یوکرین 30 دن کی جنگ بندی کے لیے تیار، ٹرمپ انتظامیہ نےفوجی امداد اور انٹیلی جنس امداد بحال کردی
یوکرین نے روس کے ساتھ 30 دن کی جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز قبول کرلی ہے۔ جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین کے لیے فوجی امداد اور انٹیلی جنس کے تبادلے کی سہولت بحال کردی ہے۔
یہ بات امریکہ اور یوکرین کے اعلی عہدیداروں نے منگل کو سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے بعد بتائی ہے۔ انتظامیہ نے ایک ہفتہ قبل یوکرین کے صدر زیلنسکی کے خلاف یہ اقدامات کیے تھے تاکہ وہ روسی کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں شریک ہوں۔
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اب روس کو جنگ بندی کی پیشکش کرے گا۔ ہم ان کو بتائیں گےکہ اب یہ چیز مذاکرات کی میز پر آ چکی ہے۔ اب اس بات کا انحصار ان (روس) پر ہے کہ وہ ہاں کہتے ہیں یا نہیں۔
یوکرین نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے سعودی عرب میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات تعمیری رہے ہیں جن میں روس کے ساتھ جزوی جنگ بندی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا ہے۔ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان منگل کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں مذاکرات شروع ہو ئے ہیں۔
امریکی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کر رہے ہیں جب کہ قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز بھی اُن کے بات چیت میں شریک ہوئے ہیں۔ یوکرینی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ آندرے سبیہا کر رہے ہیں۔
جدہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ہونے منگل کو مذاکرات میں یوکرین پر تین برس قبل حملہ کرنے والا ملک روس شریک نہیں تھا۔ یوکرین کو امید ہے کہ فضائی اور سمندری جزوی جنگ بندی کی پیشکش امریکہ کو کیف کے لیے امداد بحال کرنے پر قائل کر لے گی۔
یوکرین 28 فروری کو اوول آفس میں ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ولودیمیر زیلنسکی کی تلخی سے ہونے والے نقصان کے ازالے کی کوشش کر رہا ہے۔