لاہور کی رونقیں اور پاک ہند کرکٹ

آج کل لاہور میں افطاریوں کی بہار ہے۔ حال ہی میں لبرل ہیومن فورم کی دو افطاریاں منعقد کی ہیں اور دوستوں کی باہمی افطاریاں تو قریباً ہر روز چل رہی ہیں۔

کچھ تنظیموں یا پارٹیوں کی دعوتیں بھی موصول ہوتی ہیں۔ اگر ان میں پڑ گئے تو مینیج کرنامشکل ہو جائے۔ افطاریوں کے ساتھ ساتھ عید کی بھی آمد آمد ہے، عید کی رونقیں زوروں پر ہیں۔ افطاری کے بعد کسی بھی بڑی مارکیٹ یا مال میں چلے جائیے، لوگ شاپنگ کریں نہ کریں ہجوم کی صورت گھومتے ضرور ملیں گے۔
رمضان سے قبل بھی لاہور کی رونقیں زوروں پر رہیں۔ ایک طرف فورٹریس میں عرصۂ دراز کے بعد ہارس اینڈ کیٹل شو منعقد ہوا جس کی اختتامی تقریب میں آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر کے ہمراہ پنجاب کی خوش پوش چیف منسٹر مریم نوازشریف نے شرکت کی۔ جنہیں ملاحظہ کرتے ہوئے یوں محسوس ہورہا تھا کہ شاید اس ملکِ بدنصیب میں اب کے سویلین ملٹری ریلیشنز خاصے بہتر ہوچکے ہیں، جو معلوم نہیں جمہوریت کی مضبوطی کا باعث بن رہے ہیں یا مزید کمزوری کا۔ پٹواریوں کو تو مضبوطی دکھتی ہے جبکہ یوتھیوں کو کمزوری۔

مال روڈ پرفورٹریس سے کچھ آگے الحمرا میں ”فیض امن میلے“ کی رونقیں رہیں تو مابعد یہاں ”لٹریسی فیسٹیول“ نے خوب چہل پہل کا ماحول بنائے رکھا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لاہوری کھانوں یا کھابوں کے ہی رسیا نہیں، علمی، ادبی اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے بھی زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ اس مرتبہ تو کتاب بینی میں ان کی دلچسپی بھی خاصی نمایاں رہی۔ پہلے ایکسپو سنٹر میں بڑا کتاب میلہ لگا اور پھر پنجاب یونیورسٹی کے کوریڈیور میں یونیورسٹی انتظامیہ نے ایسا بک فیئر سجایا جس کے متعلق بتایا گیا کہ کتابوں کی ریکارڈ توڑ سیل ہوئی۔ یہ بات اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ سبھی یہ بولتے ہیں کہ یہاں کتاب بینی کا ذوق تو پہلے ہی کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا مگر اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں تو یہ مزید گھٹ کر کمتر ہوچکا ہے۔ ایسی حوصلہ شکنی کے ماحول میں یہ واقعی خوشگوار نیوز تھی۔

درویش کے لیے رمضان سے قبل ایک بڑی خوشی اور رونق کا باعث اس کے محبوب تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں اولڈ راوینز یونین کے الیکشن تھے۔ اتنی گہما گہمی اور رونق کے کیا کہنے۔ اتنے برسوں بعد اپنی مادر علمی میں پہنچ کر احساسات کی کیفیت ناقابل بیان تھی جسے ماضی کے جھروکوں یا تصور کی آنکھوں سے جھانکتے یا دیکھتے، صرف محسوس ہی کیاجاسکتا ہے۔ ایک سترہ برس کا پینڈو بچہ اس ماڈریٹ ماحول میں آیا تو اس کی کیا کیفیات تھیں؟ اندر سے وہ تھا بھی مولوی، اس نئے ماحول میں اس کی ایڈجسٹمنٹ کیسے ہوئی؟ یہ کہانی موضوع سے متعلقہ نہیں، اس لیے چھوڑے دیتے ہیں۔

بات ہورہی تھی اولڈ راوینز کے الیکشن کی جس کی یونین کے صدر اطہر اسمعیل چنے گئے اور نائب صدر ہمارے دوست ہردلعزیز خالد رانجھا اور جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر آئے شہاب بشارت بھٹہ جبکہ سیکرٹری فنانس عمار سلیم منتخب ہوئے ۔ یونین کے کام اور کارکردگی سے علی الرغم یہ امر از خود قابلِ ستائش ہے کہ اس الیکشن کے لیے نئے اور پرانے سبھی اولڈ راوینز چناؤ کے لیے اپنی اس قدیمی درسگاہ پہنچتے ہیں۔ برسوں سے بچھڑے دوست یہاں ملتے ہیں، دیکھا جائے تو یہ بھی جمہوریت کا فیضان ہے۔ جمہوریت جس طرح ملکی و قومی سطح پر مختلف النوع طبقات اور گروہوں کو جوڑنے کا باعث بنتی ہے، نسلی، جنسی یا مذہبی امتیازات کو مٹاتے ہوئے ان سب کو وطنی ایکتا و یکجہتی میں پروتی ہے۔ اسی طرح ادارہ جاتی سطح پر ملاحظہ کیاجائے تو یہ نسلوں کو یکجا کرنے اور قربت بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

ہمارے واصف ناگی صاحب نے ”وہ لاہور کہیں کھوگیا“ کے عنوان سےایک طویل سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں وہ پارٹیشن سے قبل کے لاہور کی جو تصویر کشی کرتے رہتے ہیں بلاشبہ وہ بہت رومانوی و دلکش ہے۔ جس میں مسلمانوں کے ساتھ برابری پر ہندوؤں کی بھی بہت بڑی آبادی لاہور کی رونق تھی۔ بلکہ لاہور کی تعمیر و ترقی اور اسے تہذیبی گہوارہ بنانے میں ہندوؤں کا رول باقی سب سے بڑھ کر تھا۔ کاروباری سرگرمیوں میں بھی وہ پیش پیش تھے۔ اس حوالے سے سرگنگارام کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے جنہیں بجا طور پر ماڈرن لاہور کا باپ قراردیاجاتا ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے متذکرہ الیکشن کی رونق میں یہ امر بھی دلچسپ تھا کہ وہاں شائقین کی دلچسپی کو سامنے رکھتے ہوئے پاک بھارت کرکٹ میچ دکھانے کے لیے بڑی سکرینیں لگی ہوئی تھیں۔ ہمارے نوجوان داد دینے میں کسی تعصب یا تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کررہے تھے۔ بلکہ جب کوئی انڈین کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھاتا تو اس کی بھی اپنے کھلاڑی کی طرح ہی پذیرائی کی جاتی۔

راجستھان سے ہمارے دوست اروند درویش کی دعوت پر لاہور آۓ ہوئے تھے اروند سہارن جو اینکرپرسن اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں، سوشل میڈیا پر ان کی فالونگ لاکھوں میں ہے۔ انہوں نے درویش کے ہمراہ مختلف النوع پروگراموں میں بھرپور شرکت کی اور اہلیانِ لاہور کی زندہ دلی پر خوش ہوئے۔ یہاں ان سے اکثر یہ شکوہ کیا گیا کہ انڈیا نے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان نہ بھیج کر اچھا نہیں کیا۔ اگر انڈین ٹیم یہاں آتی تو عوامی جوش و خروش میں اور اضافہ ہوتا۔ جواب میں انڈین اینکر پرسن بولتے کہ میں کرکٹ سے بڑھ کر عوامی مفاد میں دیگر مطلوبہ اقدامات کو زیادہ اہم خیال کرتا ہوں۔ عام آدمی کو کرکٹ سے زیادہ اپنے بال بچوں کے کھانے پینے کی فکر ہے۔ اس ہوشربا مہنگائی میں اس کی ترجیح اپنی گھریلو ضروریات ہوں گی نہ کہ کرکٹ۔ آلو پیاز ٹماٹر جو واہگہ کے اس پار بیس پچیس روپے کلو دستیاب ہیں، میں حیرت زدہ ہوں وہ یہاں ڈیڑھ سو روپے کلو ملتے ہیں۔ مجھے ریحان صاحب کے گھر ایک کاشتکار محنت کش نوجوان مٹھو نے بتایا کہ وہ کھاد کا ایک توڑا چودہ ہزار میں خریدنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ کھاد کا یہی توڑا ہمارے ہندوستان میں ہمارے ساڑھے تیرہ سو میں دستیاب ۔ کرنسی کا فرق نکال بھی لیا جائے پھر بھی پاکستانی کسان کی مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چھ سو یونٹ تک بجلی فری ہے۔

ہم لوگوں کو کرکٹ سے زیادہ عام آدمی کی معاشی پریشانیوں اور دکھوں کا احساس و ادراک ہونا چاہیے۔ آپ لوگوں کو تعلقات کی خرابی کے حقائق معلوم کرنا چاہییں۔ شکوے شکایتیں دونوں اطراف ہیں۔ ہمارے لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم نے تو بدترین جنگی ماحول اور بے پناہ مشکلات کے باوجود کبھی آپ لوگوں کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب نہیں کیے۔ پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں میں بھی آپ کے ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ چائینہ کے ساتھ ہمارے کس قدر تنازعات ہیں مگر ان سب کے باوجود ہم لوگوں نے نہ تو اپنے سفارتی تعلقات توڑے ہیں اور نہ تجارت ختم کی ہے۔ ہم لوگوں نے تو کتنے طویل برسوں تک آپ کے ملک کو ”دی موسٹ فیورٹ نیشن“ کا سٹیٹس دیے رکھا۔ جبکہ اس سلسلے میں بھی آپ لوگوں کی جانب سے مثبت رسپانس نہیں دیا گیا۔ آپ سوچیں اگر اسلام آباد میں انڈین ہائی کمشنر نہیں ہوگا تو لوگوں کے لیے ویزوں کا حصول کتنا مشکل ہوجائے گا۔ کھیلوں کی بات تو ان سب کے بعد آتی ہے۔

درویش نے اروند سہارن کے ہمراہ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے بھی پاک ہند تعلقات کے حوالے سے طویل نشست کا شرف حاصل کیا جو صدقِ دل سے یہ چاہتے ہیں کہ دونوں قریب ترین ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں سرد مہری کی جو برف جمی ہوئی ہے وہ پگھلے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے سفارتی تعلقات کی بحالی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ دیگر معاملات پر بھی گفت و شنید کا سلسلہ بتدریج شروع ہوسکتا ہے۔ اسی صورت میں جہاں لاکھوں پاکستانی انڈین وزٹ پر جاسکیں گے وہیں لاکھوں ہندوستانی بھی لاہور کی رونقیں دوبالا کرنا چاہیں گے۔