ریاستی بحران اور سیاسی حکمت عملی
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 31 / مارچ / 2025
پاکستان کا بحران غیر معمولی ہے۔ اس غیرمعمولی صورتحال کا نہ صرف ہمیں گہرائی سے ادراک ہونا چاہئے بلکہ جو بھی حکمت عملی اختیار کی جائے اس میں بھی طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ مصالحت کو بھی ہر صورت برتری حاصل ہونی چاہیے۔
یہ بحران آج کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ اس بحران تک پہنچنے میں ہمیں کئی دہائیاں لگی ہیں۔ اس میں تمام ہی حکومتیں اور فریقین برابر کے حصہ دار ہیں۔ موجودہ حالات پاکستان کے اسٹیک ہولڈرز سے ایک ذمے دار کردار کی توقع رکھتے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم نے اپنے معاملات کی سمت درست نہ کی تو اس سے معاملات اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
طاقت آخری حربے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ اس سے قبل سیاسی راستہ ہی اختیار کرنا ہماری ترجیح ہونا چاہیے۔ تاکہ مفاہمت کا راستہ ہموار ہو ۔ سیاسی راستے کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ واپسی کا راستہ دیتا ہے۔ تمام راستوں کو بند کرنے کے بجائے کھولنے کا سبب بنتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے دو صوبے بلوچستان اور صوبہ خیبر پختون خواہ واقعی دہشت گردی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی سازشوں کا شکار ہیں۔ ان صوبوں کے حالات کی درستی اور وہاں امن کا قائم ہونا لازم ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کئی طرح کے آپریشن کیے اور اس میں سیاسی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ یہاں تک کہ بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان بھی سامنے آیا۔
نیشنل ایکشن پلان میں سیاسی اور عسکری قیادت نے دیگر فریقین کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ بندی کی۔ مگر اس کے نتائج وہ نہیں نکل سکے جو بطور ریاست ہمیں درکار تھے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کسی بھی طرح کے آپریشن وقتی طور پر کچھ بہتر نتائج دیتے ہیں لیکن یہ مستقل حل نہیں ہوتے۔ مستقل حل ریاستی اور حکومتی سطح پر سیاسی بنیادوں پر تلاش کیے جاتے ہیں ۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں سرکاری ملازمین اور انتظامی افسران کو وارننگ دی ہے کہ وہ حالات کو کنٹرول کریں یا گھر چلے جائیں۔ اس سے لگتا ہے کہ سرکاری مشینری میں بھی مسائل ہیں۔
خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کا پہلو نمایاں ہے اور اس میں جہاں داخلی مسائل ہیں وہیں ہمیں علاقائی مسائل بھی درپیش ہیں۔ پچھلے دنوں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف نے گورننس کے معاملات سے جڑے مسائل پر کھل کر بات کی اور ان کے بقول ہمیں اپنا گورننس کا ماڈل تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ حالات کی درستی گورننس کے تناظر میں کیسے ہوگی اور کون کرے گا۔ کیونکہ پاکستان کی مجموعی گورننس پر کئی طرح کے سنجیدہ سوالات ہیں ۔
پاکستان اس وقت انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک بڑے قومی بیانیہ کی تلاش میں ہے۔ وہ بیانیہ جس میں ایک بڑا قومی اتفاق رائے ہر سطح پرنظر آنا چاہیے اور اس اتفاق رائے میں کسی بھی سطح پر کوئی بڑی سیاسی اور مذہبی تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے موجودہ حالات میں سیاسی تقسیم کا پہلو بہت گہرا ہے اور یہ مسئلہ خود ایک بڑے اتفاق رائے کو پیدا کرنے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ کیونکہ ہم قومی اتفاق رائے پیدا کرنے میں سیاسی مسائل حل کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔ سیاسی مسائل کی موجودگی خود ایک بڑے سیاسی بحران کا سبب بن رہی ہے۔
جب یہ کہا جاتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے ہمیں زیادہ بحران کا سامنا ہے اور وہاں جو بیانیہ دہشت گردی کے تناظر میں بنایا جا رہا ہے وہ ریاستی مفاد کے برعکس ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ قومی میڈیا میں بھی بگاڑ ہے۔ اس لیے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے عملاً ہمیں ایک مضبوط میڈیا درکار ہے جو قومی بیانیے کی تشکیل میں ایک مثبت کردار ادا کرسکے۔ اسی طرح ہمیں یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ دہشت گردی کی جنگ سے نمٹنا کسی حکومت یا ادارے کے بس کی بات نہیں۔ اس کا علاج تمام فریقین کی باہمی مشاورت اور باہمی عمل درآمد کے نظام کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم حالات کی نزاکت کا احساس کریں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اگر ہم نے درست حکمت عملیاں اختیار نہ کی تو معاملات ہمارے ہاتھ سے نکل بھی سکتے ہیں۔ اس وقت ہمارا درست سیاسی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہی پاکستان کی ریاست اور عوام کے مفاد میں ہے۔ ہمیں ریاستی نظام میں لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ریاست خود لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نویز)