’را‘ پر مذہبی آزادی کے خلاف کام کرنے کا الزام
امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی ایک رپورٹ میں انڈیا کی انٹیلیجنس ایجنسی ’را‘ پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے خلاف پابندیوں کی سفارش کی ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے منگل کو اپنی سالانہ رپورٹ 2025 جاری کی ہے جس میں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انڈیا نے اس رپورٹ کو مسترد اور حقائق کے منافی قرار دے کر تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی پینل نے مذہبی آزادی کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک ابتر ہوتا جا رہا ہے اور سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل کی سازشوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر کمیشن نے سفارش کی ہے کہ انڈیا کی ایجنسی را پر پابندیاں عائد کی جائیں۔
کمیشن نے منگل کو جاری کی گئی رپورٹ میں کہا کہ ’ 2024 میں انڈیا میں مذہبی آزادی کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے گئے اور اس عرصے کے دوران مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوتا گیا۔‘
رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی نے گزشتہ سال کی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی اور غلط معلومات کا پروپیگنڈا کیا۔
بی بی سی بنگلہ کے مطابق بدھ کی شام انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نےایک بیان نہ صرف امریکی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کر دیا بلکہ حقائق کے منافی قرار دے کر ان سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی سے جاری وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی اس کی وضاحت کرے کہ اس نے صورتحال کے بارے میں اپنے جانبدارانہ رویے کا اظہار کیا اور حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے ایک بار پھر 2023 میں نیویارک میں ایک امریکی سکھ شہری کے قتل کی کوشش میں انڈیا کی انٹیلی جنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ ’را‘ کے ایک افسر اور ملک کے چھ سفارت کاروں کے ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
تنظیم نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ الزامات مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور کینیڈین حکومت کی انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ امریکی حکومت انڈیا کے وکاس یادیو جیسے افراد اور را جیسی تنظیموں پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کرے۔
رپورٹ میں انڈیا میں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان کی جان و مال پر حملوں کے متعدد واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے مطابق مذہبی آزادی کی منظم اور سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر پاکستان کو خصوصی تشویش کے ملک یا سی پی سی قرار دینے کی سفارش بھی کی ہے۔
رپورٹ میں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پائے جانے والے پاکستانی حکام اور سرکاری ایجنسیوں پر مخصوص مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سفارش کی گئی ہے کہ ایسے افراد کے اثاثے منجمد کیے جائیں اور امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تشدد، ٹارگٹ کلنگ، جبری تبدیلی مذہب اور دیگر مذہبی بنیادوں پر جرائم پر اکسانے، ان میں حصہ لینے والوں کا احتساب کیا جائے۔