کیا صحافیوں کو ہراساں کرنا ’ہارڈ اسٹیٹ ‘کا امتیازی نشان ہوگا؟

ملک میں  سیاسی بے چینی ہی نہیں بلکہ خوف کی فضا میں  بھی اضافہ  بھی ہؤا ہے۔ دہشت گردی اور لاقانونیت کی عمومی صورت حال میں یہ ماحول  ریاستی اتھارٹی قائم کرنے  کی  کوشش ہوسکتی ہے لیکن ارباب اختیار یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خوف و ہراس کے ماحول میں  ریاست دشمن عناصر سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ جن لوگوں نے ریاست کے  خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کی بیخ کنی کے لیے  پوری قوم  کو متحد اور یک آواز ہونے کی ضرورت ہے۔

ریاست بے جا تنقید اور حکومت مخالف یا اسٹبلشمنٹ کے بارے میں خبروں اور تبصروں سے نالاں ہے۔ تاہم  یہ  سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ملک میں موجودہ حکومت تمام تر اختلافات اور اعتراضات کے باوجود آئینی طریقہ کار کے مطابق ہی وجود میں آئی ہے۔ یعنی انتخابات منعقد ہوئے اور ان انتخابات میں جن پارٹیوں نے اکثریت حاصل کی انہوں نے  مل جل کر حکومت قائم کرلی۔ مرکز میں مسلم لیگ  (ن) اور صوبوں میں مختلف پارٹیوں  کی حکومتیں  انہی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہیں جو ملکی آئین کے تحت طے شدہ طریقہ ہے۔  گو کہ انتخابات میں دھاندلی کی شکایات موجود ہیں اور یہ دعوے بھی کیے جاتے ہیں کہ تحریک انصاف کی اکثریت کو  ہیرا پھیری سے اقلیت میں تبدیل کردیا گیا۔ البتہ موجودہ حالات میں اس  سیاسی مباحثہ پر غور کیے بغیر  یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ موجودہ حکومتی انتظام ایک آئینی  طریقہ کے مطابق ہی تشکیل دیا گیا ہے۔

کسی بالا تر قوت نے ذبردستی کوئی حکومت قائم نہیں کی اور ملک میں  پارلیمنٹ اور صوبوں میں اسمبلیاں کام کررہی ہیں جہاں اپوزیشن میں موجود سیاسی نمائیندے اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔  ایک ایسی حکومت جو انتخابات کے نتیجے میں آئینی طریقے کے تحت وجود میں آئی ہے، اس کا جواز ملکی آئین ہی میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یعنی شہباز شریف جب بطور سربراہ حکومت اپنی اتھارٹی  دکھاتے ہیں اور اختیارات کا استعمال کرتے ہیں تو انہیں یہ حق ملکی آئین کے تحت  ملک کا چیف ایگزیکٹو  ہونے کی وجہ  سے حاصل ہؤا ہے۔  اس صورت حال کا تقاضہ ہے کہ وزیر اعظم ہر صورت آئین کے وفادار رہیں، حکومت کے تمام اقدامات آئینی تقاضوں وضرورتوں کے مطابق ہوں اور کوئی بھی فیصلہ  آئین میں  دی گئی  شہری آزادیوں اور اظہار رائے کے حق کے  خلاف نہ ہو۔ اگر حکومت ان آئینی پہلوؤں کو نظر انداز کرے گی اور ملک کے شہریوں کے ساتھ ماورائے آئین سلوک روا رکھا جائے گا تو اس سے حکومت کی دھاک و ہیبت میں تو اضافہ نہیں ہوگا لیکن اسے اقتدار پر قابض رہنے کا جو جواز میسر ہے وہ اس سے بھی محروم ہونے لگے گی۔

یہ نکتہ بیان کرتے ہوئے ان مباحث کو زیر غور نہیں لایا جاسکتا کہ ملک پر اس وقت درحقیقت فوج کی حکومت ہے کیوں کہ اس نے انتخابی دھاندلی کے ذریعے ایسے لوگوں کو اقتدار  دلایا ہے جو اس کے حکم کے مطابق کام کرنے پر مجبور ہیں۔  ایسے الزامات یا دعوے اگر سچ بھی ہوں تو بھی  ان کے لیے کوئی ایسا ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے جسے کسی عدالت میں ثابت کیا جاسکے۔ یعنی کوئی شخص یا پارٹی کسی عدالت میں یہ دستاویزی ثبوت پیش نہیں کرسکتی کہ  ملک پر منتخب  پارٹیوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ فوج کی حکمرانی ہے،  لہذا استبداد کا ماحول دیکھنے میں آرہا ہے۔ اسی لیے تمام تر شبہات، تنقید اور اعتراضات کے باوجود شہباز شریف کو ملک کا جائز وزیراعظم ہی کہا جائے گا کیوں کہ نہ تو آئین معطل ہے اور نہ ہی  عدالتوں  کو  کسی ناانصافی کے خلاف اقدام کرنے اور حکم جاری کرنے سے روکا گیا ہے۔  اسی لیے ملک میں بنیادی آزادیوں کے خلاف دیکھے جانے والے تمام اقدامات کی پوری ذمہ داری شہباز شریف، صوبائی حکومتوں اور منتخب پارٹیوں ہی پر عائد ہوگی۔ بعد از وقت یا آئندہ  انتخابات میں جب موجودہ دور کا جائزہ لیا جائے گا اور اقتدار پر قابض رہنے والوں سے سوالات پوچھے جائیں  گے تو وہ یہ کہہ کر جان نہیں چھڑا سکیں گے کہ یہ فیصلے ہم نے نہیں فوج نے کیے تھے۔

اس وقت  بھی یہ صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے۔ موجودہ حکومت  ٹی ٹی پی کے بعض عناصر کو معافی دے کر عام شہریوں کے طور پر زندگی گزارنے کی اجازت دینے کا الزام  تحریک انصاف پر عائد کرتی ہے۔ شہباز شریف و نواز شریف  سمیت متعدد وزرا  تواتر سے پی ٹی آئی کو موجودہ دہشت گردی کی وجہ قرار دیتے ہیں کیوں کہ اس کے دور حکومت میں  تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مفاہمت کے نقطہ نظر سے کچھ اقدام کیے گئے تھے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ گو   عمران خان کے دور حکومت میں ہؤا تھا لیکن  درحقیقت فوج نے یہ حکمت عملی اختیار کی تھی اور سابق آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ اس کے ذمہ دار تھے۔ سیاسی حکومت کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ فوج کے فیصلے کو  مسترد نہیں کرپائی  کیوں کہ اس صورت میں منتخب حکومت ختم ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔  گو کہ عمران خان بعد میں  عسکری قیادت سے بڑھتے ہوئے اختلافات کی وجہ سے اپنی حکومت بچانے میں ناکام رہے تھے۔ تاہم بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس دور میں ٹی ٹی پی کے لوگوں کو ملک میں آباد ہونے کی سیاسی ذمہ داری تحریک انصاف کو قبول کرنا پڑی اور موجودہ حکومت مسلسل  اسے  پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کرتی ہے۔ یہ جاننے  کے باوجود کہ یہ کام درحقیقت فوجی منصوبہ کے تحت  سرانجام پایا تھا، وزیر اعظم سمیت کوئی سیاسی لیڈر فوجی قیادت سے اس بارے میں سوال پوچھنے کی یا تو ضرورت محسوس نہیں کرتا یا اس کا  حوصلہ  موجود نہیں ہے۔ حالانکہ آرمی چیف  وزیر اعظم کو بار بار باور کراچکے ہیں کہ ان کی حکومت ناقص ہے اور ملک میں گورننس کے شدید مسائل کی وجہ سے  فوجی جوانوں کو جان کی قربانی دینا پڑتی ہے۔

یہ نکتہ نمایاں کرنے کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ   شہباز شریف کو بھی بعد از وقت  ان کے دور حکومت میں رونما ہونے والے واقعات کی ذمہ داری خود قبول کرنا پڑے گی یا سیاسی طور سے انہیں اس کا قصور وار سمجھا جائے گا۔ تب ان کے پاس یہ کہنے کی گنجائش نہیں ہوگی کہ انہوں نے یہ کام فوج کی خوشنودی یا بعض ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کئے تھے۔  اسی لیے ملک میں شہری آزادیاں سلب کرنے اور آزادی رائے دبانے کے لیے سرکاری اداروں کو متحرک کرنے کی ساری صورت حال شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی بوجھ میں اضافہ کررہی ہے۔ اس پارٹی کو ملک پر حکمرانی کے علاوہ سیاست میں زوال سے روزشناس ہونے کا طویل تجربہ ہے۔ اس لیے اسے کسی ایسے کام کے لیے اپنا کاندھا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے  جو ملکی آئین اور مسلمہ اصولوں کے برعکس ہو۔ ان میں کسی مقدمہ کے بغیر شہریوں کو  لاپتہ  کرنا یا تشدد کا نشانہ بنانا بھی شامل ہے اور اب اس پالیسی میں  صحافیوں کو ہراساں و پریشان کرنے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ملکی میڈیا سخت پابندیوں کا سامنا کررہا ہے۔ نہ اسے حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی  وہ  حقائق کی روشنی میں ذمہ دارانہ نکتہ چینی کا مسلمہ حق استعمال کرنے کے قابل  ہے۔ حال ہی میں متعدد اینکر پرسنز کو متعدد ٹی وی چینلز نے آف ائر کردیا۔ کوئی یہ جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ان لوگوں کے پروگرام کیوں بند کیے گئے ہیں۔ حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ مالکان  کو مورد الزام ٹھہرا کر خود ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائے گی تو وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔

صحافتی  خدمات انجام دینے سے روکنا تو محض روزی  پر لات مارنے کا معاملہ ہے لیکن سرکاری اداروں کے ذریعے صحافیوں کو ہراساں و پریشان کرنے کا  سلسلہ  حکومت کی براہ راست ہدایت کے بغیر شروع نہیں ہوسکتا ۔ اس سے خوف کا ماحول گہرا ہورہا ہے۔ پہلے پیکا نامی قانون میں سخت شقیں شامل کرکے  رپورٹنگ  اور حقائق بیان کرنے کو مشکل بنا دیا گیا ۔تاہم گزشتہ چند روز  میں دو ممتاز صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے   واضح ہورہا ہے کہ حکومت مخالفانہ آواز  وں کو دبانے کے لیے پوری سرکاری طاقت  استعمال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی نے  چند روز پہلے اپنی ویب سائٹ  ’فیکٹ فوکس‘ پر آرمی چیف کے رشتہ داروں  کو سرکاری عہدوں پر غیر معمولی ترقیاں دینے کی خبر شائع کی تھی۔  اگر یہ خبر بے بنیاد تھی تو اسے یا تو نظر انداز کیا جاسکتا تھا یا درست اعداد و شمار فراہم کرکے معاملہ ختم کیا جاسکتا تھا ۔لیکن دو روز پہلے نامعلوم افراد نے  اسلام آباد میں احمد نورانی  کے خاندان کے گھر پر دھاوا بولا اور  مبینہ طور پر خواتین سمیت  دیگر لوگوں  کے ساتھ دست درازی کی گئی ۔ وہ لوگ بعدمیں  ان کے دو بھائیوں کو ساتھ لے گئے۔ ان کے بارے میں اب تک معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہے۔ اہل خاندان کی طرف سے اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دونوں بھائی انجینئر ہیں اور ان کا احمد نورانی کی صحافت  یا رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔   اسلام آباد پولیس یہ واضح کرچکی ہے کہ اس نے ایسے کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا۔ مزید معلومات اسلام ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران واضح ہوں گی۔ تاہم بادی النظر میں یہ احمد نورانی کو متنبہ کرنے  کے علاوہ خوف زدہ کرنے  کی کوشش ہے تاکہ وہ  ایسی رپورٹیں سامنے نہ لائیں جو حکام بالا کے لیے ناپسندیدہ ہیں۔ 

اسی طرح آج کراچی میں ایف آئی اے  نے  ممتاز صحافی اور نیوز ایجنسی ’رفتار‘ کے بانی  فرحان ملک کو  گرفتار کیا ہے۔ ان کے اہل خاندان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف نہ تو کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور  نہ ہی  یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے  کس قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے دفتر کے ساتھیوں نے بتایا ہے کہ ایف آئی نے اچانک دفتر پر دھاوا بولا اور لوگوں کو ہراساں کیا اور فرحان ملک کو دن کے ایک بجے پیش ہونے کا زبانی حکم دے کر چلے گئے۔ وہ  مقررہ وقت  پر ایف آئی  اےکے دفتر پہنچ گئے۔ البتہ کئی گھنٹے انتظار کرانے کے بعد انہیں شام 6 بجے گرفتار کرلیا گیا۔ ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا  ہےکہ فرحان ملک کے خلاف تقریباً 3 ماہ قبل انکوائری شروع کی گئی تھی۔ فرحان ملک نے سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کئی پروگرام کیے تھے اور آج انکوائری مکمل ہونے کے بعد باضابطہ طور پر انہیں گرفتار کیا گیا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ فوج یا حکومت کے کسی اقدام یا پالیسی پر تنقید کرنا  قانون شکنی نہیں ہوسکتی البتہ اگر کوئی شخص قانون کی مقررہ حدود پار کرتا ہے تو  اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جاسکتی ہے۔ لیکن غیر واضح الزامات کے تحت ڈرامائی انداز میں  ملک کے ایک ممتاز صحافی کو گرفتار کرکے درحقیقت حکومت میڈیا کو چوکنا رہنے  کا پیغام دے رہی  ہے۔ حکومت  کا یہی رویہ  ملک میں آزادی صحافت و آزادی رائے کے بارے میں پریشانی  کا سبب بن رہا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن  کے علاوہ  کراچی  پریس کلب کے  صدر نے  فرحان ملک کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ  آئینی شق 19 کے تحت آزادی رائے کے خلاف سرکاری اداروں کو استعمال کرنے کا رجحان تشویشناک ہے۔

قومی سلامتی  کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے  موجودہ طرز حکومت کو  ’سافٹ اسٹیٹ‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’ہارڈ اسٹیٹ ‘ میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ شہباز شریف کی حکومت کو جواب  دینا چاہئے کہ کیا صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرکے ہی ریاست کو ’ہارڈ‘ بنایا جائے گاَ؟