استنبول کے مئیر کی گرفتاری پر ترکی میں احتجاجی مظاہرے

  • اتوار 23 / مارچ / 2025

استنبول کے میئر کی گرفتاری کے بعد سے ترکی میں مسلسل چار روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہ ترکی میں ہونے والے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کے مخالف اکرم امام وغلو کو بدھ کے روز حراست میں لیا گیا۔ وہ کچھ روز میں 2028 کے الیکشن کے لیے صدارتی امیدوار نامزد ہونے والے تھے۔ ہفتہ کے روز امام وغلو کو استنبول کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پراسیکیوشن نے دہشتگردی اور بدعنوانی کے الزامات میں ان کی باقاعدہ گرفتاری کی درخواست کی۔ امام وغلو خود پر عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ایک تقریر میں اردوان نے مظاہروں کی مذمت کی مگر امام وغلو کی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی پر بدامنی پھیلانے اور لوگوں میں تقسیم پیدا کرنے کا الزام لگایا۔ استنبول کے میئر آفس کے باہر مظاہرے شروع ہونے سے پہلے ہی فضا میں آنسو گیس کا دھواں تھا۔ جیسے جیسے شرکا شام تک جمع ہوئے تو سانس لینا دشوار ہوتا گیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تھی۔

حکومت کی طرف سے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی تھی مگر اس کے باوجود لوگ باہر نکلے اور 'حقوق، قانون، انصاف' کا نعرہ لگایا۔ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ استنبول کے میئر کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ سیاہ لباس میں ماسک پہنے ایک نوجوان خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر احتجاج میں شامل نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ اپوزیشن کی حمایت کرتی ہیں بلکہ ان کا مقصد جمہوریت کا دفاع ہے۔

ہفتہ کی شب کئی لوگ گرفتاری کے خدشے کے باوجود باہر نکلے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس لیے باہر نکلے ہیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے لڑ سکیں۔

انقرہ اور ازمیر میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔ گزشتہ چار راتوں سے ترکی میں ہزاروں لوگ مظاہروں کے لیے باہر نکل رہے ہیں۔ یہ مظاہرے اکثر پُرامن رہے تاہم مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔

حکام نے مظاہرے روکنے کے لیے چار روز تک استنبول میں تمام عوامی اجتماعات پر پابندی لگائی تھی۔ جب مظاہرے ملک میں پھیلنے لگے تو انقرہ اور ازمیر میں بھی عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی۔

جمعرات سے مظاہروں کو کنٹرول کرنے والی رائٹ پولیس کی مظاہرین کے ساتھ متعدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس اور واٹر کینن کی شیلنگ کی ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب 343 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

امام وغلو کو اردوان کے بڑے سیاسی مخالفین میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اپنی جماعت میں واحد رہنما ہیں جو صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں۔ سی ایچ پی کا صدارتی امیدوار کون ہوگا، یہ فیصلہ اتوار کو متوقع ہے۔

ان کی گرفتاری سے ایک روز قبل استنبول یونیورسٹی نے اعلان کیا کہ وہ مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث امام وغلو کی ڈگری منسوخ کر رہی ہے۔ اگر اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا تو وہ صدارتی دوڑ سے باہر ہو سکتے ہیں۔ امام و غلو نے اس اقدام کو 'بے بنیاد اور غیر قانونی' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'یونیورسٹیوں کو آزاد، سیاسی مداخلت سے پاک اور صرف تعلیم کے حصول کے لیے وقف رہنا چاہیے۔'

ترکی کے آئین کے مطابق صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ امیدوار اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو۔

اردوان سنہ 2023 میں تیسری بار ترکی کے صدر منتخب ہوئے تھے اور آئین کے مطابق وہ 2028 کے بعد بطور صدر حکومت نہیں کر سکتے۔ مگر ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ شاید آئین میں ترمیم کر دیں تاکہ وہ ایک بار مزید بطور صدر حکمرانی کر سکیں۔