سبز و سفید دو طبقے

یوں تو پاکستان لاتعداد طبقات اور تعصبات میں تقسیم نظر آتا ہے۔ کہیں علاقائی تقسیم ہے تو کہیں بیسیوں مذہبی مکتبہ فکر کے لوگ اپنے سروں پر اپنے نشان رکھے ہوئے ایک دوسرے کو اپنی اپنی عینک سے دیکھتے نظر آتے ہیں۔

کہیں لسانی گروہوں کے جھگڑے ہیں تو کہیں سیاسی دشمنیاں ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ ان طبقات میں شدت ضیا آمریت کے دور سے شروع ہو کر پرویز مشرف کی آمریت تک مزید نمایاں ہوئی ہے۔ 90 کی دہائی پاکستان کی سیاست میں ہنگامہ خیزی کی دہائی تھی۔ اس کے بعد پرانے سیاسی حریفوں کو کچھ سمجھ آ گئی کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے جس کے بعد ایک میثاق جمہوریت بھی ہوا۔ لیکن اس کے بعد بھی جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازشیں جاری رہیں اور 2013 سے ایک بار پھر سیاسی مخالفت میں ایسی شدت آئی کہ پاکستانی سیاست میں واضح تقسیم سامنے آنے کے ساتھ ساتھ کئی جگہوں پر ہاتھا پائی اور گالی گلوچ شروع ہو گئی۔ ایک دوسرے پر الزامات کی پوچھاڑ شروع ہوئی۔

پہلے ضیا آمریت میں پاکستان کو جہاد کے نام پر امریکہ سوویت جنگ میں جھونکا گیا تھا اور پھر پرویز مشرف دور میں پاکستان کو ایک بار پھر امریکی مفادات کے تحفظ میں ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا جس میں اپنے بیگانے اور دوست دشمن کی پہچان ہی ختم ہو کر رہ گئی۔ جسے ہم ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ اور پچھلے کچھ ماہ سے دہشت گردی میں ایک بار پھر بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ تمام تقسیمِ اپنی جگہ موجود ہے۔ لیکن آج ہم اس کالم میں صرف دو بڑے طبقات سبز اور سفید پر بات کریں گے۔ سبز طبقہ سرکاری اور سفید غیر سرکاری یا سول طبقہ کہلاتا ہے۔ تمام سرکاری محکموں کے افسران اور کچھ ملازمین کو سرکار گاڑیاں دیتی ہے تو ان گاڑیوں پر جو نمبر پلیٹ لگی ہوتی ہے وہ سبز رنگ کی ہوتی ہے۔ جبکہ عوام میں سے جن کے پاس گاڑیاں ہیں ان پر سفید رنگ کی نمبر پلیٹ ہوتی ہے۔ اسی سے دو طبقوں کی پہچان ہو جاتی ہے۔

بات صرف نمبر پلیٹ تک محدود نہیں بلکہ ہر جگہ سرکاری اور غیر سرکاری کا فرق نظر آتا ہے۔ ان دو طبقات کے بعد ایک اور طبقہ بھی ہے جو ان دونوں سے اوپر ہے۔ اور اسے ریاست کہا جاتا ہے۔ مہذب دنیا میں ریاست کا مطلب ماں یا چھاں (چھاؤں) ہوتا ہے۔ یعنی ریاست اپنے تمام (سرکاری اور غیر سرکاری) افراد کے تحفظ کا نام ہوتا ہے۔ ہر ایک بچے سے لے کر ہر ایک بوڑھے فرد تک سب کا ہر طرح کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی بچہ والدین کا اور کوئی والدین اولاد کے بھی محتاج نہیں ہوت۔ے کیونکہ ان کے سر پر ریاست کا ہاتھ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ شاید ریاست کا ہاتھ ہمارے گریبانوں پر یا ہماری گردنوں پر رہتا ہے۔ اب ہر جگہ سبز اور سفید کی تقسیم واضح نظر آتی ہے۔ اور سرکاری ملازم کو ہر جگہ تقویت ملتی ہے۔

پہلا سوال تو یہ ہے کہ ہر سرکاری محکمہ میں سرکاری گاڑیاں کیوں دی جاتی ہیں؟ دوسرا سوال یہ کہ ان گاڑیوں پر الگ رنگ کی نمبر پلیٹ کیوں لگائی جاتی ہے؟ اگر کوئی ریاست کے کسی محکمہ میں خدمات انجام دے رہا ہے تو اس کے اس کے کام کی مناسب تنخواہ ملنی چاہیے لیکن گاڑی کیوں؟ محکمہ تعلیم میں جتنے اساتذہ ہیں انہیں سرکاری گاڑیاں نہیں ملتیں لیکن وہ اپنے تعلیمی اداروں میں وقت پر پہنچتے ہیں۔ اسی طرح محکمہ صحت کے ڈاکٹر اور ملازمین بھی بغیر سرکاری گاڑیوں کے گزارہ کر سکتے ہیں۔ تو دوسرے محکمہ جات کے افسران کیوں اپنے بندوبست پر دفاتر میں نہیں پہنچ سکتے؟ سوائے چند ایک سرکاری محکموں جن کا زیادہ تعلق فیلڈ کے کام سے ہوتا ہے یا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گاڑیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن دوسرے بیسیوں ایسے ادارے ہیں جنہیں گاڑیاں دینا بالکل فضول نظر آتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ یہ ملکی وسائل کا ضیاع ہے۔

ایک طرف اربوں روپے کی گاڑیاں خریدی جاتی ہیں اور پھر ان کے ایندھن اور مرمت کے نام پر ماہانہ لاکھوں خرچ ہوتے ہیں۔ ایک غریب اور قرضوں کے نیچے دبے ہوئے ملک کو یہ کیسے زیب دیتا ہے؟ پھر ان گاڑیوں پر سبز پلیٹ لگانے کی کیا وضاحت ہے؟ کیا یہ اس لیے کہ وہ جس طرح مرضی گاڑی چلائیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے پھریں تو انہیں کوئی روک نہ سکے؟ اگر تو سبز رنگ کی پلیٹ اس لیے لگائی جاتی کہ سب کو علم ہو کہ یہ گاڑی سرکاری گاڑی ہے، اسے کہیں غلط استعمال نہ کیا جا سکتا ہو، صرف سرکاری کام کے لیے استعمال ہو سکے۔ یا یہ کہ اس گاڑی میں ایک سرکاری افسر ہے جو ہر طرح سے قوانین کی پابندی کرتا ہے۔ لیکن ایسا تو کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ جو نظر آتا ہے وہ یہ کہ یہ سرکاری مخلوق ہے جس کا مقام عام مخلوق سے ہر لحاظ سے بلند ہے۔ ان کو کسی قطار میں کھڑا کیا جا سکتا ہے نہ ان کو کسی قانون کی خلاف ورزی پر پوچھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ سرکاری ہیں۔

دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں جا کر دیکھا جا سکتا ہے کہ اول تو وزرا سے سرکاری افسران تک کسی کو اسپیشل سرکاری گاڑی دی ہی نہیں جاتی۔ اور اگر دی جاتی ہے تو اس پر الگ رنگ کی نمبر پلیٹ نہیں ہوتی ہے اور ان پر بھی عام گاڑیوں کی طرح ٹریفک قوانین نافذ ہوتے ہیں۔ البتہ غیر ملکی سفارتکاروں کی گاڑیوں پر نیلے رنگ کی نمبر پلیٹ دے کر ان کی پہچان الگ رکھی جاتی ہے۔
اسی طرح ہر جگہ پر سب کے ساتھ برابر سلوک کیا جاتا ہے۔ سب ایک ہی قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہوتی ہے جس سے ہر فرد کا اپنی ریاست پر اعتبار قائم ہوتا ہے۔ اور وہ کسی بھی طرح قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ یورپ امریکہ یا جاپان تو دور ہیں آپ اپنے برادر عرب ممالک میں دیکھ لیں جہاں جمہوریت بھی نہیں ہے لیکن انسانی حقوق اور برابری نظر آتی ہے۔

اگر پاکستان کو مضبوط کرنا ہے اور فرد کا ریاست پر اعتبار قائم کرنا ہے تو پھر کم از کم یہ دو طبقاتی نظام کو بدلنا ہوگا۔ سرکار کا لفظ ہی ختم ہونا چاہیے ریاست اور فرد کے بیچ واضح معاہدہ نظر آنا چاہیے اسی طرح حکومت اور اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں اپنا اپنا کام کرنا چاہیے۔