پیداوار ڈویژن کا سیکرٹری بن جاتا ہے۔کبھی اُس پر تعلیم کی وزارت کا بوجھ لادا جاتا ہے اور کبھی پلاننگ اینڈ منصوبہ بندی میں فرائض سرانجام دے رہا ہوتا ہے۔ اس پر انہوں نے مسکرا کے کہا یہ جو سی ایس ایس ہے، ہر مسئلے کا حل پیش کرتی ہے۔ اپنے کیریئر میں ایک افسر مختلف محکموں میں کام آتا ہے،پھر نیپا کے کورسز بھی ہوتے ہیں جن میں ہر محکمے کے حوالے سے بنیادی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ویسے بھی محکمے چاہے مختلف ہوں،  بنیادی ضابطے ایک ہی ہوتے ہیں،اسی لئے فیڈرل سیکرٹری  کسی بھی محکمے میں ایڈجسٹ ہو جاتا ہے۔ اس پر میں نے سوال کیا یہ جو عام سے ایم این اے کو وزارت مل جاتی ہے اور وہ میرٹ کی بجائے کسی جوڑ توڑ یا سیاسی مجبوری کے باعث وزیر بنا دیا جاتا ہے تو کیا اُس میں اتنی صلاحیت اور مہارت ہوتی ہے کہ وزارت کو چلا سکے۔ انہوں نے کہا وزارت وزیروں کے لئے صرف ایک پروٹوکول ہوتی ہے۔بعض اوقات تو ایسے وزرا بھی محکموں میں آتے ہیں، جنہوں نے اُس منسٹری کا نام ہی پہلی بار سنا ہوتا ہے۔

 ایسے وزراسیدھے سادے انداز میں سیکرٹری اُس کے  نظام کی چھتری تلے کام کرتے ہیں انہوں نے کہا میرا تجربہ یہ ہے ہمارے ملک میں وزرا  سب سے زیادہ اِس بات پر توجہ دیتے ہیں اپنی وزارت کے محکموں میں اپنے حلقے کے لوگوں کو بھرتی کرا سکیں۔ اکثر سیکرٹری سے اُن کا جھگڑا بھی اس بات پر ہوتا ہے اور وزیراعظم سے کہہ کر وہ سیکرٹری کو تبدیل بھی کرا دیتے ہیں۔ مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اگلا سیکرٹری بھی اسی قبیلے کا ہوتا ہے۔اُن کی باتیں سن کر میرے اندر یہ خیال راسخ ہو گیا کہ وفاقی سکیموں کی وزارتیں کیوں مکھی پر مکھی مارتی ہیں، کوئی ایسا کام نہیں کرتیں جو جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ کابینہ میں کچھ وزیر ایسے ضرور ہوتے ہیں جو اپنا ایک ویژن رکھتے ہیں، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی وزارت کے حوالے سے عوام کو کیا مشکلات درپیش ہیں اور کون سے اقدامات ایسے ہیں جنہیں اُٹھا کر بہتری لائی جا سکتی۔بعض وزارتیں بہت اہم ہوتی ہیں اور بعض صرف جھنڈے لگانے کے لئے بنائی گئی ہیں، جن کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ ایک غریب ملک میں وزارتوں کا جمعہ بازار لگا کے اپنے اتحادیوں کو خوش تو کیا جا سکتا ہے، عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ایک ہی محکمے میں وزیر اور وزیر مملکت کی تقرری بھی اس سیاسی نظریہ ضرورت کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ اِس حوالے سے بھی ماضی میں اختیارات کی کھینچا تانی کے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں۔ایسے میں فیڈرل سیکرٹری وہ میچ ریفری بن جاتا ہے، جو دونوں طرف توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

 اب جو نئے وزرا بنائے گئے ہیں وہ اگلے چند دِنوں میں اپنے اپنے شہروں اور حلقوں میں لوٹیں گے۔ اپنے حامیوں کو پیغام دیں گے کہ بھرپور استقبال کی تیاری کریں۔  یوں لگے گا جیسے وہ کوئی بڑا معرکہ سر کر  کے آئے ہیں آتے ہی اپنے حلقے کے عوام کو یہ خبرشخبری سنائیں گے اب علاقے کو ترقی یافتہ بنا دیا جائے گا۔عوام کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل ہوں گے۔ پولیس اور انتظامیہ کو بھی وارننگ دیں گے وہ اپنا قبلہ درست کر لیں وگرنہ احتساب کے لئے تیار رہیں۔یعنی ہر وہ بات کریں گے جو اُن کے اختیار میں ہے ہی نہیں۔ جو اُن کے اختیار میں ہے یعنی اُن کی وزارت، وہ اُن کا فیڈرل سیکرٹری چلائے گا۔ او بھائیو! یہ ماڈل بہت پرانا ہو چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے اُن کی بات نہیں سننی، علاقے کے مسائل بھی پنجاب حکومت نے حل کرنے ہیں،انتظامیہ اور پولیس کے افسران بھی انہیں جوابدہ نہیں۔ صرف علاقے کے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے،اپنی وزارت سے بیگانہ ہو کر آئے روز جھنڈے والی گاڑی اور پولیس کے پروٹوکول میں اپنے حلقے کا دورہ کرنا اپنی وزارت سے ناانصافی کے مترادف ہے۔

ہر وزارت کی اپنی اپنی حدود ہیں، کسی وزارت کا عوام سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے اور کسی کا بالکل نہیں ہوتا۔  اُس کے بالواسطہ فوائد عوامل کو منتقل ہوتے ہیں اگر وزراکرام اپنی وزارت کے مطابق کام کریں، سوچ بچار سے نئی اختراعات سامنے لائیں تو ترقی کا سفر آگے بڑھ سکتا ہے۔سب سے بڑا ٹاسک تو یہی ہے کہ ہر وزیر یہ فیصلہ کرے کہ اُس نے اپنی وزارت سے کرپشن اور بری گورننس ختم کرنی ہے۔نظام میں شفافیت لانے کی سعی کرے اور اس مقصد کے لئے اگر جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے کی ضرورت بھی پیش آئے تو اُس سے گریز نہ کیا جائے۔اس امر کا جائزہ بھی لیا جائے کہ وزارت کے جو قواعد و ضوابط ہیں کیا اُن میں نئے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی ضرورت ہے۔اس بات پر بھی توجہ مرکوز ہونی چاہئے کہ اُس کی وزارت کا دائرہ ملک کے ہر حصے میں موجود ہے یا صرف چند شہر ہی مستفید ہو رہے ہیں۔ بہت سے کام ہو سکتے ہیں اگر وزارت کو پروٹوکول کی سیج نہیں،بلکہ ایک چیلنج سمجھا جائے۔

بہرحال ایک بھرپور کابینہ وجود میں آ چکی ہے جس پر اس قوم کے ہر ماہ اربوں نہیں کروڑوں روپے ضرور خرچ ہوں گے۔ لوگ اپنے ٹیکسوں سے خزانہ اس لئے نہیں بھرتے کہ وہ بے مقصد لٹایا جائے،وہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اپنی زندگی میں سُکھ چین مانگتے ہیں۔  کاش کابینہ کا ہر رکن اس بات کو پلے باندھ لے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)