تشدد اور سیاسی جد و جہد میں حد فاصل ضروری ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 25 / مارچ / 2025
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لیڈروں کی گرفتاری کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف حکومت کی طرف سے سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے تو دوسری طرف بی وائی سی نےکسی نرمی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے تصادم کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ لڑائی گرفتاریوں اور شٹر ڈاؤن ہڑتال سے بڑھ کر اب سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے تک پھیل چکی ہے جس میں کردار کشی کی جارہی ہے اور اشتعال انگیزی کی ناگوار صورت حال پیدا ہورہی ہے۔
احتجاج کا یہ سلسلہ11 مارچ کو وادی بولان میں جعفر ایکسپریس کے اغوا کے اور دہشت گردوں کے قبضے سے مسافروں کی رہائی کے لیے ہونے والی فوجی کارروائی کے بعد سے شروع ہؤا۔ اس سانحہ میں 33 دہشت گرد مارے گئے تھے لیکن 31 شہری بھی جاں بحق ہوئے جن میں فورسز کے ارکان بھی شامل تھے۔ بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ حکومت نے فوجی کارروائی میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ خبروں کے مطابق کسی دہشت گرد کا کوئی وارث تو سامنے نہیں آیا لیکن بلوچ یک جہتی کمیٹی نے حکومت سے یہ لاشیں اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جو نامنظور کردیا گیا۔اس کے بعد حالات و واقعات کے بارے میں متضاد اور اپنے اپنے نقطہ نظر سے معلومات فراہم کی جارہی ہیں ۔لیکن ایک طرف بی وائی سی کے کارکنوں و لیڈروں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا تو دوسری طرف حکومت نے کسی قسم کی رعایت کرنے کی بجائے بلوچ یک جہتی کمیٹی کی خاتون لیڈروں سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ کوئٹہ سے گرفتار ہونے والوں میں بی وائی سی کی لیڈر ماہر نگ بلوچ بھی شامل تھیں۔ ایک روز بعد کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے کی کوشش میں ایک دوسری ممتاز لیڈر سمی بلوچ کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
اب بلوچ گروہ اس نکتہ پر احتجاج منظم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومت نے خواتین کو گرفتار کرکے بلوچوں کی عزت کو للکارا ہے۔ خاص طور سے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کے بیان میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے۔ حالانکہ یہ گرفتاریاں صنفی بنیاد پر نہیں ہوئیں بلکہ احتجاج اور پولیس سے مقابلہ کی صورت حال میں بلا تخصیص لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں ماہرنگ بلوچ اور دوسری خواتین بھی شامل ہیں۔ اس مسئلہ کو عورتوں کے ساتھ زیادتی کا معاملہ نہیں کہا جاسکتا۔ اگرچہ کسی سیاسی تحریک سے وابستہ افراد کی گرفتاریاں ناقابل قبول ہیں کیوں کہ سیاسی معاملات کو صلح صفائی اور مفاہمت سے حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم یہ ذمہ داری حکومت اور مخالف فریق پر یکساں طور سے عائد ہوتی ہے۔ کوئی سیاسی تحریک اسی وقت تک قابل احترام اور عوامی تائید کی مستحق ہوتی ہے جب تک مطالبات کو پر امن طریقے سے پیش کیا جائے، احتجاج کے دوران تشدد کا راستہ اختیار نہ کیا جائے اور قانون کا احترام پیش نظر رکھا جائے۔ حالیہ تصادم کے دوران دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر حکومتی اداروں نے زیادتی کی یا احتجاج ختم کرانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تو بلوچ یک جہتی کمیٹی کی طرف سے بھی تشدد بروئے کار لایا گیا۔ کسی وقتی ہیجان خیز ماحول میں شروع ہونے والا تصادم ایسی صورت حال کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے فوری بعد حکومت اور احتجاج منظم کرنے والوں کو ہوشمندی سے ،مفاہمت کی طرف لوٹنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایک دوسرے پر حملے کرنے ، الزام تراشیوں اور دھمکیاں دینے سے حالات بہتر ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔
یہ تنازعہ اگرچہ بلوچ یک جہتی کمیٹی اور حکومت کے درمیان دہشت گردوں کی لاشوں کی ’ملکیت‘ کے سوال سے شروع ہؤا لیکن بعد میں اس نے تشدد کی صورت اختیار کرلی، جس کا مظاہرہ مبینہ طور پر دونوں طرف سے کیا گیا ہے۔ ایسے میں مناسب ہوتا کہ دونوں ہی اپنی غلطی تسلیم کرکے ایک قدم پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتے۔ لیکن اگر احتجاجی یہ سمجھیں گے کہ اب ’آخری معرکہ‘ کا وقت آچکا ہے تو شاید حکومت بھی اس آخری معرکہ جیتنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرے گی۔ یہ صورت حال بہر حال کسی پر امن تحریک کے لیے سود مند نہیں ہوسکتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ سردار اختر مینگل جیسا ہوشمند لیڈر ان حالات کو سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے 28 مارچ کو اپنے آبائی قصبے وڈھ سے کوئٹہ کی طرف مارچ کرنے کا ا علان کیا ہے تاہم اس احتجاج کے لیے انہوں نے جو دلائل استعمال کیے ہیں، وہ صریحاً اشتعال انگیزی ہے۔ سردار اختر مینگل کو بھی دیگر بلوچ لیڈروں کی طرف اچانک منظم ہونے والے گروہ بلوچ یک جہتی کمیٹی کی یک بیک عوامی مقبولیت اور اس کی نوجوان قیادت کی طرف سے سیاسی خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے جب بی وائی سی حکومت سے براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے، تو اختر مینگل بھی اسے اپنی مقبولیت میں اضافے اور خود کو بلوچستان کی سیاست میں مؤثر رکھنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
اپنے مارچ کے سلسلہ میں ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ ’ بی وائی سی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف 28 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا۔ میں اپنی بیٹیوں کی گرفتاری اور ماؤں و بہنوں کی بے حرمتی کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کرتا ہوں۔میں خود اس مارچ کی قیادت کروں گا اور تمام بلوچ بھائیوں اور بہنوں، جوانوں اور بوڑھوں کو اس مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ یہ صرف ہماری بیٹیوں کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، یہ ہمارے قومی وقار، عزت اور ہمارے وجود کا سوال ہے۔ ہم اس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ نہیں ہو جاتیں۔ ہماری تحریک پرامن ہے۔ ہم ظلم اور جبر و ناانصافی کے خلاف نکلے ہیں۔ وڈھ سے ہمارا سفر ضمیر کا سفر ہے۔ اس وقت جو خاموش ہے، وہ قصور وار ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک آواز بن جائیں‘۔ اس بیان میں ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ اختر مینگل ایک وقتی تصادم اور اشتعال کی صورت حال کو اپنی سیاسی قوت میں اضافے کے لیے استعمال کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ حالانکہ ایسے ہتھکنڈوں سے کبھی دیرپا نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ اگر اختر مینگل کو اس وقت بلوچستان میں بے چینی اور سیاسی محرومی پر تشویش ہے تو انہیں اشتعال پیدا کرنے اور اس معاملہ کو خواتین کی عزت و حرمت کا مسئلہ بنانے کی بجائے ، سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر ریاست پاکستان کو سیاسی بات چیت پر مجبور کرنا چاہئے تھا۔ لیکن ایسا راستہ فوری مقبولیت کا سبب نہیں بنتا، اس لیے کسی بھی مفاد پرست لیڈر کی طرح اختر مینگل بھی اب بلوچ یکجتی کمیٹی کی مقبولیت کے کاندھوں پر اپنا قد اونچا کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔
بلوچ یک جہتی کمیٹی کو دو بنیادوں پر تخصیص حاصل رہی ہے۔ یہ گروہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس نے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھا کر قومی و بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل کی ہے۔ اس گروہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کی قیادت میں خواتین کی کثیر تعداد موجود ہے اور اس کی لیڈر بھی ایک خاتون ماہرنگ بلوچ ہیں۔ بی وائی سی کا بنیادی مطالبہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے حوالے سے تھا۔ اس سوال پر اس گروہ کو بلوچستان میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں قبولیت حاصل ہوئی تھی۔ اسی لیے بلوچ یک جہتی کمیٹی نے جب دسمبر 2023 میں اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا تھا تو انہیں ملک بھر سے ہمدردی اور حمایت ملی تھی۔ اسلام آباد میں بلوچ احتجاجیوں کے قیام کے دوران شہریوں کی طرف سے سہولتیں فراہم کرنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح میڈیا نے بھی اس گروہ کے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی تھی۔ اس موقع پر حکومت نے یقیناً احتجاج کے لیے آنے والے کارکنوں کو ہراساں کیا لیکن اس اقدام کو کبھی عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ اسی طرح لاپتہ افراد کے سوال پر بی وائی سی کے مؤقف کو ملک بھر میں تائید و حمایت حاصل ہے۔
پاکستان کی سول سوسائیٹی اور غیر جانبدار مبصرین نے ہمیشہ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اسے ایسے لیڈروں یا گروہوں کے ساتھ سیاسی مکالمہ کرنا چاہئے جو پر امن طریقے سے جائز مطالبوں کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں اور ان میں خواتین بھی شامل ہیں۔ اگرچہ اس دوران فوج کی طرف سے یہ اشارے دیے گئے ہیں کہ بلوچ یک جہتی کمیٹی درحقیقت ریاست کے ساتھ برسر پیکار علیحدگی پسند عسکری گروہوں کا سیاسی چہرہ ہے۔ یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس گروہ کو غیر ملکی مدد ملتی ہے اور یہ لوگ بلوچستان میں انتشار پیدا کرنے کے عالمی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ البتہ ان الزامات کو کبھی عوامی طور سے قبول نہیں کیا گیا۔ البتہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کے بعد اس دہشت گردی پر خاموشی اختیار کرنے کے بعد میں دہشت گردوں کے ’وارث‘ بن کر سامنے آنے سے بلوچ یک جہتی کمیٹی کے لیڈروں نے اپنی نیک نیتی کے بارے میں شبہات پیدا کیے ہیں۔ بی وائی سی کو سب سے پہلے علیحدگی پسند عسکری گروہوں کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے اور سیاسی جد و جہد اور ریاست سے بغاوت میں فرق کو مان کر اپنی سیاسی پوزیشن نمایاں کرنی چاہئے۔
حالیہ دنوں میں شروع ہونے والے تصادم میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لیڈر ہوشمندی سے خود کو پر امن سیاسی گروپ کے طور پیش کرنے کی بجائے ، اگر دہشت گردی اور معصوم انسانوں کے قتل میں ملوث لوگوں کے ہمدرد کے طور پر نمایاں ہوں گے اور اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کریں گے تو یہ رویہ ان کی جائز سیاسی جد و جہد کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق کو ملک بھر میں ہمدردی حاصل ہونی چاہئے۔ سب سیاسی پارٹیوں کو اس مقصد کے لیے اپنے منشور نمایاں کرنے چاہئیں لیکن اگر انسانی حقوق کی دہائی دینے والے بلوچ گروہ دہشت گردوں کی ہمدردی میں سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تو اس سے پاکستان تو مسلسل مشکل میں رہے گا لیکن بلوچستان کے عوام کے مسائل بھی نظر انداز ہوتے رہیں گے۔
امید کرنی چاہئے کہ بی وائی سی اور دیگر بلوچ سیاسی گروہ نہ صرف تشدد کو مسترد کریں گے بلکہ آئین پاکستان کے ساتھ وابستگی کا اعلان بھی کریں گے تاکہ ان کی جد و جہد کے لیے صرف بلوچستان میں ہی شٹر ڈاؤن نہ ہو بلکہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خوا کے لوگ بھی آواز بلند کریں۔