کیا اکیلا امریکہ پوری دنیا سے تجارتی جنگ جیت سکتا ہے؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے ایک سو ممالک پر ٹیرف  عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دوست دشمن کی پہچان نہیں کی۔ وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام امریکی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف  عائد ہوگا لیکن اس کے بعد مختلف ممالک  کی برآمدات پر تجارتی خسارے کے حساب سے ٹیرف وصول کیا جائے گا۔  وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والی فہرست کے مطابق چین پر 54 فیصد اور پاکستان پر 29 فیصد ٹیکس  عائد کیا جائے گا۔

یورپی یونین کے ممالک پر بیس فیصد اور  انڈیا سمیت  جنوبی ایشیا کے سب ممالک  کی برآمدات پر  نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ امریکی حکومت کی فہرست کے مطابق سری لنکا پر 44 فیصد، بنگلہ دیش پر 32 فیصد اور بھارت پر 26 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے اس اعلان کو امریکہ کا  ’یوم آزادی‘ قرار دیا اور کہا کہ آج تک پوری دنیا امریکہ کی قیمت پر دولت کما رہی تھی لیکن اب امریکہ خود امیر ہوگا۔ اب  ہر اس ملک پر اتنا  ہی محصول عائد کیا جائے گا جو وہ  امریکی مصنوعات پر وصول کرتے ہیں۔  اگرچہ  صدر ٹرمپ کی طرف سے ٹیرف عائد کرنے کا انتظار کیا جارہا تھا لیکن  متاثر ہونے والے ممالک کی تعداد اور  محصول کی شرح نے سب حیران کیا ہے۔  آئی ایم ایف اقتصادی ماہر کین روگوف کے مطابق  ’صدر ٹرمپ نے عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرایا ہے‘۔

صدر ٹرمپ نے  اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے خود  بھی کہا تھا کہ’ اس فیصلہ کے بعد امریکہ بہت تھوڑے وقت میں بالکل مختلف ملک بن جائےگا۔ یہ ایسا اقدام ہے جس کے بارے میں پوری دنیا بات کرے گی‘۔ انہوں نے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کرنے سے پہلے ملک میں اقتصادی ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔ اور اس طرح تجارتی نظام میں تبدیلی کے لیے وسیع اختیارات حاصل کیے تھے۔  متعدد امریکی و عالمی اقتصادی ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ یہ دنیا کے تجارتی نظام کو ہلا دینے والی خبر ہے اور  اس ایک فیصلہ سے امریکہ پہلے جیسا نہیں رہے گا لیکن وہ اس تبدیلی کو ان معنوں میں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں جو ٹرمپ کے خیال میں اس ڈرامائی  اقدام  سے رونما ہونے والی ہے۔  ٹرمپ کا خیال ہے  کہ درآمدات  پر ٹیرف عائد کرنے سے امریکی  حکومت کو کھربوں ڈالر کی آمدنی ہوگی اور اس سرمائے کو ملکی معیشت  کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خواب پورا ہونے کا امکان نہیں ہے۔  امریکہ  نے اگر یہ تجارتی جنگ جاری رکھی اور جلد ہی نئے یک طرفہ محاصل کے سلسلہ میں کوئی مثبت اقدام نہ کیا تو  اس سے رونما ہونے والی معاشی مشکلات کا سامنا صرف ان ممالک ہی کو نہیں کرنا پڑے گا جن پر ٹرمپ نے محصول  عائد کیا ہے بلکہ خود امریکی عوام کو اس کی بھاری قیمت دینا پڑے گی۔ سب سے پہلے تو  ٹیرف لاگو ہوتے ہی تمام دراآمدی اشیا مہنگی ہوجائیں گی  ۔ یہ قیمت امریکی صارفین ہی کو ادا کرنا پڑے گی۔ یہ بعد کی بات ہے کہ   ٹیرف سے وصول ہونے والے وسائل   کب اکٹھے ہوتے  ہیں اور انہیں پیداواری منصوبوں میں لگا کر کب  روزگار کے مواقع دستیاب ہوسکیں گے۔    ماہرین کا خیال ہے کہ نئے ٹیرف  جتنی دیر تک لاگو رہیں گے، امریکہ اور دنیا بھر کی معیشت کساد  بازاری کی طرف بڑھتی رہے گی۔  جیسا کہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اس صورت میں  جوعالمی اقتصادی بحران  پیدا ہوگا، امریکہ خود بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔

یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے  ٹیرف عائد کرنے کااعلان  سامنے آتے ہی امریکہ سمیت دنیابھر کی اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتیں کم ہونے لگیں اور سونے کی قیمت میں اضافہ ہؤا۔ سرمایہ  دار کسی ایسی صنف میں  سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کی دولت محفوظ ہو اور اس پر انہیں منافع بھی مل سکے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یورپی یونین ، چین اور بھارت سمیت دنیا بھر کے ممالک ، امریکہ کی نرم تجارتی پالیسی سے فائدہ اٹھا کر دہائیوں سے دولت کماتے رہے ہیں لیکن اب وہ چاہتے ہیں کہ یہ دولت امریکہ ہی میں رہے۔ یہاں  دنیاکی ہر چیز پیدا ہوسکتی ہے۔ امریکی باشندے جب امریکی مصنوعات خریدیں گے تو  ہماری دولت ہمارے پاس رہے گی اور  غیر ممالک اسے ’لوٹ ‘ نہیں سکیں گے۔   یہ آزاد تجارتی پالیسی کے اصول سے متصادم رویہ ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طریقے سے  فوری بحران تو پیدا کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے کوئی مثبت  یا دیرپا نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔۔ جن امریکی شہریوں کوسہولت دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، ان کے مصارف میں اضافہ ہوگا، بیروزگاری بڑھنے سے قوت خرید کم ہوگی اور کاشتکاروں سمیت امریکی برآمد کنندگان کو بھی  اپنی مصنوعات فروخت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یورپی یونین اور چین نے اپنے اپنے طور پر اعلان کیا  ہے کہ وہ اپنے مفاد ات  اور عوام کی سہولت کے مطابق امریکی صدر  کی طرف سے یک طرفہ ٹیرف  کا جواب دیں گے۔ کسی ملک نے جوابی اقدام کرنے میں  جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا لیکن یورپین کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈائر لیون نے واضح کیا ہے کہ ’یورپین یونین کے ایک ممبر کے خلاف کارروائی سب ممالک کے خلاف اقدام سمجھا جائے گا ۔ ہم اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے مناسب اقدام کریں گے۔ یورپی یونین کا مؤقف رہا ہے کہ بات چیت کا دروازہ کھلا رہنا چاہئے  کیوں کہ محاصل عائد کرنے کی دوڑ  شروع کرنے سے  سب کو نقصان ہوگا‘۔ تاہم اگر صدر ٹرمپ موجود ٹیرف پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹتے تو جوابی اقدام ہوگا جن میں  امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کا اقدام شامل ہے۔  چین نے بھی ایسا ہی اعلان کیا ہے اور بات چیت کے ذریعے اختلاف دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بصورت دیگر چین بھی امریکی ٹیرف پالیسی کا جواب دے گا۔ کنیڈا ، جس پر ٹرمپ پہلے ہی 25 فیصد ٹیرف عائد کرچکے  ہیں،   کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے    کہ  کنیڈا امریکی پالیسی کا مقابلہ کرے گا اور دیگر   ممالک کے ساتھ مل کر متبادل معاشی انتظام کے لیے کام کیا جائے گا۔

عام طور سے محسوس کیا جارہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محاصل عائد کرنے کا اعلان درحقیقت اپنے تجارتی فریقین کے ساتھ نئے معاہدے کرنے  کے لیے کیا  ہے تاکہ  امریکہ  سہولتیں حاصل  کرسکے۔ اس لیے امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یورپی یونین کی حد تک شاید  کسی معاہدے کے لیے میدان ہموار ہوسکے ۔ ٹرمپ انتظامیہ اگر کسی معاہدے پر متفق  نہیں ہوتی تو   ٹیرف عائد کرکے شروع کی گئی  عالمی تجارتی جنگ میں سب ممالک کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ آنے والا وقت دنیا کے ہر ملک کے  شہریوں کے  لیے مشکلات کا باعث ہوگا۔ کوئی یہ قیاس آرائی کرنے پر آمادہ نہیں ہے کہ   کساد بازاری کی کیسی صورت پیدا ہوسکتی ہے تاہم صدر ٹرمپ کے علاوہ  تمام ممالک   اس سے بچنا چاہتے ہیں۔ اگر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی  محض دباؤ کا ہتھکنڈا نہیں ہے تو   امریکی عوام بھی اس غیر روائیتی حکمت عملی کی زد میں آئیں گے۔

ٹیرف پالیسی جاری رہنے کی صورت میں پوری دنیا نئے تجارتی امکانات دیکھے گی اور نئے معاہدے کیے جائیں گے۔  امریکہ اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے لیکن اس کے باوجود وہ پوری دنیا کو کسی مطلق العنان شہنشاہ کی طرح کنٹرول نہیں کرتا۔ ٹرمپ حکومت  دعویٰ کرتی ہے کہ دنیا کے سارے ممالک امریکہ کی ’سادگی و سخاوت‘ سے  فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن ماہرین اس مؤقف سے متفق نہیں ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ آزاد منڈی ہونے کے ناطے بالواسطہ طور سے معاشی فوائد کے علاوہ سیاسی و سفارتی مراعات بھی حاصل کرتا رہا  ہے۔ امریکہ اگر اپنی معیشت  کو بند کرکے نام نہاد ’خود انحصاری‘ کی پالیسی اختیار کرتا ہے تو دنیا میں اس کا  وہ اثر ورسوخ بھی ختم ہوجائے گا جو  اسے اس وقت حاصل ہے۔ چند ہی سالوں میں یورپی یونین ، چین اور دیگر ممالک مل کر ایسے متبادل تجارتی امکانات  پیدا کرسکتے ہیں کہ اس کے بعد امریکہ کی منڈیاں غیر ضروری ہوکر رہ جائیں۔  تاہم اس وقت دنیا بھر میں غیر یقینی کی وجہ سے بحران کی کیفیت ہے اور فی الوقت کوئی بھی یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ دنیا کی معیشت اور تجارتی تعلقات امریکہ کے یک طرفہ فیصلہ کے بعد کیا رخ اختیار کریں گے۔ تاہم  ایک بات واضح ہے کہ امریکہ تن تنہا دنیا کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس سے پہلے  اسے تمام  اقتصادی، سیاسی و سفارتی فیصلے مسلط کرنے کے لیے  یورپی و دیگر مغربی ممالک کا تعاون حاصل ہوتا تھا۔ تاہم اب سب سے بڑی لڑائی  کا اعلان انہی حلیف کے خلاف کیا گیا ہے۔

ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے نتیجے میں امیر ممالک کے برعکس ان غریب ممالک پر زیادہ دوررس اور تکلیف دہ اثر  ہوگا جن کی برآمدات امریکی تجارتی حجم میں بہت معمولی ہیں لیکن   ان ملکوں کے لیے ان کی بہت اہمیت ہے کیوں کہ متعدد صورتوں میں امریکہ ہی سب سے بڑی منڈی رہی ہے۔ پاکستان کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہے۔ ملکی برآمدات کابیس فیصد  یعنی  6 ارب  ڈالر کی مصنوعات امریکہ جاتی ہیں۔  اب ان پر 29 فیصد ٹیرف عائد ہونے سے ان کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور امریکی منڈی میں ان کی قیمت بڑھ جائے گی۔ البتہ ماہرین نے بتایا ہے کہ  ایسا ہی محصول چونکہ دیگر سب ممالک پر بھی عائد کیا گیا ہے، اس لیے  امریکہ کو برآمدات پوری طرح ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ کیوں کہ امریکیوں کو  دوسرے ملکوں سے ویسی ہی مصنوعات  بھی مہنگے داموں  ہی دستیاب ہوں گی۔ تاہم جب کساد بازاری کی وجہ سے لوگوں  میں خریداری کی استطاعت کم ہوگی تو اس سے سب ہی متاثر ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ کے ساتھ پاکستانی تجارت کا حجم ملکی جی ڈی پی کے ایک ڈیڑھ فیصد کے برابر ہے۔ اس لیے قومی معیشت کو فوری طور سے کوئی بڑا دھچکا نہیں لگے گا لیکن   جلد ہی پاکستان کو متبادل منڈیاں تلاش کرنے، ٹیکسٹائل کے علاوہ  برآمد کے قابل دیگر اشیا تیار کرنے اور  علاقائی تعاون کے ذریعے  امریکہ یا دیگر بڑی معاشی طاقتوں کا دباؤ کم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔