میانمار میں شدید زلزلہ، سینکڑوں ہلاکتوں کا خردشہ

  • جمعہ 28 / مارچ / 2025

جمعہ کی صبح وسطی میانمار میں 7.7 شدت کے زلزلہ آیا جس میں شدید جانی و مالی نقصان کا اندازہ کیا جارہا ہے۔ اگرچہ متاثرہ علاقوں سے درست معلومات دستیاب نہیں ہیں تاہم آخری اطلاعات تک تقریباً ڈیڑھ سو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

زلزلے کی وجہ سے متعدد علاقوں لرز اُٹھے۔ میانمار کے علاوہ  تھائی لینڈ اور جنوب مغربی چین سمیت دیگر علاقوں میں بھی اس زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

امدادی کارروائیوں میں مصروف امدادی کارکُنان کی جانب سے سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اب تک ہلاکتوں کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز میانمار کے شہر ساگانگ سے 16 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ یہ میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے کے قریب ہے، جس کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے اور دارالحکومت نی پی تو سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں ہے۔

میانمار بھر میں ہی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ دارالحکومت میں سڑکیں بُری طرح سے ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اور زلزلے کی وجہ سے ان میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

تھائی لینڈ اور جنوب مغربی چین سمیت دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں زلزلے کے مرکز سے سینکڑوں میل دور ایک زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے سے اس میں کام کرنے والے 81 تعمیراتی کارکن لاپتہ ہیں۔ ایک ویڈیو میں بینکاک میں چھت پر ایک تالاب سے پانی کو گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سرکاری طور پر ہلاکتوں کے اعداد و شمار سامنے آنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن منڈلے میں قائم ایک ریسکیو ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد ’کم از کم بھی ہوئی تو سینکڑوں میں ہوں گی۔‘ ہم اس وقت صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کیونکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ میانمار جسے پہلے برما کے نام سے جانا جاتا تھا سے معلومات حاصل کرنا اس وقت انتہائی مُشکل کام ہے۔

میانمار میں 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے فوجی حکومت قائم ہے جس کی وجہ سے معلومات تک رسائی میں مُشکلات کا سامنا ہے۔ فوجی حکومت تقریباً تمام مقامی ریڈیو، ٹیلی ویژن، پرنٹ اور آن لائن میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے اور میانمار میں انٹرنیٹ کا استعمال بھی محدود ہے۔

زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں موبائل نیٹ ورک خراب ہیں اور ہزاروں متاثرین بجلی کی بندش کی وجہ سے مُشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں بی بی سی کو بھی زمینی حقائق معلوم کرنے میں مُشکلات کا سامنا ہے۔