ملک میں مذہبی منافرت اور لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے: وزیراعظم

  • جمعہ 28 / مارچ / 2025

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے اندر مذہبی منافرت اور لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے۔ اسلام آباد میں ’رب ذوالجلال کا احسان پاکستان‘ تقریب سے خطاب میں یہ بات کہی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھ کر پاکستان کے معاشی، معاشرتی اور دہشت گردی کا مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرے۔ آج دہشت گردی کےخاتمے کے لیے ایک مرتبہ پھر افواج پاکستان قربانیاں دی رہی ہیں، اس کے باوجود ملک کے اندر تفریق ہے، مذہبی منافرت ہے، لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے، ذاتی خواہشات آگے لانے کے لیے قومی مفاد قربان کرنے کی جو سوچ بے وفائی ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عظیم ملک پاکستان کے لیے ہم نے قربانیاں دیں آج وہاں پر ترقی اور خوش حالی کے مناظر کے بجائے تفریق ہے اور اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے ملکی استحکام، عزت اور وقار کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔آج بھی موقع ہے کہ فیصلہ کریں کہ پاکستان کے وسیع ترمفاد کی خاطر اپنی تمام ذاتی خواہشات اور انا کو پاکستان کے تابع کریں، اس سے بڑی پاکستان کی خدمت نہیں ہوسکتی ہے۔

مملکت خداد پاکستان کو اللہ نے جوہری قوت سے نوازا ہے۔  جوہری افزودگی کے خلاف تمام عالمی طاقتیں متحد ہیں اور  ایسی کوشش  کرنے پر سزا دینے کے لیے تیار ہیں لیکن خدائے بزرگ برتر کا جتنا شکر کرے کم ہے، جس کی کمال مہربانی سے پاکستان 1998 میں ایٹمی قوت بن گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا کوئی ازلی دشمن ہو یا کوئی قریبی دشمن ہو تو اللہ نے اس قوم کو بہادر فوج کے علاوہ جوہری طاقت عطا فرمائی ہے۔ دشمن اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کرے تو یہ قوم اس کو روند ڈالے گی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم قوم کی ترقی، یک جہتی اور اتفاق کے لیے اپنے ذاتی اختلافات دفن کریں، ذاتی خواہشات قربان کریں، یہی وہ واحد راستہ ہے، جس سے پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتا ہے۔  پاکستان اس لیے معرض وجود میں نہیں آیا تھا کہ ہم قرضے لیتے رہیں اور قرض کی زندگی بسر کریں۔ جب تک ہم پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط قلعہ نہ بنالیں اس وقت تک ہمیں بھرپور خیال رکھنا ہوگا کہ معاشی آزادی کے حصول تک سیاسی آزادی خواب ہوتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے دستور میں کہا گیا ہے ریاست اپنے شہریوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ اپنی زندگیاں اسلام کے مطابق گزار سکیں، پاکستان میں کوئی قانون اور ضابطہ قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بن سکتا ہے۔ہمیں اسی طرح واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے اگر ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے اور پاکستان کو معاشی طاقت بنانا ہے تو اس دشوار گزار راستے سے گزرنا پڑے گا، جس سے تمام کامیاب ملک گزر چکے ہیں۔

اگر ہم مل کر آگے چلیں گے تو یہ ملک چند برسوں میں نہ صرف خطے کے  ہمسایوں ہیں کو پیچھے چھوڑے گا بلکہ ہم قائداعظم کے خواب کو ضرور شرمندہ تعبیر کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے بھائیوں، بہنوں اور بچوں کےساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں جو قابض اور ظالم افواج کے ظلم و جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔