آربائیدر پارٹی کنونش میں یوکرین و غزہ جنگ اور امریکی ٹیرف پر تشویش

نارویجن حکومتی پارٹی آربائیدر پارٹی کے قومی کنونشن کا آغاز تین اپریل کو اوسلو میں ہوا۔ تین دن تک جاری رہنے والے اس کنونشن میں شرکت کرتے ہوئے یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس دفعہ کا کنونشن ایک مخصوص فضا میں منعقد ہو رہا ہے۔

 اس میں شریک ہر رکن تشویش کا شکار نظر آرہا تھا۔ پہلی تشویش کا تعلق تو یوکرائن کی جنگ کے سلسلہ میں امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے یورپ کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگ بندی کے اقدامات کا آغاز تھا، جس سے تمام یورپی ممالک بے بسی کا شکار ہیں۔ کیونکہ یورپ امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہونے کی بدولت توقع رکھتا تھا کہ امریکہ کم از کم یوکرائن جیسے یورپی تنازعہ میں یورپ کو ضرور اعتماد میں لے گا۔ یورپی اتحادی امریکی صدر کی جانب سے یوکرائن کے مسئلہ پہ نظرانداز کیے جانے کے زخم ابھی چاٹ ہی رہے تھے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے یورپ سے امریکی درآمدات پر کسٹم نافذ کرکے تشویش میں نیا آضافہ کر دیا۔

پہلے اہل یورپ یوکرائن پر امریکی موقف سے اپنے دفاع کے لیے متفکر ہوئے اور اب یورپ والوں کو باقی دنیا کے ساتھ امریکی صدر کے کسٹم اقدامات سے معیشت کے عدم استحکام کا عارضہ بھی لاحق ہو گیا ہے۔ ان دونوں اقدامات سے دنیا میں پھیلنے والی غیر یقینی کی صورتحال کا اضطراب آربائیدر پارٹی کے قومی کنونشن میں عیاں تھا۔

اس میں شک نہیں کہ روایتی طور پر ہر پارٹی کی سیاست داخلی معاملات کے گرد گھومتی ہے اور اسی پر کسی پارٹی کی مقبولیت کا انحصار بھی ہوتا ہے۔ لیکن آربائیدر پارٹی کی قیادت اور خاص کر وزیراعظم نے واضح الفاظ میں اس بات کو بار بار دہرایا کہ داخلی استحکام، خارجی استحکام کا متقاضی ہے۔ کیونکہ اگر ہمارا خطہ اور بین الااقوامی تجارت عدم استحکام کا شکار ہے تو پھر کسی بھی ملک کے داخلی حالات مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واشگاف الفاظ میں کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے 80 سال بعد دنیا ایک انتہائی مشکل ترین دور میں سے گزر رہی ہے۔ کیونکہ یورپ اتنے طویل عرصہ کے بعد ایک جنگ کا شکار ہی نہیں بلکہ غزہ میں اسرائیل کی بربریت نے بھی دنیا کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت فلسطین عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی ہر صورت میں حمایت جاری رکھے گی اور ساتھ ہی اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ فلسطینیوں کو بھی اپنا وطن حاصل کرنے کا حق ہے، جہاں وہ امن کی زندگی بسر کر سکیں۔ وزیراعظم نے کنونشن کے شرکا کی تالیوں کی گھونج میں کہا کہ فلسطینی عوام کی حمایت کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے ان کی حکومت نے فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کیا تھا۔ تاکہ پورا خطہ امن میں رہ سکے۔ اور ان کی حکومت اس کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

وزیراعظم نے ناروے کے داخلی محاذ پر درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ حالات کیسے بھی ہوں اُن  کی حکومت تعلیم،صحت اور روزگار جیسے مسائل سے کبھی بھی غفلت نہیں برتے گی۔ اور نہ ہی ماحولیاتی پالیسیوں سے پیچھے ہٹے گی۔ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات اُٹھاتی رہے گی۔ کیونکہ ملکی خوشحالی عوام کی خوشحالی سے وابستہ ہے۔ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت کو فکس کرنے کی تجویز کو وزیراعظم نے اپنی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صرف عام شہری ہی مستفید نہیں ہوں گے بلکہ پیداواری سیکٹر کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

آربائیدر پارٹی کی حکومت نے اپنے مستقبل کی راہ متعین کرتے ہوئے سوشل ڈیموکریٹک نظریہ کو برقرا رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے نجکاری کی مخالفت کی اور ہر میدان میں حکومتی کارکردگی کو بہتر کرنے کا عندیہ دیا۔  یہ واضح پیغام دیا کہ سرکاری مشینری کی تجدید کا مطلب نجکاری اور ٹیکسوں میں کٹوتی ہر گز نہیں بلکہ آربائیدر پارٹی قومی فلاح کے لیے مالی وسائل کی دستیابی کو لازم وملزوم سمجھتی ہے۔

آربائیدر پارٹی کے کنونشن میں شرکا کی تقاریر میں یوکرائن کی جنگ کے ساتھ فلسطینی عوام کی حمایت کا بار بار اعادہ کیا گیا اور اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ خاص کر تجارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن اس کنونشن کی ایک خاص متاثر کُن بات یہ تھی کہ وزیراعظم یا پھر وزرا کی جانب سے اپنے مخالفین کے بارے میں نازیبا زبان تو دور کی بات طنز آمیز گفتگو بھی سننے کو نہ ملی۔ صرف مخالف سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں پر ہی لب کشائی سننے کو ملی اور وہ بھی بہت کم۔ تمام قیادت کی توجہ اپنی پالیسیوں کو ہی پیش کرنے پر مرکوز رہی اور یہی شاید نارویجن جمہوریت کی قوت کا راز ہے۔