جنوبی پنجاب: کبھی خوشی کبھی غم

جنوبی پنجاب ایک ایسا خطہ ہے جس کے وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں۔ جبکہ یہ خطہ حکومت وسیاست کے میدان میں ہمیشہ زرخیز رہا ہے۔ سرائیکی زبان کی مٹھاس کے ساتھ ساتھ یہاں کے آموں کی مٹھاس اور خوشبو بھی کو بکو پھیل جاتی ہے۔

ملتانی سوہن حلوہ اور ملتان کی گرمی کا جلوہ بھی خاصا مشہور ہے۔ سرائیکی وسیب کے مکینوں کو شکوہ ہے کہ ہر حکومت نے ان کو سبز باغ دے کر وعدوں کے لولی پاپ پر ٹرخائے رکھا ہے۔ یہاں کے علمی، ادبی، عوامی اور سیاسی حلقے یہی کہتے نظر آ تے ہیں کہ:
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

جبکہ ارباب اختیار و اقتدار جواب شکوہ میں بس یہی کچھ کہہ دیتے ہیں کہ:
وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پر برس گئیں
دل بے خبر میری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا

الگ سرائیکی صوبے کا مطالبہ بھی اگرچہ گاہے بگاہے سامنے آ تا رہتا ہے مگر جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کا جو ڈول ڈالا گیا تھا اس کا پانی بھی میٹھا نہیں نکلا۔ شنید ہے کہ یہ سیکرٹریٹ بھی بے اختیار ہے۔ لوگوں کے کام اب بھی تخت لاہور میں ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اس خطے کے لوگوں کو کبھی کبھار کوئی خوشخبری سنا کر ٹرک کی بتی کے پیچھے ضرور لگا دیا جاتا ہے۔
ملتان ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخی حیثیت بھی ایک مسلمہ حقیقت کی طرح عیاں ہے۔ اس کے قدیم تاریخی ورثے اور حسن کو قائم رکھنے اور جدیدیت کو شامل کرنے کے لئے اربوں کے فنڈز جاری ہونے کی خبریں تو گرم ہوتی رہتی ہیں لیکن زیادہ تر ترقی کاغذوں میں ہی دکھائی دیتی ہے۔ کھیل کے میدان میں اگرچہ کچھ خوشیاں اس خطے کے نصیب میں آ ئی ہیں۔ میاں چنوں کے ارشد ندیم نے عالمی سطح پر گولڈ میڈل لے کر پاکستان کا نام روشن کیا ہے تو اب ضلع لیہ کے ہونہار کرکٹر حسن نواز تھند نے نیوزی لینڈ کے خلاف تیز رفتار سنچری بنا کر پاکستان کی جیت اور کرکٹ ٹیم کی ساکھ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلکہ تیز رفتار سنچری کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا ہے۔

راتوں رات مشہور ہونے والے کرکٹر راتوں رات غائب بھی ہو جاتے ہیں۔ اس لئے حسن نواز کو غرور و تکبر سے دور رہ کر مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس کارکردگی اور سنچری پر خوشی بنتی ہے تاہم کرکٹ کے پرستاروں کو اس نئے سٹار کے لئے دعاگو بھی رہنا ہوگا کہ شالا نظر نہ لگے۔ ضلع لیہ ایک زرخیز علاقہ ہے جہاں کا لٹریسی ریٹ بھی قابل تحسین ہے اور اس خطے سے تعلق رکھنے والے حکومتی مرکز اسلام آ باد میں خاصے نمایاں ریتے ہیں۔

ہمارے کالم نگار اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار دوست رؤف کلاسرا کا تعلق بھی اسے خطے سے ہے۔ جبکہ مادر علمی زکریا یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے ساتھی بہادر خان سہیڑ نے سیاست و وزارت اور آ صف خان کھتران نے براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں اپنا نام بنایا ہے۔ لیہ سے ہی تعلق رکھنے والے خورشید احمد ملک ریڈیو پاکستان اسلام آ باد میں ڈائریکٹر جنرل کی ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے ہیں۔ اور اب ضلع لودھراں سے ادب دوست سعید احمد شیخ ڈی جی کی حثیت سے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب اسی مردم خیز خطے سے کرکٹ کے میدان میں حسن نواز تھند نے کرکٹ شائقین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ حسن نواز میرٹ پر سامنے آ ئے ہیں اور ایچ بی ایل کے پرانے ساتھی رب نواز تھند کے بیٹے ہیں جن کا خواب اپنے بیٹے کو قومی کرکٹر بنانا تھا۔ اب ان کے خوابوں کو بھی تعبیر ملی ہے۔

حسن نواز کی کارکردگی اگر آ نے والے میچوں میں بھی اسی طرح رہی تو نہ صرف پاکستان کی اوپننگ کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ پاکستانی ٹیم بھی مضبوط ہوگی۔
کرکٹ اور سیاست کا شمار ہمارے ملک کے محبوب مشغلوں میں ہوتا ہے جو اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مقبول ہیں اور جس کے لئے لوگ ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ کرکٹ کو ضلعی سطح پر پرموٹ کرنے کے ساتھ ساتھ میرٹ ہر بھی چلانا ہوگا۔ سفارش کلچر کا خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ عالمی سطح ہر بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ کرکٹ کے ساتھ دیگر کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح بہبود کے لئے حکومت کو بھی توجہ دینا ہوگی۔

گزشتہ دنوں فٹ بال کے میدان میں متعدد طلائی تمغے حاصل کرنے والے ایک کھلاڑی کو کسمپرسی میں جلیبیاں بیچنے کی خبر کے بعد وزیر اعظم کی طرف سے ملاقات کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ ملک کا نام روشن کرنے والوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی حکومت اور اداروں کو دینا چاہیے۔ کہتے ہیں کہ خوشیاں اور غم ساتھ ساتھ چلتے ہیں، اس لئے اس خطے کی محرومیوں کے غم میں کبھی کبھار اس خطے کی ہر دلعزیز شخصیات کی جدائی کا غم بھی شامل ہو جاتا ہے۔ مختصر سے عرصے میں بہت سی نابغہ روزگار ہستیاں داغ مفارقت دے گئیں ہیں۔ ڈاکثر اسلم انصاری جیسی ہمہ جہت شخصیت کے بعد ڈاکٹر اے بی اشرف کی جدائی بھی کچھ کم نہیں ہے۔ احمد بختیار اشرف مادر علمی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ہر دلعزیز چیئرمین رہے جبکہ انقرہ یونیورسٹی ترکی میں آ خری دم
تک درس وتدریس میں مصروف رہے۔ آ پ اعلی پایہ کے نقاد اور ادیب تھے۔ ان کا جسد خاکی ترکی سے ملتان لایا گیا۔ ان کی نماز جنازہ میں ان کے شاگردوں اور اہل قلم کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی سٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر اور اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنما فاروق تسنیم کی رحلت کا غم بھی اس خطے کو جھیلنا پڑا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق ہی آ ر او اور معروف شاعر اصغر عابد کی وفات بھی اس خطے کے علمی وادبی حلقوں کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں۔ ان کی کشمیر کے حوالے سے لکھی گئی شاعری کی کتاب برف دا سیک کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیاہے۔

سو جنوبی پنجاب کے باسی خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات میں بھی امید کے دئیے جلانے رکھتے ہیں کہ اس خطے کی رونقیں قائم ودائم رہیں۔ رفتگان ملتان کی یادوں کے دیپ بھی اس خطے کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔