ماہرنگ بلوچ گرفتار، بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

  • ہفتہ 22 / مارچ / 2025

بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ  پولیس نے ماہ رنگ بلوچ  سمیت متعدد لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ لوگ سریاب روڈ پر دھرنا دے رہے تھے۔ دوسری جانب ماہ رنگ بلوچ کی اپیل پر آج بلوچستان میں مکمل ہڑتال ہے۔

کوئٹہ پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ سمیت 17 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں ہدہ جیل منتقل کیا گیا ہے۔ بلوچستان انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے باضابطہ طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ آیا ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے یا نہیں۔

بی بی سی نے ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر کو حراست میں لیے جانے کے حوالے سے پولیس اور انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے تاہم اب تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف پولیس کی مبینہ کارروائی کی کچھ ویڈیوز گردش کر رہی ہیں تاہم بی بی سی ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کوئٹہ میں تین میتوں کے ساتھ دھرنا دیا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے اس کے پُرامن احتجاج پر فائرنگ کی تھی۔ تاہم بلوچستان حکومت نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا اور ان کے خلاف ’قانون کے مطابق‘ کارروائی کی گئی تھی۔

دوسری طرف  بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر بلوچستان بھر میں آج شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔

اس سے قبل سریاب روڈ پر دھرنے کے مقام سے ایک ویڈیو بیان میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ کی قیادت میں سریاب روڈ پر دھرنا جاری تھا کہ پولیس کی بھاری نفری نے آج صبح پانچ بجے کریک ڈاؤن کر کے ڈاکٹر ماہ رنگ اور متعدد لوگوں کو حراست میں لیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تین افراد کی لاشیں بھی کریک ڈاؤن کرنے والے اہلکار اٹھا کر لے گئے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والے کے خلاف پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی، مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور تشدد کیا اور اس دوران لیڈی پولیس کانسٹیبل اور پولیس اہلکاروں سمیت دس زخمی افراد ہسپتال لائے گئے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں انٹرنیٹ کے بعد موبائل فون سروس کو بھی معطل کردیا گیا جس سے لوگ پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ایک روز قبل سے سریاب روڈ پر بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے بلوچ یکہجہتی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور مرنے والے افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہ کرنے اور شناخت کے لیے نہ لے جانے کے خلاف دھرنا دیا جا رہا تھا۔