دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کی حمایت نہیں کرسکتا: صدر زرداری

  • سوموار 10 / مارچ / 2025

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ بطور صدر دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کے یکطرفہ حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں کرسکتا۔

پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں صدر نے ارکان پارلیمنٹ کو قومی مفاد کو بالاتر رکھنے اور ذاتی و سیاسی اختلافات پشت ڈال کر معیشت کی بحالی، جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے مل کر کام کرنے کی دعوت دے دی۔ صدر مملکت  نے اپوزیشن کے شور و شرابے کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بطور صدر، محب وطن پاکستانی کی حیثیت سےمیری ذمہ داری ہے کہ میں ایوان اور حکومت کو خبردار کروں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ یکطرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ خاص طور پرحکومت کا دریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کا یکطرفہ فیصلہ، اس تجویز کی بطور صدر میں حمایت نہیں کر سکتا۔ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس موجودہ تجویز کو ترک کردے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ وفاق کی اکائیوں کے درمیان متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل، پائیدار حل نکالا جاسکے۔

صدر نے زور دیا کہ ایوانِ پارلیمنٹ کو سونپی گئی ذمہ داری کو پورا کرے۔ قوم کی تعمیر، اداروں کو مضبوط کرنے، گورننس کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے۔ صدر نے کہا کہ ’آئیے قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور ذاتی وسیاسی اختلافات کو ایک طرف کرکے معیشت کی بحالی، جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے مل کر کام کریں‘۔

قبل ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری کا خطاب شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی ارکان نے ڈیسک بجاکر احتجاج شروع کردیا۔ شدید نعرے بازی کے باعث صدر نے کانوں پر ہیڈفون لگالیے۔ صدر مملکت آصف زرداری نے کہا کہ ایوان سے بطور سویلین صدر 8 ویں بار خطاب کرنا میرا واحد اعزاز ہے۔ یہ لمحہ ہمارے جمہوری سفر کے تسلسل کا عکاس ہے۔ نیا پارلیمانی سال اپنی پیش رفت کا جائزہ لینے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ یہ لمحہ نہ صرف ہماری جمہوری سفر کی تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ہمیں اپنی ترقی کا جائزہ لینے اور پاکستان کے لئے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم کی تجدید کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر میں اس ایوان سے اچھی حکمرانی اور سیاسی و اقتصادی استحکام کو فروغ دینے کی اپیل کرتا ہوں۔

ہمارے عوام نے پارلیمنٹ سے اپنی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور ہمیں اس موقع پر اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔ صدر نے کہا کہ ’یہ میرا پہلا فرض ہے کہ میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ ہمیں اپنے جمہوری نظام کو مضبوط بنانے، قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور پاکستان کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے‘۔

اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے دوران صدر زرداری نے مزید کہا کہ میں معاشی ترقی کے ذریعے ملک کو مثبت سمت پر ڈالنے کی حکومتی کوششوں کو سراہنا چاہتا ہوں۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اسٹاک مارکیٹ بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے پالیسی ریٹ کو 22 سے کم کرکے 12 فیصد کردیا ہے اور دیگر تمام معاشی اشاریوں میں بہتری کے صحت مند اشارے ملے ہیں۔

صدر نے کہا کہ ’آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کی آبادی کی حرکیات بدل گئی ہیں، عوامل کا ایک مجموعہ ان مسائل کو بیان کرتا ہے جن سے ہمیں نمٹنا ہوگا۔ ہماری آبادی میں اضافے کی بلند شرح کے ساتھ ساتھ ہماری انتظامی مشینری میں اسٹریٹجک بہاؤ نے گورننس کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اس ایوان کو اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ہماری گورننس اور خدمات کی فراہمی کے نتائج کی حقیقی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزارتوں کو بھی اپنے وژن اور مقاصد کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے عوام کو درپیش اہم مسائل کو ایک مقررہ مدت کے اندر حل کرنا ہوگا۔ ہمیں جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ ’جمہوریت کچھ لو اور کچھ دو کا تقاضہ کرتی ہے، اور اجتماعی مقاصد پر کام کرنے کے لیے اس پارلیمنٹ سے بہتر جگہ اور کیا ہو سکتی ہے‘۔

منتخب نمائندوں کی حیثیت سے آپ قوم کے لیے رول ماڈل کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جب آپ اپنے پارلیمانی امور کے بارے میں بات کرتے ہیں تو محدود مقاصد سے آگے بڑھ کر اس اتحاد اور اتفاق رائے کے بارے میں سوچیں جس کی ہمارے ملک کو اشد ضرورت ہے۔ میں آپ سب پر زور دوں گا کہ ہمارے لوگوں کو بااختیار بنائیں، اتفاق رائے سے قومی اہمیت کے فیصلے کریں، معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں۔ سماجی اور معاشی انصاف کو فروغ دیں اور ہمارے نظام میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔

صدر مملکت نے انفرااسٹرکچر، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور معاشی مواقع میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی تاکہ ان شعبوں کے حوالے سے پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے اور آئی ٹی انڈسٹری میں اصلاحات کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کاروباری برادری، آئندہ بجٹ کو بہتر بنانے، خواتین کو بااختیار کرنے اور گھریلو اور علاقائی رابطوں کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا ۔

انہوں نے آبپاشی کے پائیدار نظام کو یقینی بنانے اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خوراک کی پیداوار میں استحکام اور خود کفالت کا ہدف حاصل کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 56 کے مطابق صدر ہر پارلیمانی سال کے پہلے اجلاس کے آغاز پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے مشترکہ اجلاس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔

اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ ترکی، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان، فلسطین، جرمنی، فرانس اور عراق کے سفیر بھی اجلاس میں شریک تھے۔ سندھ  اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ بھی پارلیمنٹ میں موجود تھے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود رہے۔