سیاسی احتجاج محفوظ رہنے چاہئیں!

مستونگ کے قریب بی این پی مینگل کے لانگ مارچ    پر خود کش حملہ کی کوشش میں حملہ آور ہلاک ہوگیا البتہ احتجاجی مارچ میں حصہ لینے والے لوگوں یا  سردار اخترمینگل سمیت اس کی قیادت  کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ حکومت نے  لانگ مارچ کی سکیورٹی بڑھانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر احتجاجی جلوس نے کوئٹہ کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تو کارروائی ہوگی۔

مرکز کی طرح بلوچستان میں بھی سیاسی پارٹیوں کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اس خود کش حملہ کی کوشش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضروری تحقیقات کا وعدہ  کیا ہے۔ بلوچستان حکومت  کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا  جائے گا۔ البتہ عوام یا سیاسی قیادت کا ایسے وعدوں پر اعتبار نہیں ہے۔ اس کا مظاہرہ سردار اختر مینگل کی سربراہی میں  ان کے آبائی قصبے وڈھ سے جمعہ 28 مارچ کی صبح شروع ہونے والے لانگ مارچ سے بھی کیا جاسکتا ہے۔  مستونگ  کے قریب خود کش حملہ آور کے دھماکہ  میں   بلوچستان حکومت اور پولیس کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہؤا اور لانگ مارچ کی قیادت سے لے کر اس کے شرکا بالکل محفوظ رہے۔ البتہ اس  واقعہ کے بعد  مستونگ میں  خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے  دھماکے میں چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی اور دعویٰ کیا کہ  لانگ مارچ روکنے کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)  کے 250 کے لگ بھگ  کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ’ہم پر امن احتجاج کررہے ہیں، ہمیں ریاست کے سوا کسی گروپ سے کوئی  خطرہ نہیں ہے‘۔ 

ایک سیاسی لیڈر کی طرف سے یہ ایک سنگین الزام ہے لیکن بدقسمتی سے اگر بلوچستان کے لیڈر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الفاظ  کے چناؤ میں احتیاط کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تو  حکومت یا سرکاری اداروں نے بھی ایسے الزامات پر  رد عمل دینے سے گریز کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس طرح سخت ترین بیان بھی صدا بصحرا ثابت ہوتے ہیں اور سیاسی مسائل پر  گفتگو کے ذریعے انتظامی معاملات طے کرنے کی کوئی کوشش دیکھنے میں نہیں آتی۔  بی این پی مینگل کے لانگ مارچ پر خود  کش حملہ کی کوشش اس حوالے سے نہایت تشویشناک ہے کہ  ایک اعلان شدہ پر امن ریلی  کو پرتشدد طریقے سے روکنے  یا اسے منتشر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔  یہ جاننا اہم ہے کہ ایسی کوشش کرنے والے کون سے عناصر ہوسکتے ہیں؟ یہ تو خیریت ہوئی کہ اس حملہ سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہؤا۔ سکیورٹی فورسز کی مستعدی اور بہادری کی وجہ سے  حملہ آور  پر کسی بڑے  نقصان سے پہلے ہی  قابو پالیا گیا۔ اس واقعہ کی تفصیل صحافی و اینکر حامد میر نے ایکس پر ایک پیغام میں یوں بتائی ہے: ’ کوئٹہ سے تیس کلو میٹر دور لک پاس کے علاقے میں بی این پی مینگل کے جلسے پر خود کش حملے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ مشکوک شخص کی تلاشی لینے کی کوشش کی گئی تو خود کش حملہ آور نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ لیکن وہ گرگیا۔ فرار میں ناکامی کے بعد اس نے بارودی جیکٹ دھماکے سے اڑا دی اور جہنم واصل ہوگیا‘۔

اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ  بی این پی مینگل کے لانگ مارچ  کی حفاظت پر مامور سیکورٹی فورسز اور اہلکار مستعد و چوکنا تھے اور انہوں نے جوں ہی کسی مشکوک شخص کو  لانگ مارچ کے شرکا کی طرف جاتے دیکھا تو اسے روکا اور اس کی تلاشی لینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم خوفزہ حملہ آور خود کش دھماکہ کرکے ہلاک ہوگیا۔  سردار اختر مینگل سمیت پاکستانی عوام کو ایسے مستعد سکیورٹی اہلکاروں کی توصیف کرنی چاہئے اور ان کی جاں بازی و بہادری کی توصیف ہونی چاہئے جو خود اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر دوسروں کی حفاظت  کرتے ہیں۔ یہ جان جوکھوں کا کام ہے ۔ سردار اختر مینگل کو ریاست پاکستان سے سینکڑوں شکائتیں ہوں گی لیکن ان گلوں شکووں میں ان مستعد اہلکاروں کی خدمات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے جو مشکل ترین حالات میں بھی شہریوں کی حفاظت کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔  خود کش حملہ آور کو روک کر اس کی تلاشی کے دوران  اگر وہ شخص بھاگ کر ذرا فاصلے پر جاکر  دھماکہ نہ کرتا تو اس سانحہ میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی جان بھی جاسکتی تھی۔ سردار ختر مینگل کو ریاست سے شکایت کرتے ہوئے ریاست کے ان اہلکاروں کو داد دینی چاہئے تھی جنہوں نے سردار صاحب اور ان کے ساتھیوں کو بچانے کے لیے خود اپنی جان داؤ پر لگائی۔

ہمارے سیاست دان اگر   معاملات کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کا طریقہ اختیار کرلیں تو سیاسی اختلافات کی  وجہ سے پیدا ہونے والی تلخی میں کمی ہوسکتی ہے اور اختلافات دور کرنے کا کام کا آغاز بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر صرف شکائتیں کی جائیں گی اور   حکومت پر نکتہ چینی کو ریاست کی طرف منتقل کرنے کی کوشش ہوگی تو اس سے غلط فہمیاں اور  دوریاں پیدا ہوں گی۔   بلوچستان میں سیاسی بے چینی کئی دہائیوں کا قصہ ہے اور اس کے متعدد پہلو ہیں۔ کسی بھی ذمہ دار لیڈر کو  فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ یہ صوبہ اس وقت کئی ملکی و غیر ملکی عناصر کے نشانے  پر ہے۔  بعض عناصر ہر قسم کی بات چیت سے انکار کرکے صوبے میں دہشت گردی  پر آمادہ ہیں اور سول و عسکری   ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر اسے گھرکی لڑائی کہہ کر ان عسکریت پسندوں کو  ’ظلم سے مایوس‘ ہوجانے والے لوگ کہا جائے تو بھی کسی  کوبھی ہرگز اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ  ریاست سے ناراض ہوکر بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بنا جائے۔  بلوچستان کے  شدت پسند عناصر کی حمایت اور اس جنگ  کو مایوسی اور  محرومی کا شاخسانہ  قرار دینے والے عناصر کو ان لوگوں سے یہ ضرور پوچھنا چاہئے کہ گھر کی لڑائی میں دشمن ملک سے مدد لینا  کس حد تک جائز یا قابل قبول ہوسکتا ہے۔ اسی طرح    جنگجوئی پر آمادہ علیحدگی پسند عناصر اور ان کے ہمدردوں کو یہ جواب بھی دینا چاہئے کہ لسانی بنیاد پر لوگوں کو پہچان کر ہلاک کرنے کا طریقہ کس اصول، انسانی پیمانے یا ملکی یا بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہوسکتا ہے؟

ان بنیادی سوالوں کو نظر انداز کرنے والے سیاست دان یا تحریکیں بلوچستان کی  صورت حال پر سیاست تو کرسکتی ہیں اور اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش بھی کرسکتی ہیں لیکن   ان کے طرز عمل کو بلوچستان اور وہاں کے عوام کے وسیع تر مفاد میں نہیں کہا جائے گا۔ اسی لیے سردار اختر مینگل نے جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی  گرفتار خاتون لیڈروں کی رہائی کے لیے  وڈھ سے لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیاتھا اور کہا تھا کہ یہ ہماری ماؤں بہنوں کی عزت و وقار کا مسئلہ ہے ، ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ تو  ان ہی سطور میں  اسے سیاسی ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے درخواست کی گئی تھی کہ مسائل اور صورت حال کے بارے میں میرٹ پر بات کی جائے۔  آج پھر اختر مینگل نے اعلان کیا ہے کہ  ’ہماری عورتوں کو چھوڑ دو ، ہم واپس چلے جائیں گے‘۔   اختر مینگل جیسے تجربہ کار اور  ذہین سیاست دان  کا یہ بیان  اصل مسائل کو  نظر انداز کرنے کی دانستہ یا غیر دانستہ کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور ان کی ساتھی خواتین دیگر کارکنوں سمیت تشدد اور پولیس پر حملہ کے الزامات میں گرفتار کی گئی ہیں۔  ہوسکتا ہے کہ الزامات غلط ہوں لیکن اگر سیاسی احتجاج کرنے والے کارکنوں کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کی ضرورت محسوس کی گئی تھی تو اختر مینگل،  مہرنگ بلوچ   یاچند دیگر بلوچ خواتین کے علاوہ ان درجنوں مرد کارکنوں کو کیوں بھول جاتے ہیں جو اس تصادم کے نتیجے میں ان کے ساتھ ہی گرفتار ہوئے ہیں۔ اگر ماہرنگ بلوچ کی گرفتاری ناجائز ہے تو ان کارکنوں کی گرفتاری بھی غلط ہے۔ لیکن بی این پی مینگل صرف خاتون کارکنوں کی بات کرکے سیاسی  مغالطہ پیدا کرنے کی افسوسناک کوشش کررہی ہے۔

اس کے باوجود  کسی بھی قسم کا سیاسی احتجاج دیگر سیاسی گروہوں و پارٹیوں کی طرح  بی این پی مینگل اور سردار اختر مینگل کا بھی حق ہے۔  وہ اگر وڈھ سے چند سو لوگوں کا جلوس لے کر اسے لانگ مارچ کا نام دینا چاہتے ہیں تو حکومت کو نہ تو اس کے راستے میں رکاوٹ ڈالنی چاہئے اور نہ ہی غیر ضروری طور سے اس پر پریشانی کا اظہار ہونا چاہئے۔  وڈھ سے  کوئٹہ کا فاصلہ ساڑھے تین سو کلومیٹر سے زائد ہے۔ اس  لانگ  مارچ کی شدت اور اس میں شریک ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ اسی حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ہی دن میں   کوئٹہ  سے چالیس پچاس کلومیٹر دور مستونگ تک پہنچ چکا تھا۔ سردار اختر مینگل نے  ایکس پر متعدد پوسٹوں میں لانگ مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کی شکایت کی ہے۔ بلوچستان حکومت  کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ ایک پر امن جلوس اور اس کے شرکا کو کیوں  ہراساں کیا گیا۔  اسی قسم کے افسوسناک ہتھکنڈے غلط فہمیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔

بلوچستان کے بیشتر مسائل سیاسی ہیں۔ البتہ   بلوچستان کے حقوق کی بات کرنے والے گروہوں یا پارٹیوں  کی طرف سے مسائل پر بات کرنے  کی بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ  کی جاتی ہے۔ یہ طرز عمل درحقیقت عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کا سبب  بنتا ہے۔ بی این  پی مینگل کا لانگ مارچ بھی ایسی ہی  افسوسناک حکمت عملی کا شاخسانہ ہے۔  جعفر ایکسپریس  پر حملہ اور اغوا کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت نے بھی یہی غلطی کی تھی۔ ان ہتھکنڈوں سے حکومت کو  پریشان تو کیا جاسکتا  ہے لیکن ان سے بلوچستان کے عوام کی مشکلیں کیسے کم ہوں گی؟

جعفر ایکسپریس پر حملہ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں مرکزی و صوبائی حکومت کی طرف سے بھی  طاقت استعمال کرنے  ہی کی بات کی جارہی ہے۔ حالانکہ سیاسی بے چینی دور کرنے کے لیے سیاسی عناصر کو انگیج کرنے اور مسائل  کا  ادراک کرکے انہیں حل کرنے کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ احتجاجی سیاسی عناصر  سے  یوں گلہ نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت ابھی تک کسی ناراض بچے کی طرح  دھمکیوں کے ذریعے خوف پھیلانے اور مسائل کو نظر انداز کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو سیاسی مکالمہ کا ماحول پیدا کرنا چاہئے۔ اس کے بعد  ہی احتجاج کی زبان میں بات کرنے والوں کو مسائل اور ان کا حل پیش کرنے پر آمادہ کیا جاسکے گا۔