پاک ہند تعلقات میں بہتری مگر کیسے؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 23 / مارچ / 2025
محترم شامی صاحب اور جناب سہیل وڑائچ صاحب کے ہمراہ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری کی افطاری میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں اپنے صحافی بھائیوں اور دانشوروں کی ایک بہار تھی۔
قصوری صاحب نے اپنے ادارے انسٹیٹیوٹ آف پیس اینڈ کونیکٹیوٹی کے زیراہتمام اپنے انڈین دوست ایشیش رے کے اعزاز میں یہ افطار ڈنر منعقد کیا۔ اس میں خود ان کی اور مہمان گرامی کی تقاریر انہماک اور دلچسپی سے سنی جا رہی تھیں۔ سوالات کی بھی طویل نشست ہوئی۔ سابق وزیر خارجہ اپنے میلان اور وژن کے مطابق پاک بھارت بہتر تعلقات کے لیے کوشاں ہیں اور اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی پروگرام ترتیب دیتے رہتے ہیں، جن میں ملک کی نامور شخصیات شرکت فرماتی ہیں۔ اس افطاری میں بھی ان کے ہمراہ سید یاور علی، ڈاکٹر معید یوسف، سابق سفیر شاہد ملک، اقبال احمد خاں اور عبدالرزاق داؤد جیسی شخصیات براجماں تھیں۔
آئی پیک کے چیئرمین جناب خورشید محمود قصوری نے انڈوپاک تعلقات پر سیرحاصل گفتگو کی اور حالاتِ حاضرہ کا بھی خوب جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں صدر ٹرمپ کی جیت کے بعد پوری دنیا میں خواہ وہ امریکا کے دوست ہیں یا دشمن ایک نوع کا ارتعاش یا طوفان آیا ہوا ہے ۔ یوں لگ رہا ہے کہ یہ دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ بدلتے جیوپولیٹکل حقائق پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی دونوں ممالک کے لیے خطرہ ہے اور کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق سیکرٹری خارجہ شیام سرن کے ایک حالیہ مضمون کا حوالہ دیا، ساتھ ہی انڈوپاک تعلقات کے نشیب و فراز کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اپنے انڈین مہمان جناب اشیش رے کا تفصیلی تعارف کروایا۔ یہ بھی کہا کہ ہمارا خطہ ترقی کے میدان میں چین جاپان اور آسیان ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ باہم لڑنے کی بجائے اپنے خطے میں موجود غربت سے لڑیں عوامی پسماندگی کو دور کریں۔
سابق وزیرخارجہ اور چیئرمین
میاں خورشید محمود قصوری کی اس افطاری کے مہمانِ خصوصی انڈین صحافی، مصنف اور تجزیہ کار اشیش رے سی این این ساؤتھ ایشیا کے بیوروچیف رہے ہیں اور پاک ہند پیس ایکٹیوسٹ کی پہچان کے حامل ہیں۔ سیمینار کے بعد بیکانیر راجھستان سے آئے اپنے مہمان پرنیو سرسوت کے ہمراہ جناب اشیش رے سے ان کے کمرے میں تفصیلی تبادلہ خیالات اور انٹرویو کا موقع میسر آیا تو سب سے پہلا سوال یہ پوچھا کہ آپ کے بزرگ سبھاش چندربوش بلاشبہ آزادی ہند کے ہیرو مانے جاتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی جدوجہد کا جو راستہ اپنایا وہ ایک نوع کی ملیٹینسی یا تشدد کے جواب میں تشدد کا تھا۔ جبکہ جدید ہند کے باپو مہاتماگاندھی اول و آخر عدم تشدد کے علمبردار تھے آپ ان دونوں کی بالمقابل راہوں کے حوالےسے کیا کہیں گے؟
سبھاش چندربوس سے اپنی نسبت یا رشتہ داری کے باوجود وہ مہاتما گاندھی کی عظمت اور عدم تشدد کی پاسداری پر کھل کر بولے۔ مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے آدرشوں سے ہی نہ صرف یہ کہ ہندوستان آزاد ہوا بلکہ وہ دونوں جدید ہند کے معمار ہیں۔ انگریز دشمنی میں بوس نے جس طرح ہٹلر اور اس کی ہمنوا طاقتوں سے تعلقات استوار کیے، اشیش رے کے جواب سے ایسے چبھتے سوالات کی نوبت ہی نہ آئی۔ البتہ آئین سازی کے حوالے سے انہوں نے انڈین آئین کا تقابل پاکستان سے کرتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ پاکستان کے آئین میں مذہب کو مقدم رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے ضرور امتیازی رویوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ جبکہ انڈین آئین میں کسی نوع کی مذہبیت نہیں ٹھونسی گئی۔ پنڈت جواہر لعل نہرو تو ویسے ہی اتھیسٹ تھے اور کسی مخصوص مذہب پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ جبکہ مہاتما گاندھی انڈین سوسائٹی اور زمینی حقائق کی مطابقت میں تمام مذاہب کے احترام پر ایمان رکھتے تھے۔ اور کسی ایک مذہب کو دوسرے پر حاوی کرنے کے خلاف تھے۔
جدید انڈیا کی بنیادیں انہی آدرشوں پر استوار ہیں۔ اس سب کے باوجود پرائم منسٹر مودی اور ان کی بی جے پی کے دور میں مذہبی تنگناؤں کی آوازیں اٹھتی رہتی ہیں۔ اگرچہ یہ حکومتی سطح پر نہیں ہوتیں مگر ان کی پارٹی کے لوگ اس نوع کے تعصبات سے ہو گزرتے ہیں۔ اس سوال پر کہ ہمارے یہاں تو غیر سرکاری طور پر مختلف النوع تنظیمیں جس نوع کی نعرے بازی کرتے ہوئے نفرت انگیزی اور تشدد سے کام لیتی ہیں، ان کا تقابل اگر ہندو نعرے بازوں سے نہ بھی کیاجائے پھر بھی یہاں تو سرکاری سطح پر بھی اس نوع کے امتیازی رویوں کی بہتات ہے۔ انڈین مصنف اور صحافی کا استدلال تھا کہ ہمیں اپنا تقابل کسی دوسرے ہمسایہ سے کرنے کی بجائے اپنا معیار بلند تر کرنے کا سوچنا چاہیے۔ دوسروں پر تنقید کرنا سب سے آسان ہوتا ہے۔ ہم سب کو اپنی درستی کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔
درویش کے اس سوال پر کہ آپ مودی حکومت کو کیا کہنا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان سے کس نوع کا معاملہ کریں، جناب اشیش رے کا کہنا تھا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کے لیے بہتری اسی میں ہے کہ وہ فی الوقت کشمیر اور ٹیررازم کے ایشوز کو کم از کم وقتی طور پر کارنر کرتے ہوئے عوامی مفاد یا بہبود کے دیگر جتنے بھی معاملات ہیں انہیں زیرِ بحث لائیں۔ تجارتی تعلقات استوار کریں، تعلقات بڑھانے میں اس وقت کرکٹ کی بڑی اہمیت ہے۔ دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیمیں بجائے دبئی میں کھیلنے کے ہر دو ممالک میں آئیں اور کھیلیں، فلم میکرز اور موسیقاروں کے وفود دونوں ممالک میں آئیں جائیں۔ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں۔ ہمارے اس سوال پر کہ کیا اس سے پہلے یہ لازم نہیں ہے کہ دونوں ممالک اپنے ہائی کمشنرز کی بحالی کرتے ہوئے سفارتی تعلقات کو بہتر بنائیں۔ جناب اشیش رے بولے اس حوالے تو کوئی تاخیر ہونی ہی نہیں چاہیے۔ پاکستان اور انڈیا کے وزرائے اعظم کہیں کسی دوسرے ملک میں بھی اگر باہم ملیں تو ان کا فوری فیصلہ یہی ہونا چاہیے اس وقت دونوں ممالک کے شہریوں کو ویزوں کے حصول میں جو دشواریاں درپیش ہیں ان کا حل اسی طرح نکلے گا۔
اب آپ اندازہ لگائیں میں انگلینڈ سے پاکستان آیا ہوں اور انڈین شہری کی حیثیت سے میں یہاں سے بائی ایئر انڈیا نہیں جاسکتا۔ مجھے پہلے دبئی جانا ہوگا اور وہاں سے انڈیا جاؤں گا۔ عوام کی ان مشکلات کا تدارک ہونا چاہیے۔ کتنے لوگ ہیں جو ہمارے ان دونوں دیشوں میں آنا جانا چاہتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ان پر یہ بندشیں کیوں ہیں؟ پاکستان سے کتنے لوگ ہیں جو علاج معالجے یا کڈنی ٹرانس پلانٹیشن کیلیے انڈیا آیا کرتے تھے۔ دونوں اطراف کے نیتاؤں کو عام جنتا کی بھلائی اور دکھوں سے مکتی کا سوچنا چاہیے۔ کم از کم ساٹھ برس سے اوپر والوں پر ویزہ کی پابندی ہٹا دینی چاہیے۔