بارسلونا میں 10 پاکستانی نژاد افراد دہشتگردی کے الزام میں گرفتار
اسپین کے شہر بارسلونا میں 10 پاکستانی نژاد افراد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزمان مبینہ طور پر ایک منظم مجرمانہ تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں جو میسجنگ گروپوں کے ذریعے پرتشدد احکامات جاری کرتی تھی۔
یہ تنظیم مبینہ طور پر ٹی ایل پی سے منسلک بتائی جاتی ہے، اسی ضمن میں ایک شخص کو اٹلی سے بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ آپریشن 3 مارچ کی رات ہوا۔ سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹوں میں دہشت گردوں کی مبینہ طور پر تعریف بھی کی جاتی تھی۔ گرفتار افراد کو 6 مارچ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ گرفتار ملزمان پر دہشت گردوں کی مدد، مالی معاونت اور دہشت گردی کے لیے بھرتی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دریں اثنا چین، ملائیشیا، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت 8 ممالک سے 24 گھنٹے کے دوران مزید 67 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا جن میں سے 14 کو حراست میں لے کر انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل منتقل کر دیا گیا۔ امیگریشن ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں بھیک مانگنے، منشیات فروشی، کام سے مفرور، کفیل کے بغیر کام کرنے، زائد المیعاد قیام، پاسپورٹ میں خرد برد کرنے، غیر قانونی داخلے سمیت مختلف الزامات کے تحت 36 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا۔
قبرص میں امیگریشن نے ناپسندیدہ قرار دے کر ایک پاکستانی سمیت 3 کو بے دخل کیا۔ ترکیہ میں رہائشی پرمٹ منسوخ کرکے 1، ملائیشیا میں امیگریشن نے ممنوعہ قرار دے کر 1، چین نے امیگریشن پر انٹری سے انکار کرکے 1 پاکستانی کو واپس بھیج دیا۔ عراق میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے 12 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔
اس کے علاوہ یو اے ای میں منشیات فروشی، ریپ کیس، قتل، فراڈ، جیل، چوری سمیت مختلف الزامات پر 10 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا۔ کمبوڈیا میں فراڈ کمپنی کے ساتھ کام کرنے پر 1 پاکستانی کو بے دخل کیا گیا۔