شہباز شریف کی تضاد بیانی اور ریاست کو ’سخت‘ بنانے کا عزم

لگتا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی خواہش کے مطابق پاکستان کو ’ہارڈ اسٹیٹ‘ بنانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔  اس کا اظہار وزیر اعظم ہاؤس میں ملک کی سیاسی  و عسکری قیادت کی ملاقات  کے بعد جاری ہونے والے بیان کے علاوہ آج اسلام آباد  کی ایک تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف کی  تقریر سے بھی ہوتا ہے۔

تاہم  ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت پاکستان جب ہارڈ اسٹیٹ کی  طرف گامزن ہوگی تو وہ جمہوری اقدار اور ملکی آئینی نظام کی حفاظت کے لیے کیا رویہ اختیار کرے گی۔ یوں تو ہارڈ اسٹیٹ ایک ایسی مملکت کو بھی کہا جاسکتا ہے جہاں ہر کام اصول و قاعدے کے مطابق ہو۔ کسی کو قانون سے ماورا نہ سمجھا جائے اور   ہر  سرکاری ادارہ اور اس میں کام کرنے والے اہلکار قانون میں بیان کی گئی حدود  کے پابند ہوں ۔ اور کسی صورت  ان کی خلاف ورزی کرنے کا حوصلہ نہ کریں۔ قومی سلامتی  کمیٹی کے اجلاس میں جنرل عاصم منیر نے جب پاکستان کو سافٹ سے ہارڈ اسٹیٹ بنانے کی بات کی تھی تو  اس سے یہی  سمجھا  جاسکتا تھا کہ انہوں نے حکومت کو  یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ  معاملات پر اس کی گرفت ڈھیلی ہے۔ اسی لیے انہوں نے بیڈ گورننس کا ذکر بھی کیا اور بالواسطہ طور سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ  حکومتی ناقص انتظام کی وجہ سے فوجی جوانوں اور افسروں کو دہشت گردی کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔

یہ بیان درحقیقت  یہ واضح کرتا تھا کہ فوج تو ناقص نظام حکومت میں بھی قربانیاں دے رہی ہے اور  سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ عوام کی حفاظت کے مقصد سے سر پر کفن باندھے ہوئے ہے لیکن حکومت کو بھی معاملات درست کرنے چاہئیں اور اپنے حصے کا کام کرنا چاہئے۔  عام حالات میں اسے فوجی سربراہ کی طرف سے کسی حکومت پر ’عدم اعتماد‘ سمجھا جاسکتا ہے لیکن  اس وقت ملک میں چونکہ نام نہاد ہائیبرڈ۔2 حکومت اقتدار سنبھالے ہوئے ہے جسے بظاہر فوج سے  کوئی خطرہ نہیں ہے کیوں کہ یہ شاید عسکری قیادت کی کمزوری ہے۔ یادش بخیر ہائیبرڈ حکومت کا تصور عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیے عسکری قیادت نے ہی 2018 میں پیش کیا تھا۔ البتہ اس تجربہ  میں ناکامی کے بعد اسے ختم کرنے اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 فروری   2024 میں ہونے والے انتخابات اسی لیے متنازعہ ہیں کیوں کہ ان انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت یا حکومتیں ملک اور صوبوں میں برسر اقتدار  آئیں، انہیں ہائیبرڈ۔2 کی حکمت عملی کا نتیجہ سمجھا جارہا ہے۔ اس بار عسکری قیادت نے ففتھ جنریشن وار یا ہائیبرڈ نظام کا  نام لے کر براہ راست  مداخلت کابرملا اظہار تو نہیں کیا لیکن عمران خان کو اقتدار سے باہر رکھنے کے عمل سے یہ واضح ہؤا کہ عسکری قیادت اپنے پہلے تجربے سے اس قدر مایوس ہوئی ہے کہ اب کسی بھی قیمت پر اس کے اثرات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی  لیے شہباز شریف جیسے آزموددہ و بااعتبار سیاست دان کو وزیر اعظم بنانے کے لیے میدان  ہموار ہؤا۔ اپنے ہاتھ سے لگائے ہوئے ایک پودے کی زہرناکی  سے بچنے کے لیے شہباز شریف کو درحقیقت عمران خان کا ’تریاق‘ سمجھا گیا تھا۔ البتہ جنرل عاصم منیر کی طرف سے گورننس کے بارے میں عدم اطمینان کے بار بار اظہار سے  پتہ چلتا ہے کہ فوج کی یہ خواہش پوری نہیں ہوپائی جس پر پریشانی کا اظہار قومی سلامتی کمیٹی میں بھی سنائی دیا اور حکومت کو ہارڈ اسٹیٹ بننے کا مشورہ دیا گیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ  ناقص نظام حکومت  کے پہلو پر تو غور کرنے  کی خواہاں نہیں ہے لیکن ہارڈ اسٹیٹ کو  ’مزید سختی‘ کے معنوں میں لے کر اب ایسے انتظامات کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن میں سیاسی آزادیوں کے علاوہ آزادی رائے براہ راست نشانے پر ہے۔  گزشتہ چند روز میں صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن  دیکھا گیاہے۔ حتی کہ ایک صحافی کو محض ایک سیاست دان کا بیان ری ٹوئٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ ایسے میں کسی طرف سے یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ اگر یہ بیان ایسا ہی خطرناک تھا تو اسے جاری کرنے والے کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے اس صحافی کو پکڑنے کا کیا  مقصد ہوسکتا ہے جس نے اسے  آگے بڑھانے کی  ’غلطی‘ کی تھی؟    ایسے جابرانہ  ہتھکنڈے   ملک میں اتحاد اور یک جہتی کی فضا پیدا کرنے کی بجائے خوف و ہراس پیدا کریں گے جس  میں سماج دشمن عناصر کو مزید کھل کھیلنے کا موقع ملے گا۔

وزیر اعظم ہاؤس میں اجلاس اور وزیر اعظم کے بیان سے یہی پہلو نمایاں ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت  ’ہارڈ اسٹیٹ‘ کا یہ مطلب لے رہی ہے کہ ملک میں مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے پوری سرکاری قوت استعمال کی جائے اور کسی کو کیوں اور کس لیے کہنے کی آزادی  نہ دی جائے۔ حالانکہ کوئی بھی جمہوریت سوال کرنے  کی آزادی چھین کر فعال نہیں ہوسکتی۔ جب تک حکومتیں تلخ اور ناپسندیدہ سوال سننے کا حوصلہ پیدا نہیں کریں گی، انہیں جمہوری روایت کا پابند نہیں مانا جاسکتا۔  یہ  تفریق کرنا بے حد ضروری ہے کہ  کون سی بات ،خبر اور اس کے  حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات  پر مبنی ہے اور کون  کا کام محض پروپیگنڈے اور جھوٹ پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی جس میں صرف سرکا رکے بیان کو ہی سچ مانا جائے تو  اس سرکاری ’سچ‘ کے کھوٹ کی پرکھ ممکن نہیں ہوسکے گی۔ اس کے نتیجے میں  ملک میں ایک ایساجمہوری نظام نہیں پنپ سکے گا جس کی ضمانت ملکی آئین دیتا ہے اور جس کے تحت حلف اٹھا کر شہباز شریف اس وقت ملک کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز ہیں۔

وزیر اعظم ہاؤس میں  ہونے والے  اجلاس میں وزیر اعظم کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور عسکری قیادت شریک ہوئی ۔ اجلاس  کے  بارے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ  ’نیشنل ایکشن پلان کے تحت قومی بیانیے کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔   قومی بیانیہ کمیٹی کو دہشت گردوں اور شرپسندوں کے سدباب کے لیے مؤثر اور سرگرم بیانیہ بنانے کی ہدایات دی گئیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی بیانیے اور ملک کی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کے مواد کا سدباب کیا جائے گا۔ ملکی سلامتی اور ہم آہنگی کے لیے تمام صوبوں کا تعاون اور آپسی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا پر ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا‘۔ ان معلومات کے بین السطور پڑھا جاسکتا ہے کہ حکومت  جس بیانیے کی بات کررہی ہے وہ یک طرفہ سرکاری پروپیگنڈا پر مبنی مواد ہوگا۔ اسے چیلنج کرنے یا اس پر سوال اٹھانے والے عناصر کو  ’ملک دشمن مہم‘ قرار دے کر ان کے خلاف طاقت استعمال کی جائے گی۔  حالیہ دنوں میں اس حکومتی طرز عمل کی متعد دمثالیں دیکھی بھی گئی ہیں۔

جہاں تک انسداد دہشت گردی کا تعلق تو حکومت کا اختیار محض دو کاموں تک محدود ہے۔ ایک فوج کو طاقت استعمال کرنے کی اجازت دینا یا علمائے دین سے دہشت گردی کے خلاف فتوے دینے کی  اپیل کرنا ۔ اسی لیے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی وزیر اعظم نے انہیں دو باتوں پر زور دیا اور بتایا کہ کیسے پاکستان ایک نعمت ہے  اور فوج اس نعمت کی حفاظت کے  لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ حیرت انگیز طور پر  جس تقریب سے  وزیر اعظم نے خطاب کیا اسے ’پاکستان رب ذوالجلال کا احسان‘ کا نام دیا گیا تھا۔  نہ جانے اس قسم کے عنوانات کون ذی شعور  تجویز کرتے ہیں اور ان سے  قومی تعمیر کا کون سا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے کیوں کہ وزیر اعظم نے خود ہی فرمایا کہ ’ ملک کے اندر مذہبی منافرت اور لسانیت کی بنیاد پر تفریق ہے۔ پاکستان کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔بدقسمتی سے غلط معلومات سے معاشرے میں تقسیم در تقسیم پیدا ہورہی ہے۔ غلط معلومات اور پروپیگنڈے کےخلاف علما مثبت سوچ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی کریں۔ علما پر بڑی ذمے دار عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی کردار ادا کریں‘۔ لیکن اس تقریر میں شہباز شریف یہ بتانے سے قاصر رہے کہ   اس ملک میں علما کے علاوہ حکومت نام کی بھی ایک چیز موجود ہے۔ اس کی بھی کوئی ذمہ داری ہے۔ یہ حکومت ملک میں موجود تقسیم، انتشار ، بد اعتمادی اور منافرت ختم کرنے کے لیے کیا اقدام کررہی ہے۔ ملک کا عام شخص بھی یہ جانتا ہے کہ  مذہبی لیڈروں نے کبھی اتحاد کے لیے کام نہیں کیا۔ نفرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ تقسیم  کے سلسلہ میں پاکستانی  علما و مشائخ کا  کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اب انہی عناصر سے  دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تقسیم شدہ قوم کو متحد کرنے کی درخواست کی جارہی ہے۔ کیا یہ حکومت کی  انتظامی ناکامی، فکری افلاس اور سیاسی بدحواسی نہیں کہ  دہشت گردی جیسے سنجیدہ مسئلہ سے  نمٹنے کے لیے آزادی رائے پر حملہ   ہوتاہے یا ملاؤں کے پیچھے منہ چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر اعظم ایک طرف قوم میں انتشار و تقسیم  کا پیغام دے رہے ہیں لیکن اسی تقریر میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ ’پوری قوم پکار پکار کر تقاضا کر رہی ہے کہ آئیں ہم یک جان اور دو قالب ہوجائیں۔ اور اتحاد اور اتفاق کی برکتوں کے ساتھ پاکستان کو درپیش مسائل  حل کریں۔ اتحاد اور اتفاق سے ہی پاکستان دنیا میں اپنا مقام حاصل کرسکتا ہے۔ ہر شخص معاشی، معاشرتی اور دہشت گردی سے متعلق مسائل میں اپنا حصہ ڈالے‘۔  سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قوم اتحاد چاہتی ہے تو وہ تقسیم اور منتشر کیوں ہے اور اگر یہ مسائل حکومتی بد انتظامی کی  وجہ سے پیدا ہورہے ہیں تو  وزیر اعظم ان کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے  نعروں اور خوشنما فقروں سے اپنی ذمہ داری سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کیو ں کررہے ہیں؟ اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کا وزیراعظم خود منتشرالخیال ہے اور اسے نہ تو حالات کی شدت و سنگینی کا اندازہ ہے اور نہ ہی وہ انہیں حل کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حتی کہ موجودہ حکومت میں تو یہ حوصلہ بھی نہیں ہے کہ وہ  سیاسی میدان میں اپنی ناکام کا اعتراف کرکے ایک طرف ہوجائے اور ان لوگوں کو کام کرنے کا موقع دے جو ملکی مسائل حل  کرسکیں یا کم از کم انہیں ملکی اکثریت کی تائید حاصل ہو۔

حالات و واقعات واضح کررہے ہیں کہ  جب  کسی حکومت  کو عوام کا اعتماد حاصل نہ رہے تو  وہ کام کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے۔ یہ بھی عیاں ہے کہ  ملک میں ہر طرح کا ہائیبرڈ نظام حکومت ناکام ہوچکا ہے۔  ملک کو آگے لے جانے کے لیے آئین کے  تحت منتخب ومقبول  و قیادت ہی سیاسی الجھنوں کو دور کرکے راستہ ہموار کرسکتی ہے۔ موجودہ حکومت بلوچستان سے لے کر خیبر پختون خوا تک سیاسی بے چینی  ختم کرنے کے لیے کوئی  مفاہمانہ  حل تجویز کرنے میں ناکام  ہے۔  دیکھنا ہوگا کہ  ہائیبرڈ انتظام  سے بہتری کی امید لگانے والی طاقت کب تک   محض مشوروں  سے کام چلائے گی۔