پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پرکیا کسی کو پریشانی ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 27 / مارچ / 2025
ارسا پاکستان کی ایڈوائزری کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تازہ پانی کی قلت کے پیش نظر اپریل کے دوران ملک میں صرف پینے کا پانی فراہم کیاجائے گا اور فصلوں کے لیے پانی نہیں مل سکے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈیمز میں پانی نہیں ہے، دریاؤں کا بہاؤ کم ہؤا ہے اور پہاڑوں پر برف کے ذخائر قلیل ہیں۔ یہ صورت حال فصلوں کے لیے بہت سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے پانی کی قلت رجسٹر کی جارہی ہے۔
بدھ کو ارسا کے اجلاس میں ہونے والے اس فیصلے کے بارے میں اکا دکا انگریزی اخباروں کی سوا کسی میڈیا میں کوئی خبر دیکھنے میں نہیں آئی اور نہ ہی قومی ٹاک شوز کے اینکرز کو اس اہم مسئلہ کے بارے میں کوئی تشویش لاحق ہوئی جس پر دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات پریشان ہیں اور مسلسل عوام کو آئیندہ برسوں میں پیدا ہونے والی افسوسناک صورت حال سے آگاہ کررہے ہیں۔ ارسا نے ملک میں ایک ماہ کے لیے صرف پینے کا پانی فراہم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ بھی اپنی نوعیت میں نیا ہے کیوں کہ اس سے پہلے ایسی سنگین صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی۔ اب بھی یہی امید کی جارہی ہے کہ پانی کے ذخائر میں اضافے سے صورت حال معمول پر آسکے گی لیکن پانی کی کمی پاکستان کا ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کا ایک اہم مسئلہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے دنیا کے متعدد ممالک پانی کی قلت کا شکار ہورہے ہیں۔ 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب نفوس تک پہنچنے کا اندازہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں ایک سے دو فیصد تک اضافہ کا امکان ہے۔ یہ دونوں عوامل دنیا میں تازہ پانی کی صورت حال کو سنگین بنا رہے ہیں۔ اس طرح نہ صرف صنعتی مقاصد اور زراعت کے لیے پانی کی کمی دیکھنے میں آئے گی بلکہ پینے کا پانی بھی نایاب ہوسکتا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک اس وقت بھی پانی کی شدید قلت کا سامنا کررہے ہیں۔ گو کہ ان میں بیشتر مشرق وسطی کے ممالک ہیں جہاں تازہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں اور انہیں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیرون ملک ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے علاوہ متعدد افریقی ممالک بھی پانی کی سب سے زیادہ قلت کا سامنا کرنے والے 25 ممالک میں شامل ہیں کیوں کہ وہاں وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تازہ پانی ذخیرہ کرنے اور اس کی بچت کے طریقوں پر عمل درآمد نہیں ہوپاتا۔ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت میں ان پچیس ممالک میں شامل ہے جہاں اعداد و شمار کے مطابق پانی کی فراہمی ایک اہم مسئلہ ہے۔ تاہم پاکستان بھی اس فہرست سے دور نہیں ہے۔ دنیا میں پانی کی فراہمی کے دباؤ کا سامناکرنے والی فہرست میں پاکستان کا نمبر 31 ہے۔
عالمی ماہرین اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پانی کی قدر و قیمت کے بارے میں آگاہی کو فروغ دے کر، ماحولیاتی تبدیلی کا شعور پیدا کرکے اور حکومتوں کی طرف سے اس اہم مسئلہ پر توجہ دے کر دنیا میں پانی کے ذخائر کو محفوظ کرنے اور ان کے بہتر استعمال کا ایسا طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ آبادی میں اضافے کے باوجود تمام لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی ملتا رہے۔ تاہم اس مقصد سے سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ عام طور سے ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیات کے بارے میں شعور بھی موجود ہے اور وہاں حکومتیں بھی مستقبل کی منصوبہ بندی کی کوشش کرتی ہیں۔ البتہ ورلڈ واٹریسورسز انسٹی ٹیوٹ ( ڈبلیو آر آئی) کے اعداد و شمار اور تخمینہ کے مطابق اگر عالمی طور سے کل پیداوار کا ایک فیصد مستقبل میں پانی کی بہتر فراہمی کے لیے صرف کیا جائے تو آبادی اور درجہ حرارت میں اضافہ کے باوجود پانی کی قلت پیدا نہیں ہوگی۔ موجودہ حالات میں پانی استعمال کے علاوہ ضائع بھی ہوتا ہے جسے بچا کر ایک اہم مشکل سے بنی نوع انسان کو بچایا جاسکتا ہے۔ البتہ ڈبلیو آر آئی کا خیال ہے کہ عالمی لیڈر اس اہم مسئلہ پر نوجہ دینے اور ضروری مالی وسائل فراہم کرنے پر راضی نہیں ہیں۔
یہ صورت حال امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لیڈر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سنگین ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ ماحولیات کے بارے میں تحقیق اور ماہرین کے انتباہ کو درست نہیں مانتے۔ انہوں نے صدر بنتے ہی عالمی ماحولیات کی بہتری کے لیے پیرس معاہدے سے باہر نکلنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ درجہ حرارت میں کمی کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج جیسے متفقہ اور اہم عالمی اصول کو بھی نہیں مانتے بلکہ امریکہ میں تیل و گیس کے ذخائر کو بروئے کار لانے کے علاوہ وہ کوئلے کے استعمال کو بھی امریکہ کی ترقی اور معاشی بہتری کے لیے جائز سمجھتے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ چار سال کی مدت کے لیے ہی صدر بنے ہیں لیکن امریکہ جیسے بڑے ملک کی طرف سے ماحولیات کو درپیش خدشات سے انکار کی وجہ سے عالمی تنظیموں کا کام مشکل ہوجائے گا اور اس بارے میں کیے جانے والے متعدد اقدامات پر متفقہ طور سے عمل نہیں ہوسکے گا۔
پاکستان بھی اگرچہ دنیا کا حصہ ہے اور پوری دنیا میں رونما ہونے والے حالات، ملکی ماحولیات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ایسے معاملات ہیں جن پر پاکستان کا براہ راست کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ یعنی دنیا میں اگر درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یورپی ملکوں ، امریکہ ، چین و بھارت کی صنعتوں سے خارج ہونے والا دھؤاں ہے جسے ماحولیات کے متفقہ کوٹہ کے مطابق مینیج نہیں کیا جاتا ۔ خاص طور سے امریکہ، چین اور بھارت اس حوالے سے بدترین مثال قائم کررہے ہیں جہاں صنعتوں کو ماحول دوست بنانے پر سرمایہ کاری نہیں ہورہی۔ دوسری طرف پاکستان جیسے ملکوں کے لیڈر ماحول کی خرابی میں دوسرے ملکوں پر نکتہ چینی کرکے اور خود کو مظلوم اور متاثرہ ملک قرار دے کر صرف کسی نہ کسی نوع کے مالی وسائل حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان اگر درجہ حرارت میں اضافہ کے متاثرین میں نمایاں ہے تو اس کے ساتھ ہی یہاں آباد لوگ بھی ماحولیات کی بہتری کے لیے سب سے زیادہ لاپرواہ لوگوں میں شامل ہیں۔
اس بارے میں نہ تو حکومت کوئی خاص توجہ دینے کی ضرورت محسوس کرتی ہے اور نہ ہی ملکی دانشور یا میڈیا ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور درجہ حرارت میں اضافہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے لوگوں کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ بدھ کو ارسا کے اجلاس میں پانی کی قلت کے سبب سنگین صورت حال کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن اس موضوع پر کوئی عمومی گفتگو یا تبصرہ نظر سے نہیں گزرتا۔ اخبار اور ٹیلی ویژن نیوز بلیٹن سیاسی چپقلش یا بیانات سے بھرے ہوتے ہیں۔ ملک کی بہتری کے لیے یقیناً سیاسی افہام و تفہیم بھی ایک اہم مسئلہ ہے لیکن زندہ رہنے اور پاکستانی آبادی کے لیے زرعی پیداوار کے مقصد سے پانی کی مسلسل اور قابل اعتبار فراہمی اہم ترین مسئلہ ہے۔ دیگر سب معاملات اس کے بعد ہی آتے ہیں۔ پاکستان کو ایک طرف سندھ طاس معاہدہ کی وجہ سے بھارت کے معاندانہ رویہ کا سامنا ہے اور کسی عالمی فورم پر پاکستان اب تک اپنا مقدمہ مؤثر طریقے سے پیش نہیں کرپایا تو دوسری طرف سیاسی چپقلش کی وجہ سے ملکی سطح پر کوئی ایسا منصوبہ شروع نہیں ہوسکتا جس سے مستقبل میں پانی ذخیرہ کرنے اور بروقت فصلوں کے لیے اس کی فراہمی کا مقصد پورا ہوسکے۔ کالا باغ ڈیم کے سوال پر ہونے والی سیاست اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔
اب بھی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان چولستان کے زرعی منصوبہ کے لیے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے سوال پر سیاسی لڑائی جاری ہے۔ صوبوں کے لیے کوٹے کے مسئلے پر لڑنے والے سیاست دان ملک میں پانی کی عمومی صورت حال پر کسی پریشانی کا اظہار نہیں کرتے۔ اسی لیے ان کی تقریروں اور بیانات میں مخالفین پر دشنام طرازی تو سنی جاسکتی ہے لیکن مسائل کے بارے میں بات کرنے کا رواج نہیں ہے۔ پاکستان میں آبادی میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو ایک طرف پانی کی قلت کا سبب بن رہا ہے تو دوسری طرف جدید تعلیمی نظام موجود نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان نسلیں ملکی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے یا ملکی ترقی میں معاونت کرنے کے قابل نہیں بن پاتیں۔ اس کمی و کمزوری کا مقابلہ پاکستان کو خود ہی کرنا ہے لیکن اس کی قیادت نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
پانی کی بچت کے لیے یورپ کے ایسے ممالک میں بھی مہمات چلائی جاتی ہیں جہاں آبادی کم اور پانی کی فراہمی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہاں بھی گرمیوں میں گھر کے لان کو پانی نہ دینے ، گاڑیا ں دھونے سے گریز کرنے یا شاور میں کم پانی استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں پانی کے استعمال پر پابندی بھی عائد ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی اصول لاگو نہیں اور نہ ہی کوئی سرکاری ادارہ یا رضاکارانہ طور سے کام کرنے والے گروہ پانی کے ضیاع کو قومی زندگی کے لیے نقصان دہ قرار دینے کا باعث قرار دے کر اس کی حوصلہ شکنی کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ شکوہ تو کیا جاتا ہے کہ سطح زمین سے پانی نکالنے کے لیے اب کئی سو میٹر گہرا بور کرنا پڑتا ہے لیکن یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ زیر زمین پانی کی قلت کی کیا وجوہات ہیں اور ملک کی شہری زندگی یا زراعت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ حالانکہ ملک میں چند سادہ طریقوں کو عام کرکے پانی بچانے کے کا مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ رویہ عام ہوجائے تو پانی کی بچت و فراہمی بہتر بنانے کے بڑے منصوبے شروع ہوسکتے ہیں۔
ارسا کا اجلاس پریشانی کا اظہار کرکے اور ایک ماہ تک زراعت کے لیے پانی نہ دینے کے فیصلے پر ختم ہوگیا لیکن کسی طرف سے یہ سوال اٹھانے کی زحمت نہیں کی گئی کہ اس کا کون ذمہ دار ہے۔ کیوں کہ ہمارے لیڈر ہمیں یہی بتاتے ہیں کہ ہمارے مسائل دوروں کی وجہ سے پیدا ہورہے ہیں ۔لیکن وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ انہیں حل کرنے کے لیے ہمیں خود ہی کوشش کرنا پڑے گی۔