بلاول بھٹو زرداری کی ثالثی اور پی ٹی آئی
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 29 / مارچ / 2025
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بات چیت کے ذریعے پی ٹی آئی کو منانے اور انہیں قومی معاملات میں مشاورت کے لئے سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لئے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
حکومت نے اس کو قبول کرتے ہوئے، تحریک انصاف کے ساتھ بات چیت کرنے کی ذمہ داری بلاول بھٹو کو سونپ دی ہے اور کہا ہے کہ وہ چیئرمین پی ٹی آئی سے شرکت کی یقین دہانی حاصل کرلیں تو سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ اقدام بہت خوبصورت اور بروقت ہے۔ پاکستان اس وقت جن مسائل سے دوچار ہے وہ قومی مفاہمت کے ساتھ، قومی اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں۔ افغانستان کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ ہم طالبان کے حوالے سے جن خوش فہمیوں کا شکار تھے ، وہ ہمارے سامنے الٹ پلٹ ہو چکی ہیں۔ امریکی اتحادی افواج کے بعد طالبان کی کابل پر حکومت کے قیام کو ہم نے اپنی فتح تصور کیا تھا۔ ہمیں یقین واثق تھا کہ طالبان کی کابل پر حکومت قائم ہونے کے بعد افغانستان، پاکستان کا دوست ملک بن جائے گا۔ ہماری شمال مغربی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں، امریکی اتحادی افواج کے 2021میں افغانستان سے نکلنے اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان اپنی تاریخ کی سب سے بڑی دہشت گردی کا شکار ہو گیا ہے۔
ٹی ٹی پی،القاعدہ، مجید بریگیڈ، بی ایل اے اور نجانے کتنے دیگر دہشت گرد گروپ پاکستان پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور ان سب کی جڑیں اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں۔ ہمارے ریاستی و حکومتی ادارے ہی نہیں، سویلین تنصیبات تھانے، بسیں، ریلیں اور ان میں سفر کرنے والے عام شہری بچے عورتیں سب بلاتفریق دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ ان دہشت گردوں کے پاس افغانستان میں چھوڑے گئے جدید ترین امریکی ہتھیار اور نیویگیش کے آلات اور دیگر اسلحہ موجود ہے ۔انہیں سیٹلائٹ کمیونیکیشن کی سہولیات بھی دستیاب ہیں ۔وہ آگے بڑھ بڑھ کر پاکستان پرحملہ آور ہو رہے ہیں۔ انہیں انڈین را ، افغانستان کی این ڈی ایس کے علاوہ دیگر پاکستان دشمن ایجنسیوں کی مالی و تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔
ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں فکری یکجہتی پائی جائے۔ ہمارا ایک قومی موقف ہو ہماری سیاست، صحافت اور معاشرت یک جان ہو کر اپنی مسلح افواج و دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ ملک دشمنوں کوضربِ کاری لگائی جا سکے۔لیکن پاکستان اس وقت ایک قسم کے سیاسی بحران کا شکار نظر آ رہا ہے۔ اتحاد ی حکومت، شہبازشریف کی قیادت اور جنرل عاصم منیر کی سرپرستی میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ بین الاقوامی مالی و زری ادارے ہوں یا دوست ممالک، سب کے ساتھ بہتر تعلقات بھی قائم کئے جا رہے ہیں اور قومی معیشت کی بہتری کے لئے اقدامات بھی ہو رہے، جن کے نتائج بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو مجموعی طور پر 2.3ارب ڈالر کی رقم مل جائے گی۔
جاری حالات میں یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس کے ہماری معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ دیگر معاملات میں بھی حکومت کی کارکردگی قابل تعریف ہے لیکن سیاسی عدم استحکام کا ایک تاثر موجود ہے جسے پی ٹی آئی بڑی تکرار کے ساتھ دہراتی رہتی ہے۔ الیکشن 2024کے انعقاد اور نتائج کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی منفی خیالات کا پرچار کرتی رہتی ہے۔ پی ٹی آئی کا آفیشل سوشل میڈیا ہو یا عمران خان کا ٹویٹر ہینڈلر سب پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ ہر وقت سیاسی انارکی پھیلانے کی کاوشیں کرتے رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو پاکستان اور اس کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف اور صرف عمران خان کی جادوئی انداز میں رہائی چاہتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ عمران خان کے بیانات پاکستان دشمن قوتوں کے لئے تقویت کا باعث بن رہے ہیں۔ انہیں ریاست پاکستان کے مخالفوں کی حمایت کرکے زیادہ خوشی محسوس ہوتی ہے۔
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں بشمول ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے حد درجے کا بیر ہے۔ وہ ان جماعتوں کی قیادت کو گالی دیتے رہتے ہیں۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں آصف علی زرداری صاحب کے خطاب کے دوران انہیں جس طرح زچ کیا گیا ،وہ قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ ویسے تو آصف علی زرداری نے جو مفاہمت کے بادشاہ کہلاتے ہیں،2024 کے انتخابات کے فوراً بعد پی ٹی آئی کو حکومت سازی کے لئے اپنی حمایت کی پیش کش کی تھی جسے عمران خان نے حقارت سے ٹھکرا دیا تھا ۔کیونکہ عمران خان کا بیانیہ ن لیگ و پی پی دشمنی اور الیکشن 2024کے نتائج پر قائم اتحادی حکومت کو نہ ماننے پر قائم ہے اس لئے کوئی بھی ایسا اقدام جس سے ان کے ان خیالات کی نفی ہو، انہیں قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
اب دیکھتے ہیں بلاول بھٹو زرداری کی ثالثی کا ممکنہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ ویسے تو ثالثی اس لئے کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی مان جائے اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوتا کہ مکمل یکجہتی کے ساتھ اعلامیہ جاری ہو اور ملک دشمنوں کو پیغام جائے کہ پاکستان ان کے لئے ہارڈ سٹیٹ بن گیا ہے ایسا ہونے سے فائدہ کس کو ہوگا؟بلے بلے کس کی ہوگی؟ اتحادی حکومت کی جے جے ہوگی ان کی کامیابی کا تاثر پیدا ہوگا اور پھر یہ بھی تاثر ہوگا کہ پی ٹی آئی نے مبینہ طور پر فارم 47پر کھڑی حکومت کو تسلیم کرلیا ہے۔ پی ٹی آئی ایسا ہرگز نہیں چاہتی۔ وہ ایک حکومت دشمن اور پاکستان دشمن پارٹی کا روپ دھار چکی ہے۔ وہ ہر اس بات کی حمایت کرتی ہے جس سے ملک میں جاری انتشار کو ہوا ملے، انارکی پھیلے۔ عمران خان دھڑلے سے ایسا کچھ کہتے ہیں جس سے انتشار کو ہوا ملتی ہو۔ حکومتی کمزوری کا تاثر پیدا ہو، ریاست کی کمزوری ظاہر ہو، اس لئے بلاول بھٹو زرداری کی خواہشات کتنی ہی نیک کیوں نہ ہوں، ان کا مفاہمتی بیانیہ کتنا ہی دلربا کیوں نہ ہو، ان کی کاوشوں سے کیونکہ سیاسی استحکام اور ملکی مفاد کا حصول ممکن ہو سکتا ہے، سیاسی درجہ حرارت میں کمی ہو سکتی ہے، اس لئے پی ٹی آئی ان کی بات ہرگز ہرگز ماننے والی نہیں ہے۔ اس لئے بلاول بھٹو زرداری کی ثالثی کا انجام اظہر من الشمس ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)