سردار اختر مینگل کو گرفتار کرنے کی دھمکی، بلوچستان بھرمیں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

  • اتوار 06 / اپریل / 2025

بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کوئٹہ کی جانب مارچ کیا تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

ڈان نیوز کے مطابق ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بی این پی کے لانگ مارچ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے صبح 6 بجے اختر مینگل کو ان کی گرفتاری کے ایم پی او آرڈر سے آگاہ کر دیا تھا۔ تاہم سربراہ بی این پی اخترمینگل نے گرفتاری دینے سے انکار کر دیا۔ شاہد رند نے بی این پی کی جانب سے قومی شاہراہوں کی بندش کی کال کو شہریوں کی مشکلات میں اضافہ قرار دیا اور واضح کیا کہ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایات ہیں کہ قومی شاہراہیں بند نہیں ہوں گی۔

یاد رہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے، جس کے تحت بلوچستان بھر میں بیک وقت 4 یا 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے، جلسہ ، جلوس کرنے یا دھرنے دینے پر پابندی عائد ہے۔ بی این پی مینگل کی جانب سے بلوچستان یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی) کی چیئرپرسن ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ سردار اختر مینگل کی سربراہی میں لانگ مارچ کے شرکا وڈھ سے 25 مارچ کو نکلے تھے تاہم وہ مستونگ میں لکپاس کے مقام پر پچھلے ایک ہفتے سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

دوسری طرف بی این پی مینگل کے رہنما ساجد ترین اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کو نہ جانے دینے کے خلاف کل پورے بلوچستان میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سینئر نائب صدر ساجد ترین، آغا حسن بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنماؤں نے بی این پی کے لانگ مارچ کا راستہ روکنے کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا۔

ڈان نیوز کے مطابق کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر نائب صدر بی این پی مینگل ساجد ترین اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ کل پورے بلوچستان میں شٹرڈاؤن ہڑتال ہوگی، دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد مزید احتجاج کا اعلان کل کیا جائے گا۔