افغان حکومت اور امریکہ: مستقبل کا سفر

افغان حیران کن ہیں۔ دور دراز اور مشکل پہاڑی لوگ، جن کو پینتالیس سال سے جنگوں کا سامنا ہے۔ پہلے جن کا کل اثاثہ ان کا حوصلہ سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں ان کی سیاسی سوجھ بوجھ توجہ کھینچ رہی ہے۔

جب کمیونسٹ پارٹی کے تیار کردہ افغان اقتدار کے افق پر ابھرے، تو ان کو عالمی کشمکش کا اچھا خاصہ اندازہ تھا۔ لیکن پھر ان کی جگہ مذہبی بونوں نے لے لی۔ ربانی اور حکمت یار کو افغان قوم کی بدقسمتی کے سوا کیا سمجھا جا سکتا ہے، جب پوری دنیا ان کے لئے سرخ قالین بچھائے، بانہیں پھیلائے، استقبال کرنے نکلی تھی تو اس وقت وہ ان سے تعلقات بڑھانا، بلکہ ہاتھ ملانا اپنی توہین سمجھتے تھے۔ ان کی حماقت کا یہ عالم تھا کہ ان کو ملنے والے اسلحے، نقدیوں اور عالمی پذیرائی کے علاوہ، جن گاڑیوں میں وہ پھرتے تھے، جن قلعوں اور محلوں میں وہ رہتے تھے، جس تحفظ کو وہ انجوائے کرتے تھے، اور جن فورموں پر وہ بولتے تھے، وہ سب کچھ انہی عالمی طاقتوں کا ودیعت کردہ تھا، جن کو وہ اپنا دشمن بھی کہتے تھے۔

اتنا کچھ دے دلانے کے بعد ، انسانی ارتقا اور اخلاقیات کا تقاضا بنتا تھا کہ جنگ کے بعد ’دینے والوں‘ کا شکریہ تو ادا کر دیا جاتا۔ وہ جن کی جنگ لڑ رہے تھے، اگر جنگ کے اختتام پر وہ ان کے ساتھ بیٹھ جاتے تو افغانستان آج جاپان اور جنوبی کوریا بن چکا ہوتا۔ لیکن بدقسمتی سے ان دنوں افغانوں کا کل اثاثہ ان کا حوصلہ تھا۔ کمیونسٹوں کے علاوہ، ربانی ہو، مجددی ہو، حکمت یار ہو، نبی محمدی ہو، یا پھر ملا عمر، ان میں کوئی بھی عالمی نزاکتوں، سفارتکاری، بین الاقوامی تعلقات، ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط، تجارت، مذاکرات کاری، مستقبل بینی اور عالمی سیاست سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے۔ اور ان سب اہم ضروریات کے ٹھیکے انہوں نے بیرون ملک دیے ہوئے تھے۔ بلکہ یہ جنگ پسند، تو بعض اوقات مالکان کی بجائے، محض فرنچائز لگتے تھے۔

جو قوم بھی محدود مسلکی مذہبی تعلیم کے حاملین کو قوم کا نجات دہندہ سمجھتی ہے، وہ خوابوں کی رنگین سرزمین پر خوبصورت تتلیوں کے پیچھے ہانپتی ہوئی بھاگتی ہے۔ افغان حیران کن اس لیے ہیں، کہ وہ مذکورہ ’تاریخی شخصیات‘ کے راستے پر محض حوصلے سے چلنے کی بجائے، اب وہ سیاست، عالمی کشمکش، تجارت، قومی مفادات، شراکت کاری، مذاکرات کا فن، ہمسایوں کے ساتھ تعلقات اور سب سے بڑھ کر اپنی عالمی اہمیت سیکھ چکے ہیں۔ بس اب وہ افغان بنے۔ ان کی موجودہ حکومت اسی طرح کا سیاسی بندوبست ہے، جس طرح انگریز نے برصغیر سے جاتے ہوئے، ہندوستان کو تقسیم کر کے فریقین کو حکومتیں منتقل کر دی تھیں۔ انہوں نے دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ کو کچھ گارنٹیاں مہیا کی ہیں، تو کچھ یقین دہانیاں امریکہ سے بھی لی گئی ہوں گی۔ یہ خود سے نہیں آئے، بلکہ امریکہ نے اپنے پرانے بندوں کو تبدیل کر دیا ہے، جس طرح سوویت یونین افغانستان میں کرتا رہا تھا۔

جس علاقے کے انتظام پر امریکی خون کے ساتھ ساتھ ٹریلین ڈالر خرچ ہوتے رہے، اگر وہ ماہانہ چند ملین ڈالر کے خرچے سے چلتا ہے تو امریکہ کے لئے یہ برا سودا نہیں ہے۔ ربانی اور حکمت یار کے برعکس، طالبان کو کسی عالمی طاقت کے ساتھ تعلقات اور مذاکرات کے لئے کسی سہولت کار کی ضرورت نہیں رہی اور ان کو اپنے جغرافیے اور سیاسی اہمیت کا بھی اندازہ ہو گیا ہے۔ دوحہ معاہدے کے بعد پاکستان کی بجائے مسقط کو افغانستان میں ’فیصلہ کن‘ بالادستی حاصل ہو گئی ہے، جو افغان اور عالمی قوتیں بیک وقت جانتی ہیں۔ اب اگر افغان حکومت پاکستان کی عالمی جغرافیائی اہمیت چرا کر، امریکہ کو وہ ساری سہولیات مہیا کر دیتی ہے جو ماضی میں بار بار ان کو پاکستان مہیا کرتا آیا ہے تو نہ صرف یہ کہ افغانستان اندرونی طور پر ایک مستحکم ملک بن سکتا ہے بلکہ امریکی چھتری کے نیچے ایک جارح علاقائی کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے حکومتی ڈھانچے، انتظامی معاملات اور افغان قومی سوچ میں بنیادی تبدیلیاں لانا لازمی عناصر ہیں۔

ماضی میں امریکہ کے لئے لڑائی لڑنے والے افغان، ان کے پاکستانی اور دوسرے ممالک کے دوست، اب سارے افغانوں کے پاس ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں موجود جنگجو مدارس اور ان کے منتظمین کے ساتھ ساتھ ایسے گروہ اور اشخاص بھی ٹارگٹ کیے جا رہے ہیں جو کسی بھی طرح پاکستان کی ’جارحانہ سفارتکاری کے ساتھی‘ سمجھے جاتے تھے۔ لیکن افغانستان میں ایسے لوگوں کو پناہ اور سہولیات ملی ہوئی ہیں، جو عالمی طاقتوں کو ضرورت پڑنے پر میسر ہوں، تو افغان حکومت کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

طالبان کو سیدھا کرنے کے لئے ایک طرف داعش ہے تو دوسری طرف ایسے عناصر ہیں جو طالبان کے لئے اہم ہیں۔ لیکن وہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کریں تو پھر پاکستان کی طرف سے جوابی حملے ہونے کا خطرہ ہے۔ یورپ میں منعقدہ حالیہ ہرات کانفرنس کے نتائج کو اپنے حق میں کرنے اور مخالف گروہوں کی اہمیت کو کم کرنے کی خاطر افغان حکومت نے نہ صرف یہ کہ افغانستان میں قید، امریکی شہری کو ایک حیران کن سفارتی اقدام میں امریکہ کے حوالے کیا، بلکہ امریکہ کے ساتھ مستقبل میں ’مفید مذاکرات‘ کو جاری رکھنے کا عندیہ بھی دے دیا۔ بیرون ملک اپنی پذیرائی بڑھانے کے اس اقدام کے ساتھ اس نے محدود نوعیت کا ایک جرگہ بلانے کا بھی عندیہ دے دیا جو اگرچہ روایتی قومی جرگے کا متبادل نہیں ہے لیکن پالیسیوں میں لچک کا اظہار ضرور ہے۔

مذہبی تعلیمات اور اقتدار کی نزاکتیں سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے کی حکومت اور خلفائے راشدین کی حکومتوں کے درمیان کے فرق اور تبدیلیوں کے ارتقائی سفر کو سمجھا جائے۔ اقتدار انسانی ایجاد ہے۔ جس کا مقصد مخلوق خدا کی خدمت، خوشحالی، مادی اور ذہنی ترقی، تحفظ، تعلیم، صحت اور عزت نفس کے لئے سہولیات اور مراعات مہیا کرنا ہے۔ خوشحال شہریوں اور محفوظ شہروں کے لئے تجارت، تعلیم، روزگار اور آزادیوں کے ساتھ ساتھ ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات اور جنس، رنگ، عقیدہ، نسل اور زبان کی بنیاد پر بنے ہوئے امتیازات مٹانا بھی اقتدار کے استحکام اور قومی خوشحالی کے لئے اہم ہیں۔ اگر امریکہ، افغانستان سے دیرپا دوستی اور تحفظ کے معاہدے کے بدلے میں سہولیات اور مراعات کا خواہشمند ہے تو اس کو افغانستان کے استحکام کی ضمانت سمجھتے ہوئے قبول کرنا چاہیے۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ امریکی شہری جارج گلزمن کو امریکہ کو حوالے کرنے سے پہلے امریکہ نے ‌‌گوانتوناما بے میں قید افغان شہری اسداللہ ہارون کو چھوڑ دیا تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان بڑی دیر سے مذاکرات جاری ہیں، جس کے نتیجے میں آئندہ بھی خوش آئند خبریں ملنے کی توقع ہے۔

ایسے تعلقات اور معاہدے سے پاکستان اور افغانستان کے مستقبل پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟ یہ موضوع ایک اور کالم کا متقاضی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)