پیپلز پارٹی پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے احتجاج شروع کرے گی

  • ہفتہ 05 / اپریل / 2025

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ پاکستان تو کیا عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں۔ دنیا کو منایا ہے کہ  دریائے سندھ کو بچانا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی 46ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مشرف کے متنازع یک طرفہ کینالز کے فیصلے ہوں یا عمران خان کے یک طرفہ متنازع فیصلے، پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن یہ جدوجہد کرتے ہوئے بوڑھے ہو گئے کہ ’سندھو پر دریا نامنظور۔‘

انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال سے نسل در نسل ہمیں ایک ہی کام آتا ہے کہ دریاؤں کے ساتھ رہنا ہے اور فصل کاشت کرنا ہے۔ ارسا کی رپورٹ پڑھ لیں کہ وہ پنجاب میں پانی کی قلت کے بارے میں کیا کہتے ہیں، جہاں پنجاب کے کسان کی شکایت ہے کہ پانی کی قلت ہے، جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کو نقصان ہو گا۔ پیپلزپارٹی ہی ملک میں پانی کی منصفانہ تقسیم کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روتو ڈیرو میں صاف پانی کے منصوبے کا افتتاح کرتے وقت پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ یہاں 27 دسمبر کو ہم نے یک طرفہ فیصلے کو رد کیا۔ اس کے بعد جنوری میں سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اعلامیہ جاری ہوا کہ کن وجوہات کی وجہ سے ہم حکومت سے ناراض ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ایک سال ہو گیا، کوئی تو اعتراض ہوگا۔ ہم نے وزارتیں نہیں لیں۔ نیئر بخاری نے سی ای سی کا فیصلہ پڑھا تھا کہ کینالز کے حوالے سے حکومت کے یک طرفہ فیصلے کو پاکستان پیپلزپارٹی سپورٹ نہیں کرتی۔ صدر پاکستان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کہا کہ حکومت کے یک طرفہ فیصلے ہیں۔ جو صوبوں کو اعتراض کے باوجود دریائے سندھ سے نئے کینالز نکالنے کے فیصلے ہیں، بطور صدر پاکستان میں ان کی مخالفت کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر زرداری جو وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ وفاق پر کیسے سودا کر سکتا ہے، یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ پاکستان کے چار صوبے، چار بھائیوں کی طرح ہیں۔ یہ جب مل کر کسی چیز کی کوشش کریں، دنیا کی کوئی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم پاکستان کھپے کا نعرہ لے کر پہلا جلسہ 18 اپریل کو انقلابی شہر حیدرآباد سے شروع کریں گے۔ ہم وفاق کو بچائیں گے، پاکستان کو بچائیں گے، ہر سازش کو ناکام کریں گے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کی جدوجہد کریں گے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ سندھ کے عوام کی آواز سنو، پنجاب کے عوام کی آواز سنو، پانی کی منصفانہ تقسیم ہمارا حق ہے۔ ہم پاکستان کھپے کہنے والے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہر وہ پالیسی جس کی وجہ سے وفاق کو نقصان ہو رہا ہو، وہ واپس لی جائے۔ ہمارا زور ہوگا کہ شہباز شریف صاحب، یہ عوام کا مطالبہ ہے۔ اگر یہ عوام کا مطالبہ ہے کہ نئی نہریں نامنظور ہیں تو پیپلزپارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہو گی، آپ کے ساتھ کھڑی نہیں ہو گی۔