بلاول بھٹو کی نامکمل تجویز اور قومی یکجہتی کا قضیہ

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردی کے خلاف قومی یک جہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف سے قومی سلامتی کمیٹی کا نیا اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔  گورنر ہاؤس لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  یہ اجلاس خواہ ایک ماہ بعد ہی منعقد ہو لیکن کوشش کی جائے کہ اس میں سب سیاسی پارٹیاں شریک ہوں تاکہ قومی  افہام و تفہیم سے  تشدد کے اہم چیلنج کا مقابلہ کیا جاسکے۔

گزشتہ  ہفتے کے دوران قومی سلامتی کے اجلاس  میں تحریک انصاف کے علاوہ  تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل  متعدد جماعتوں نے شرکت سے انکار کیا تھا۔ اس موقع پر یہ عذر تراشا گیا تھا کہ عمران خان کو  اس اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دینے کی وجہ سے  اجلاس کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔  تاہم یہ مؤقف  تحریک انصاف کی طرف سے اختیار کیا گیا تھا ، اس سیاسی اتحاد میں شامل باقی جماعتوں  نے بلوچستان میں سرکاری پالیسی سے اختلاف کی وجہ سے شریک ہونے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ ان میں خاص طور  سے محمود خان اچکزئی اور سردار اختر مینگل قابل ذکر ہیں۔ حالانکہ بلوچستان کے  ان دونوں لیڈر وں کو  اگرچہ قومی اسمبلی میں بڑی نمائیندگی حاصل نہیں ہے لیکن خانہ جنگی کی طرف بڑھتے ہوئے صوبے  کے نمائیندوں کے طور پر وہ قومی اتحاد کے عمل کا حصہ بن کر کسی مناسب سیاسی حل کی طرف پیش  قدمی کا حصہ بن سکتے تھے۔

اس سارے معاملے کا یہ پہلو بھی حیرت انگیز ہے کہ صرف ایک روز پہلے  تحریک انصاف نے نہ صرف قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہونے کا اعلان کیا  تھا بلکہ اس اجلاس کے لیے اپنے ارکان کے نام بھی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو جمع کرادیے تھے۔ البتہ جب اس کے ساتھ سیاسی اتحاد میں شریک چھوٹی جماعتوں کے لیڈروں نے  قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کو غیر ضروری قرار دینے کا مؤقف اختیار کیا تو تحریک انصاف نے بھی  ایک نیا یوٹرن لیتے ہوئے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان  کردیا۔ حالانکہ  اپوزیشن اتحاد کی سب سے بڑی اور نمایاں سیاسی قوت ہونے کہ وجہ سے تحریک انصاف کو اپنی بات منوانی چاہئے تھی لیکن اس بڑی پارٹی کی مجبوری اور بدحواسی کا یہ عالم ہے کہ وہ چھوٹی پارٹیوں اور قومی اسمبلی میں صرف ایک نشست رکھنے والے لیڈروں کے پیچھے چلنے پر آمادہ ہے۔  وقت کے ساتھ  کسی نہ کسی فورم سے یہ سوال ضرور  اٹھایا جائے گا کہ ایک ایسی پارٹی سے ملک کے عوام  کیسی رہنمائی کی توقع کرسکتے ہیں جس کا کوئی واضح سیاسی مؤقف ہی نہیں ہے اور جو سیاسی نعرے بازی کے لیے چھوٹی پارٹیوں کو رہنما مان کر  ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے سے گریز کرتی ہے۔ حالانکہ تحریک انصاف اس وقت اگر قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ لوگوں نے اس پارٹی پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں ووٹ دیے ہیں۔ سیاسی مقاصد سے حالات کو  خواہ جیسے بھی بیان کیا جائے  لیکن اگر عوام  کی حمایت سے منتخب ہونے والے ارکان کوئی سیاسی لائحہ عمل سامنے لانے اور اس کی بنیاد پر حکومت اور دیگر پارٹیوں سے معاملات طے کرنے  کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرپاتے تو وہ درحقیقت    حق نمائیندگی ادا کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔

عمران خان کی حراست کئی لحاظ سے سیاسی ہے اور اس حوالے سے بحث کی جاسکتی ہے۔ لیکن کیا ایک سیاسی لیڈر کی گرفتاری اور اس کے خلاف حکومتی و ریاستی طاقت کے استعمال کو   اتنا بڑا مسئلہ بنا کر قومی  سلوگن بنایا جاسکتا ہے  کہ قومی سلامتی جیسے اہم مسائل کے بارے میں بھی بات سے گریز کیا جائے۔ تحریک انصاف نے بعینہ یہی رویہ اختیار کیا ہے۔   یہ تو واضح ہے کہ پارٹی  قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس اور اس میں پی ٹی آئی کی شرکت کی اہمیت سے آگاہ تھی  لیکن چھوٹی پارٹیوں کے دباؤ میں اس نے اس اصولی مؤقف کو تبدیل کرلیا۔  یوں  قیادت کرنے کی بجائے دوسروں کے پیچھے لگنے کو ترجیح دی۔  حالانکہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈروں کو یہ سوچنا چاہئے کہ لوگوں نے انہیں ووٹ دے کر  قومی اسمبلی میں قابل قدر نمائیندگی کے قابل سمجھا ہے۔ انہوں نے  محمود خان اچکزئی کی پارٹی کو اسیّ نوّے نشستیں نہیں دلوائیں۔ عوام کے سامنے اچکزئی کی بجائے عمران خان اور ان کی پارٹی جواب دہ ہوگی۔ بشرطیکہ  تحریک انصاف سیاسی جواب دہی کے اصول کو مانتی ہو۔

یہ تو مانا جاسکتا ہے کہ قومی مباحث میں مسائل اور حقیقی معاملات کی بجائے نعروں اور سلوگن کی بنیاد پر خیال آرائی کی وجہ سے مقبولیت کو ہی  سب سے بڑا پیمانہ مانا جاتا ہے۔ سب مباحث کی تان اس بات پر آکر ٹوٹتی ہے کہ عمران خان آخر سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں۔ حالانکہ قومی سیاست  میں کسی شخص کی ذاتی مقبولیت سے  کوئی فرق نہیں پڑتا  کیوں کہ ملک میں مروج پارلیمانی نظام حکومت میں یہ اہم ہوتا ہے کہ لوگوں کے ووٹ لے کر ان کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی اپنی نمائیندگی کو کتنے مؤثر انداز میں استعمال کرتی ہے۔  بوجوہ اس وقت ملکی سیاسی ماحول میں یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا لیکن یہ صورت حال ہمیشہ موجود نہیں رہے گی۔ اگر ملک میں جمہوری طریقہ جاری و ساری رہا تو عوام میں اتنا شعور بھی ضرور پیدا ہوگا کہ وہ کسی ایک لیڈر سے وابستگی و شیفتگی رکھنے کے باوجود یہ  سوال کریں کہ  کوئی پارٹی ووٹ لے کر  اس کا حق کیسے ادا کرتی ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کے دھوکے میں تحریک انصاف اس حقیقت  کو نظر انداز کررہی ہے۔  پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے۔ کوئی پارٹی شاید ریاستی جبر کا سامنا تو کرلے لیکن اگر عوام کو یہ احساس ہوجائے کہ کوئی خاص  پارٹی ان کی نمائیندگی کرنے اور قومی مسائل   حل کرنے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتی تو یہ  تاثر اس کے امکانات کو محدود کرے  گا۔

اس بات کا امکان نہیں ہے کہ تحریک انصاف بعد از وقت دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کمیٹی کے کسی اجلاس میں شرکت کرے گی۔ کیوں کہ پارٹی نے گزشتہ اجلاس کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے تاکہ وہ اس اجلاس میں شریک ہوں۔  شہباز شریف کی حکومت اس وقت عمران خان کو کسی قسم کی کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔   اگرچہ یہ اصولی طور سے غلط اور ملکی سیاسی ماحول  کے لیے نقصان دہ رویہ ہے لیکن کسی حد تک تحریک انصاف نے خود حکومت کو یہ موقع فراہم کیا ہے  کہ وہ اس کا راستہ روکے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تحریک انصاف نے کسی سیاسی معاملہ میں تعاون کا اشارہ نہیں دیا اور پارلیمانی سیاست میں کردار ادا کرنے سے گریز کیا ہے۔  اس طرح یہ تاثر قوی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں سیاسی افراتفری ہے۔   تحریک انصاف تو یہی بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ افراتفری عمران خان کی حراست اور موجودہ حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے لیکن دسری طرف موجودہ حکومت کی ناکامیوں کا حساب تو اسی وقت ہوسکے گا اگر تحریک انصاف اس کا کوئی متبادل پیش کرنے  کے قابل ہوتی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہی پارٹی کی پالیسی کو دیکھ لیا جائے تو اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ تحریک انصاف  حکومت کے بیان کردہ  ’دہشتگردوں کے خلاف زیادہ طاقت کے استعمال‘ کے مؤقف کے جواب میں کوئی متبادل پیش کرنے کے قابل نہیں ہے۔  بصورت دیگر   وہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جاکر   اپنا مؤقف بیان کرتی یا اس اجلاس کے متبادل کوئی سیاسی پلیٹ فارم تشکیل کرکے دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ٹھوس سیاسی ایکشن پلان بیان کیا جاتا۔  تحریک انصاف اس میں ناکام ہے۔

 بلاول بھٹو زرداری کا یہ گمان غلط اور بے بنیاد ہے کہ ایک مزید موقع دیا جائے تو تحریک انصاف کو راضی کرکے اس اجلاس میں لایا جاسکتا ہے۔   اگر فرض کرلیا جائے کہ بلاول بھٹو  کی بات مان کر حکومت ایک بار پھر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلا لیتی ہے تو اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ تحریک انصاف اور  تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل دیگر جماعتیں اس میں شریک ہوں گی  اور کوئی قابل عمل تجاویز سامنے لائیں گی۔ پاکستان کے پاوراسٹرکچر پر نگاہ رکھتے ہوئے یقین سے  کہا  جاسکتا ہے کہ  اگر ایسا کوئی دوسرا اجلاس منعقد ہو بھی جائے اور  پی ٹی آئی و دیگر  جماعتیں اس میں شریک ہو ں تو بھی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والا اعلامیہ  اسی بیان کا چربہ ہوگا جو 18 مارچ کے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا وہ اجلاس بھی فوجی قیادت کے پیش کردہ بیانیے کی تائید میں ہی عافیت سمجھے گا۔  یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ سیاسی امور پر عسکری قیادت کی بالادستی کسی سیاسی پارٹی  کا مسئلہ نہیں ہے ۔ اس حوالے سے بیان بازی  کا مقصد  اپنی  موجودگی ظاہر کرکے عسکری  قیادت کو رجھانا ہوتا ہے۔ جوں ہی اقتدار کی دیوی مہربان ہونے لگے تو وہی لیڈر جو  سیاست میں فوج کی مداخلت کو سب سے بڑی علت قرار دے رہے ہوتے ہیں، سیاسی کتاب کی الف بے پڑھنے کے لیے عسکری قیادت  کے دروازے پر حاضری دینے لگتے ہیں۔ اقتدار کی دوڑ میں  ملکی سیاسی پارٹیوں  نے بلا تخصیص   ہمیشہ    عوام کے ووٹوں سے زیادہ عسکری قیادت کی خوشنودی کو اہمیت دی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے سیاسی مفاہمت پیدا کرنے کی نئی کوشش  میں بھی اسی شکست خوردگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ وہ اب بھی قومی سلامتی کمیٹی کا خفیہ اجلاس بلانے کی بات کررہے ہیں، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر پوری قوم کے سامنے تشدد اور دہشت گردی سے متعلق مسائل پر غور و فکر کرنے کی بات نہیں کرتے کیوں کہ موجودہ عسکری قیادت کو ایسا مکالمہ منظور نہیں ہے۔ اسی طرح نہ انہوں نے آل  پارٹیز کانفرنس بلانے یا عمران خان کو پیرول پر رہا کرکے اس میں شرکت کی دعوت دینے کی اپیل  کی ہے بلکہ  وہ خود کو نہ حکومت، نہ اپوزیشن  میں شامل قرار دے کر ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔  حالانکہ تجویز دینے کی بجائے بلاول بھٹو زرداری ایک قومی لیڈر  کے طور پر پیپلز پارٹی کی طرف سے اے پی سی بلانے کا اعلان کرسکتے تھے۔ یوں تحریک انصاف کی یہ ضد بھی پوری ہوجاتی کہ وہ موجودہ حکومت کے ساتھ مل کر نہیں چلنا چاہتی اور قومی اتفاق رائے کا مقصد بھی حاصل  ہوجاتا۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری یہ خطرہ مول لینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ کیوں کہ اس طرح اسی مقتدر قوت کی ناراضی کا خطرہ ہے جس کی خوشنودی کے لیے وہ شہباز  حکومت کا حصہ نہ ہونے کے باوجود   اسمبلی میں اس کی تائید کرنے پر مجبور ہیں۔

قومی افہام و تفہیم  بلاشبہ اس وقت    ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ تاہم اس کے لیے لیڈروں کو   ضد اور نفرت کی سیاست کی بجائے قومی مسائل کو سمجھ کر بات  کرنی پڑے گی۔  اور  ٹی وی ٹاک شوز کی سطح سے بلند ہوکر پارلیمنٹ کو طاقت ور اور قابل اعتبار ادارہ بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔