افغان شہریوں کیلئے جڑواں شہر نو گو ایریا قرار دیا گیا

  • سوموار 31 / مارچ / 2025

افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز  کے ملک چھوڑنے کی حکومتی ڈیڈ لائن آج ختم ہو رہی ہے۔ جڑواں شہروں میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی افغان شہری کو ان کے اہل خانہ سمیت پکڑ کر ملک بدر کریں۔

حکام کی جانب سے تمام افغان شہریوں کو جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد سے باہر منتقل کرنے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔ ذرائع نے ڈان کو بتایا ہے کہ راولپنڈی پولیس چیف نے راول، پوٹھوہار اور صدر ڈویژن کے سپرنٹنڈنٹس کو ضلع میں مقیم یا کام کرنے والے غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے کسی بھی افغان شہری کو حراست میں لیا جائے۔ تاہم حکم میں اجتماعی سزا کی وکالت کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی خاندان کا کوئی رکن کسی جرم میں ملوث پایا جاتا ہے تو پورا خاندان ملک بدر ہوگا۔ راولپنڈی سٹی پولیس آفیسر کے احکامات کے بعد تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں رہنے والے افغان شہریوں اور ان کے اہل خانہ کو حراست میں لیں۔

ایک پولیس عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ’ہمیں ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ اے سی سی کارڈ رکھنے والے تمام افغان شہریوں کو راولپنڈی اور اسلام آباد سے نکال دیا جائے‘۔ اس کے علاوہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ جڑواں شہروں میں مقیم پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغانوں کو متنبہ کیا جائے کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو حکومتی پالیسی کے مطابق پاکستان چھوڑنا پڑے گا۔

پی او آر کارڈ ہولڈرز کے ملک چھوڑنے کی آخری تاریخ 30 جون 2025 ہے۔ تاہم پولیس کے حکم میں اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے کہ آیا دستاویزی پناہ گزینوں کو بے دخل کیا جائے گا یا نہیں۔ پولیس راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں رہائشیوں کی تصدیق کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو کرائے کے مکانوں میں رہ رہے ہیں۔

رواں سال جنوری میں غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے اب تک 923 افغان شہریوں کو حراست میں لے کر گولڑہ موڑ کے قریب پناہ گزینوں کے مرکز میں منتقل کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 26 مارچ تک 923 افغان شہریوں کو کیمپ میں لایا گیا تھا، جن میں سے 715 کو جانچ پڑتال کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ کم از کم 213 افراد کو وطن واپسی کے لیے طورخم بھیجا گیا۔

اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 116 اے سی سی ہولڈرز کے علاوہ، 290 پی او آر کارڈ ہولڈرز اور 21 یو این ایچ سی آر ٹوکن ہولڈرز کو مرکز میں حراست میں لیا گیا تھا، مزید برآں، کم از کم 24 افراد جنہوں نے تیسرے ملک کی بازآبادکاری کے لیے درخواست دی تھی، انہیں بھی مرکز میں لایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس مسئلے کا حل افغانستان، پاکستان اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مضمر ہے۔ یو این ایچ سی آر پاکستان کی نمائندہ فلپ کینڈلر نے عید کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی ہمیشہ کے لیے میزبانی کی ذمہ داری اٹھانے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے ایک جامع نقطہ نظر کی وکالت کی جس سے پاکستان، افغانستان اور خود افغانوں کی فوری اور طویل مدتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔