مارچ کے دوران دہشتگرد حملوں کی تعداد ایک سو سے تجاوز کرگئی

  • جمعرات 03 / اپریل / 2025

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 میں ملک میں تشدد اور سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی آئی۔ نومبر 2014 کے بعد پہلی بار دہشت گردوں کے حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی۔

تھنک ٹینک نے مارچ کے مہینے کے دوران 105 حملوں کی اطلاع دی، جس کے نتیجے میں 228 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری شامل ہیں۔ جب کہ 88 دہشت گرد بھی مارے گئے۔ 258 افراد زخمی ہوئے جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں عام شہری شامل ہیں۔

سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیان بھی تیز کیں جس کے نتیجے میں 83 دہشت گرد ہلاک، 13 سیکیورٹی اہلکار اور 11 عام شہریوں سمیت 107 افراد جاں بحق ہوئے۔ مجموعی طور پر دہشت گردوں کے حملوں اور سیکیورٹی آپریشنز میں 335 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 86 سیکیورٹی اہلکار، 78 عام شہری اور 171 عسکریت پسند شامل ہیں۔

عسکریت پسندی کے ڈیٹا بیس کے مطابق، مارچ 2025 میں اگست 2015 کے بعد سے مجموعی طور پر سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ جنوری 2023 کے بعد سے اسی مہینے میں سیکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی دیکھی گئی، جب 114 اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

جنوری 2023 کے بعد گزشتہ ایک دہائی میں یہ ملک کی سیکیورٹی فورسز کے لیے دوسرا مہلک ترین مہینہ تھا۔ مارچ کے مہینے میں 6 خودکش دھماکے ہوئے جو حالیہ برسوں میں ایک مہینے میں سب سے زیادہ ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں 59 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 15 عام شہری، 11 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ 33 عسکریت پسند بھی جہنم واصل ہوئے، ان واقعات میں 94 افراد زخمی ہوئے جن میں 56 سیکیورٹی اہلکار اور 38 عام شہری شامل تھے۔

ان میں سے 3 خودکش حملے بلوچستان میں، 2 خیبر پختونخوا (کے پی) میں اور ایک سابقہ فاٹا میں ہوا جو اب کے پی کے قبائلی اضلاع کا حصہ ہے۔